موجودہ نظام تعلیم

علم کوئی عام شے نہیں بلکہ یہ تو وہ چیز ہے کہ جس کی موجودگی میں کوئی بات پنہاں نہیں رہتی اور کوئی راز پوشیدہ نہیں رہتا۔ علم کی وجہ سے انسان میں شعور بیدار ہوتا ہے۔ علم کا مقصد انسان کو سنوارنا ہوتا ہے۔ موجودہ نظام تعلیم جہاں تک انسان کو سنوار رہا ہے وہاں ہی اس نظام تعلیم سے بہت سے لوگ اکتا چکے ہیں۔
کسی بھی قوم کا نظام تعلیم اس کے نظریات اور عقائد کی عکاسی کرتا ہے۔ نظام تعلیم اقوام کی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ہم اس کی طرف توجہ نہیں دیں گے تو یقیناً ہماری قوم ذلت اور پستی کی گہرائیوں میں ڈوب جائے گی قوموں کی ترقی کا انحصار نظام تعلیم اور نصاب تعلیم پر ہوتا ہے۔ہمارے ہاں تو نظام ہی بگڑا ہوا ہے۔ جو قومیں اپنےہیروز کو بھول جاتی ہیں وہ کبھی ترقی نہیں کرتی۔
بقول شاعر
‘شکایت ہے مجھے یا رب خداوندان مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو
دے رہے ہیں خاکبازی کا’
کسی بھی ملک کا نظام تعلیم اس میں بسنے والی قوم کے رسم و رواج نظریات و عقائد رہن سہن کی عکاسی کرتا ہے۔ مگر افسوس کے ہمارے ہاں ابھی تک لارڈ میکالے کا نظام رائج ہے۔ اس نظام کا مقصد مسلمانوں کو انگریزوں کا مطیع کرنا ہے۔ انگریزوں کو برتر ثابت کرنا ہے۔ اپنے اقتدار رسم و رواج عقائد کو چھوڑ کر ہم انگریزوں کو پیروکار بنا رہے ہیں کیوں؟
اس کا اظہار لاڈمیکالے نے خود اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے۔
” اس نظام کا مقصد ایسے مسلمان پیدا کرنا ہے جو اپنی رنگ و نسل کے اعتبار سے تو مسلمان ہوں مگر ذہنی طور پر وہ انگریز ہوں”
دراصل تعلیم کا مقصد اپنی قوم کا شعور بیدار کرنا ہے نہ کہ انھیں انگریزوں کا فرمانبردار بنانا ہے۔ انگریز تو ہمیشہ سے یہی چاہتے ہی کہ مسلمان اپنی روایات کو بھلا دیں۔ اپنے آباؤ اجداد کے کارناموں کو بھول جائیں۔ جو قومیں اپنے عروج و زوال کی تاریخ کو فراموش کر دیں انہوں نے کیا آگے بڑھنا ہے ذہنی طور پر ہم آج بھی انگریزوں کے غلام ہیں ۔
اساتذہ تعلیم کے فروغ میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں حکومتی اداروں میں زیادہ تر اساتذہ بس اپنا وقت گزارنے آتے ہیں۔ انہیں بس اپنی تنخواہ چاہیے۔ دیہاتوں میں میں زیادہ تر اساتذہ بچوں کو پڑھانے کے بجائے ان سے اپنے ذاتی کام کروانا شروع کر دیتے ہیں۔ تعلیم دینے کے بجائے انہیں کاموں میں لگا دیتے ہیں۔
جن سے بچوں کا جی پڑھائی سے اکتا جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس پیشے میں اب ایسے لوگ آگئے ہیں۔ جن کی پڑھانے کی صلاحیت بالکل نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب ایک استاد کو پڑھانے کے لئے چنا جاتا ہے تو اس کی ڈگریوں کے علاوہ اس میں موجود صلاحیتوں کو بھی پرکھنا چاہیے۔ ہمارے ہاں یہ رواج عام ہے کہ بس اسے ہی نوکری دی جائے گی جس کے گریڈ اچھے ہیں۔بھلے ہی اس کی کمیونیکیشن صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہو۔
اگر ہم موجودہ نظام تعلیم میں نصاب کی بات کریں تو ہمارے ہاں انگلش لٹریچر میں مسٹر چیپس پڑھایا جاتا ہے۔ کیوں نہ مسٹر چیپس کی جگہ عبدالستار ایدھی’ ڈاکٹرعبدالقدیرخان اور ڈاکٹرعبدالسلام جیسی شخصیات کو نصاب میں شامل کریں۔
ہمارے پاس تربیت کا سب سے بڑا منبع سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے دکھ تو اس بات کا ہے۔کہ ہمارے نصاب میں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ ہونے کے برابر ہے ہمارے اسکولوں میں ہزاروں ٹیچرز ایسے ہیں جنہوں نے خود کبھی سیرت کا مطالعہ نہیں کیا ہوتا ہے۔
استاد جتنا اچھا موٹیویٹر ہوگا وہ اپنی بات کو زیادہ بہتر طریقے سے اپنے طلبا کو سمجھا کر سکے گا ہمارے ہاں یہ ہے کہ ڈرائیور کو گاڑی چلانی آتی ہے۔ مچھرے کو تیرنا آتا ہے۔ کلرک کو اپنی سیٹ پر بیٹھ کر اپنا کام کرنا آتا ہے۔ لیکن ایک استاد کو اپنے طالب علم سے بات کرنا نہیں آتا۔
بقول شاعر
“زردار ہی ہیں کونپلیں کوئی سحاب
سوچ آئندہ نسل کے لیے تازہ نصاب سوچ”
موجودہ نظام تعلیم کو بہتر کیا جا سکتا ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ جو لوگ اس کام کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔وہ سچی لگن سے کریں۔
انیس سو اناسی میں مائیکل ہارٹ نے “دی ہنڈرڈ” نامی کتاب لکھی۔وہ اس کتاب میں کہتا ہے کہ انسانی تاریخ میں دنیا کے افکار پر اگر کسی شخصیت کا سب سے زیادہ اثر پڑا ہے تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ ہے۔ آپ نے لوگوں کی ایسی تعلیم و تربیت کی کہ وہ لوگ عام انسان سے صحابی کے درجے پر فائز ہو گئے۔ایک ایسا شخص جو کلاس میں بچوں کو رٹا لگواتا ہے۔ اور اس رٹے کی بدولت بچوں کو امتحان پاس کرا دیتا ہے۔ لیکن ان کا کردار نہیں بنا پاتا۔ ایسی تعلیم دینے والا استاد استاد نہیں ہے۔ وہ صرف معاوضے کے عوض اپنی اجرت پوری کرنے والا شخص ہے۔ جو استاد بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت بھی کرتاہے۔وہ بچوں کے دلوں میں جگہ بنا لیتاہے۔ حکومت کو چاہیے کہ تعلیم کو پہلے اپنی ترجیحات میں شامل کرے ایک بورڈ بنائے جو ٹیلنٹ تلاش کر سکیں۔ جو اساتذہ کو تلاش کرے۔ اس کے علاوہ نصاب میں اپنے ہیروز کو شامل کیا جائے۔کیونکہ انسانی نفسیات یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے ان سے انسپائر ہوتا ہے جن سے اس کی شناسائی ہوتی ہے ۔جب یہ سب ہو گا پھر انقلاب بھی آ ئے گاتبدیلی بھی آئے گی اور قوم بھی بنے گی ۔
بقول اقبال
” نہیں ہے نہ امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی”
جویریہ اقبال

19,523 total views, 420 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *