لاوارث کشمیر

از قلم روبیہ مریم روبی
لاوارث کشمیر
آزاد اود خود مختار ریاست آزاد جمعوں و کشمیر کا علاقہ 13,300 مربع کلو میٹر (5,135 مربع میل ) پر پھیلا ہوا ہے۔اس کا دارلحکومت مظفر آباد ہے۔یہاں 40 لاکھ افراد بستے ہیں۔آزاد کشمیر کی خاص زبانیں پہاڑی ,گوجری اور پھوٹھوہاری ہیں۔علاوہ ازیں دفتری زبان اردو ہونے کی وجہ سے ایک طبقہ اردو گو بھی ہے جب کہ شرح تعلیم تقریباً 65 فیصد ہے۔آزاد کشمیر میں 10 اضلاع 32 تحصیلیں اور 182 یونین کونسلیں ہیں۔ضلع بھمبر کا سرسبز وشاداب علاقہ میرپور ڈویژن میں آتا ہے۔کشمیر میں صحت تعلیم اور سماجی ترقی کے لیے بھی کام ہو رہا ہے۔یہاں یونیورسٹیاں اور میڈیکل کالجز بھی ہیں۔سکولوں کی کمی نہیں۔دراصل کشمیر پاک و ہند کا شمال مغربی علاقہ ہے۔تاریخی طور پر کشمیر ہمالیہ اور پیر پنجال کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان ہے۔سر زمین کشمیر کو کئی دریا سراب کرتے ہیں۔قدرت نے اس خطے کو ہر قسم کے نظارے بخش دیے ہیں۔سر سبز وشاداب و بلند عالی کہسار ,سبزہ دلکشی یہاں کیا کچھ نہیں۔سب کچھ ہے سوائے امن و امان کے۔خاص طور پر میرپور ڈویژن کے ضلع بھمبر میں امن و سکون مفقود ہوتا جا رہا ہے۔کچھ مہینے پہلے کی بات ہے جب کوٹلہ ارب علی خان میں ایک ٹیچر خاتون کو گھریلو تنازعے پر بے صبرے اور ہٹ دھرم شوہر نے جان سے مار دیا۔رواں سال اگست کے آخری ایام میں ضلع بھمبر یوسی دھندڑ میں دو لرزہ خیز قتل کر دیے جاتے ہیں۔اہل دھندڑ کو نفسیاتی طور پر شدید ہراساں کیا جاتا ہے۔بھمبر سے اسلحے سے لیس گاڑی آتی ہے۔برسالی کے مقام پر دو نوجوانوں کا تعاقب شروع ہوتا ہے۔مغلورہ کا مقام بھمبر سے تقریبا دس گیارہ کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ملزموں نے مغلورہ پل پر قانون کی دھجیاں اڑائیں۔فائرنگ کی۔علاوہ ازیں دھندڑ میں سر بازار دن دیہاڑے عامر اور ناظم نامی شخص کو مار ڈالا۔لوگوں کو نفسیاتی طور پر ہراساں کیا۔یہ لوگ سر بازار اسلحہ لے کر چل کرتے رہے۔گھومتے رہے۔فائرنگ کے دوران سکول کے بچے بھی ان کا نشانہ بن سکتے تھے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان کو کسی نے کیوں نہیں روکا؟کیا آزاد کشمیر میں کھلے عام اسلحے لے کر گھومنے والوں پر کوئی پابندی نہیں؟کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا؟آخر آزاد کشمیر میں امن قائم کرنے کے لیے آواز کاہے نہیں اٹھائی جاتی؟کیا مختلف میڈیا چینلز کے منتخب نمائندگان امن و امان کے لیے آواز نہیں اٹھاتے؟یا ان کی کوئی سنتا نہیں؟کیا ہمیشہ آزاد کشمیر کی پاک اور پاوتر سرزمین کو ایسے ہی گندہ کیا جاتا رہے گا؟اگر مندرجہ بالا مقتول افراد کی کسی سے دشمنی تھی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قاتلوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی بجائے قانون اپنے ہاتھ میں کیوں لیا؟کیا انسیکیورٹی ہو گی؟معاشرے کا امن و سکون برباد کیوں کیا؟کچھ روز کی بات ہے کہ کانگڑہ کے نشیبی گاؤں تحصیل برنالہ ڈسٹرکٹ بھمبر میں مدثر نامی آدمی نے اپنی روٹھی ہوئی بیوی کے مائیکے جا کر بیوی اور ساس کو گولیاں مار مار کر جان سے مار دیا ۔ایسے جاہلوں کے پاس اسلحہ ہی کیوں ہے؟جن میں صبر اور برداشت کا مادہ رتی برابر نہیں ۔کسی کی بیٹی اور ماں کیا اتنی سستی چیز ہے؟جب جس کا دل چاہا گولی مار دی؟آج پاکستان میں بھی عدالتوں میں قتل کے کیسز بڑھتے جا رہے ہیں اس کا اثر نفسیاتی طور پر ہر شخص لے رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ لوگ قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔علاوہ ازیں آزاد کشمیر کا امن و سکون برباد کرنے والے ملک دشمن عناصر کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔سیاسی و سماجی شخصیت سمیع چوہدری پر قاتلانہ حملہ اور تاریخوں پر تاریخیں کس طرف اشارہ کر رہی ہیں؟ایکسیڈنٹس کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ایوان بالا کو چاہیے کہ آزاد کشمیر کا امن وامان بحال کرنے میں مثبت کردار ادا کریں کیوں کہ نفسیاتی ٹارچر کرنے والے واقعات کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔شہری قانون کی عزت اور پاسدرای کیوں نہیں کر پا رہے؟ایسا کب تک ہوتا رہے گا؟کشمیری آزاد ہونے کے بعد بھی کب تک جہالت زدہ غلامی کی زنجیروں میں جھکڑے رہیں گے؟کبھی کبھی آزاد کشمیر مقبوضہ کشمیر کا نقشہ پیش کر رہا ہوتا ہے آخر کیوں؟ظالموں جابروں اور جھوٹی انا کے سرابوں میں پڑے کم عقلوں کو کب تک کھلے عام اور آوارہ گھومتے رہنے پر گرفت نہیں کی جائے گی؟ایسا تو آزادی سے پہلے ہوتا تھا۔
اب تو ہے آزاد یہ دنیا میں پھر کیوں آزاد نہیں
نااہلوں کو اسلحہ کہاں سے اور کیوں مل جاتا ہے؟
بلاشبہ آزاد کشمیر میں امن و امان بحال کرنے کے لیے پاکستانی حکومت کو ہی مثبت قدم اٹھانا چاہیے کیوں کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کے زیر انتظام بھی ہے۔

45,354 total views, 1,012 views today

3 Responses to لاوارث کشمیر

  1. […] sex pills cialis […]

  2. […] canadian pharmacy cialis […]

  3. […] viagra para hombres […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *