اللہ سے دوری کی وجہ کیا ہے؟

آج کل کے دور میں ہر انسان اپنی زندگی میں مصروف ہے.کام ہو یا نہ ہو کسی کو یاد کرنے کا وقت بھی میسر نہیں.جیسے جیسے ہم اپنی زندگی میں مگن ہو رہے ہیں ہم اپنے رشتے داروں اور عزیزواقارب سے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں.اتنا تو سنا تھا “کہ دنیا کی زندگی عارضی اور وقتی ہے”. پر اس بات کا اندازہ بھی ہوا کہ دنیا کی ہر چیز ہی عارضی ہےپھر وہ رشتے ہوں یا چیزیں یا کوئی لمحات حتی کہ ہر چیز.
اسی لیے اللہ پاک قرآن میں فرماتے ہیں کہ
“اور پھر دنیا کی زندگی دھوکے کہ سوا کچھ نہیں”
لیکن آج کل کا انسان اس بات کو بلکل بھول چکا ہےیہی وجہ ہے کہ اس کے پاس اپنے رب کو یاد کرنے تک کا وقت نہیں دنیا کی زندگی میں اس قدر مگن ہے کہ اس کے پاس عبادت کا وقت بھی نہیں .وہ رب جو اپنے بندے سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے جس نے اپنے بندے کو ہر شے عطا کر رکھی ہے لیکن انسان تو ہے ہی ناشکرا اور نافرمان.
اللہ سے دوری کی وجہ بھی یہی ہے کہ:
فضول کاموں میں مگن رہنا
وقت کی پابندی نہ کرنا
موبائل اور انٹرنیٹ کا ضرورت سے زیادہ استعمال
دنیاوی کاموں میں مصروف رہنا
خواہشات نفسانی کو ترجیح دینا
بچوں کی تربیت میں کوتاہی
اللہ کی عبادت نہ کرنے والوں کے لیے سخت عذاب کی وعید سنائی گئ ہے.صرف باتوں سے ہی یا سوچ لینے سے ہی کہ ہم اللہ کی عبادت کریں گے بلکہ اس کہ لیے عمل ضروری ہے.
بقول شاعر:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری
اللہ جسے چاہے اسے اپنے لیے چن لیتا ہے.اور جسے ہدایت نہ دینا چاہے اسے نہیں دیتا.
انسان کو چاہیے کہ اللہ کی عبادت اور اس کے ذکر کے لیے وقت نکالے.
اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا ہےکہ
“بےشک دلوں کا سکون اللہ کی یاد میں ہے”
اللہ پاک ہم سب کو عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے.
آمین
یا رب العالمین…
شانزہ

19,606 total views, 469 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *