“ادبی شخصیت اور سماجی کارکن در صدف ایمان” ( میزبان .رابعہ فاطمہ)

آج ہمارے ساتھ ایک ایسا نام ہے جو ادبی افق پر نمودار ہوا چاہتا ہے، جن کی شخصیت حساسیت سے پر جن کی گفتگو میں اصلاحی انداز جھلکتا ہے اور جن کا قلم صرفچاٹھتا ہی اس لیے ہے تاکہ معاشرے کے حساس مسائل کی نشاندہی کرسکے اور نا صرف نشاندہی بلکہ اس کا حل بھی تجویز پیش کرسکے، ہمارے ساتھ موجود ہیں سماجی کارکن ، ایک بہترین رائٹر عالمہ در صدف ایمان صاحبہ۔
“السلام علیکم و رحمة الله و برکاتہ جی! در صدف ایمان صاحبہ کیسی ہیں آپ؟”
“وعلیکم السلام و رحمة الله و برکاتہ الحمد للہ! اللہ کا کرم ہے۔”
“لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کا یہ منفرد سا نام کس نے رکھا؟”
“میرا نام “در صدف” میری والدہ نے رکھا تھا، “ایمان” نام مجھے ذاتی طور پر پسند تھا اور جب میں نے باقاعدہ لکھنے کا آغاز کیا تو اپنے نام کے ساتھ اسے جوڑ دیا۔ منفرد ہونے کی وجہ سے یہی مشہور ہوگیا اور اب لوگ مجھے “در صدف ایمان” کے نام سے جانتے ہیں۔ الحمد للہ۔”
آپ کا تعلق کس شہر سے اور تعلیم کہاں سے حاصل کی؟
“میں کراچی شہر میں ۱۵ اگست کو پیدا ہوئی، سال مخفی رکھوں گی۔ میں درس نظامی مکمل کیا ہے لیکن میرے نزدیک یہ صرف ایک کورس ہی ہے مجھے نہیں لگتا میرے اندر کوئی عالمہ والی خصوصیات ہیں البتہ میں اس وقت کراچی یونیورسٹی سے ایم فل کر رہی ہوں۔”
آپ ایسا کیوں سمجھتی کہ آپ میں عالمہ والی خصوصیات نہیں؟ جبکہ آپ کا شمار بہترین عالمات میں کیا جاتا ہے۔
“میں یہ بات اس تناظر میں کرتی ہوں کہ میں لوگو کے گمان سے زیادہ خود کو بہتر جانتی ہوں.”
آپ کے دیگر مشاغل کیا ہیں؟ کن مصروفیات میں خود کو مصروف رکھنا زیادہ پسند کرتی ہیں۔
“مشاغل یہی لکھنا اور سماجی امور کو انجام دینا ہیں البتہ سماجی کاموں کی طرف زیادہ رجحان ہے۔”

لکھنے کا آغاز کا کب سے کیا؟
“جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، میں نے لکھنے کی ابتداء تب کی جب میں چھٹی یا ساتویں جماعت کی طالب علم تھی، اس وقت میں نے ایک تقریر لکھی تھی جس پر میری ٹیچر جو تقریری مقابلے کی منتظمہ بھی تھیں انہوں نے مجھے بہت سراہا تھا اور میری تقریر میٹرک کی ایک طالبہ کو دی تھی ، یہ تقریر مین نے خود اپنے طور پر لکھی تھی، پھر اسکول میں باقاعدہ مجھ سے تقاریر لکھوائی جانے لگیں۔اس وقت بھی مجھے اپنی اس صلاحیت کا اندازہ نہیں تھا۔ بہر حال بعد مین لکھنے کے شوق نے مجھے شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا اور آج جو لوگ مجھے جانتے ہیں وہ بطور مصنفہ ہی جانتے ہیں۔”

آپ کے نزدیک ادب کو کیسے فروغ دیا جائے جبکہ معاشرہ زوال پذیری کا شکار ہے؟
“پہلے تو میرا سوال ہی یہ ہے کہ معاشرہ زوال پذیر ہو ہی کیوں رہا ہے ؟ دوسرا یہ کہ ادب سے پہلے پہلے ہمیں اپنی قومی زبان کو فروغ دینا ہوگا۔ ہم لوگ احساس کم تری میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں سمجھتے ہیں کہ انگریزی کے بغیر ہم تعلیم یافتہ ہی نہیں ہیں یعنی ہم بچوں کو انگریزی سکھانے پر زور دیتے ہیں۔میں دوسروں کو نہیں کہہ میرے اپنے گھر کا بھی یہی حال ہے۔ہم شروع سے ہی بچوں کے ذہنوں میں انگریزی کی اہمیت و افادیت کو بٹھا دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ قومی زبان سے دور ہوجاتا ہے اسی لیے اردو زبان کو فروغ ملے گا تو اردو ادب کو بھی فروغ ملے ۔”

آپ کے خیال میں تنقید کرنا کیسا ہے اور کیا تنقید میں اصلاحی پہلو بھی مضمر ہے؟ اس کا طریقہ کار کیا ہوگا۔
“تنقید اگر برائے اصلاح ہو تو یہ فائدے مند ہے اور وہ اس طرح کہ جب تک تنقید نہیں ہوگی آپ کو کسی چیز کی اچھائی یا برائی کا پتا نہیں چلے گا یعنی آپ یہی سمجھتے رہیب گے کہ میرا لکھا کامل ہے اور اس میں کوئی خامی نہیں ہے تو اس سے آپ میں بہتری نہیں آئے گی، لیکن یہ ضرور کہوں گی کہ تنقید برائے اصلاح ہو نہ کہ تنقید برائے تنقیص ہو کیوں کہ اس پہلو میں ذاتی عناد شامل ہوتا ہے، جبکہ تنقید برائے اصلاح کے پہلو میں خیرخواہی مضمر ہے۔ تنقید کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ تنقید ایسے کرے کہ سامنے والے کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور نہ ہی اپنی برتری ظاہر کرنا مقصود ہو بلکہ اس طرح تنقید ہو کہ آپ کے ہر لفظ اور انداز سے خیرخواہی چھلک رہی ہو۔”

دنیائے ادب میں کن شخصیات نے آپ کو متاثر کیا؟
“میں کسی خاص فرد واحد سے متاثر نہیں ہوں البتہ مختلف اقتباسات نے ضرور متاثر کیا اور وہ مختلف ادبی شخصیات سے منسوب ہیں اس لیے کسی ایک کا نام لینا دوسرے کے ساتھ نا انصافی ہوگی اور جو بات بھی مجھے متاثر کرتی ہے میں اسے اپنی زندگی مین ضرور شامل کرتی ہوں۔”

آپ نے جتنے بھی معاشرتی مضامین تحریر کیے ہیں کیا آپ ان سے مطمئن ہیں احساس تشنگی باقی ہے؟
“میں اپنی لکھی ہوئی ہر تحریر سے مطمئن ہوں اور اس تناطر میں کہ میں نے ایسا کچھ نہین لکھا جو ملک و قوم کے لیے نقصان کا باعث بنے ۔ رہی بات تشنگی کی تو تشنگی اس لحاظ سے ہے کہ میرے لکھنے میں کمی آگئی ہے اور میں لکھنے کا حق ادا نہیں کر پارہی ہوں کبھی مجھے لگتا ہے میرے لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے لیکن یہ شاید انسانی فطرت ہے کہ انسان ایک ہی موڈ میں نہیں رہتا اور میں موڈ کے بغیر نہیں لکھ سکتی۔ بہر حال تشنگی اپنی تحریر کو بہتر سے بہتر بنانے کی ہے۔”

آپ کی تحریریں اب تک ملک کے کن کن اخبارت کی زینت بن چکی ہیں؟

“میری تحریریں پاکستان کے تقریبا 34 سے 37 اخبارات میں شائع ہوچکی ہیں جن میں روزنامہ جنگ، ایکسپریس ، روزنامہ اوصاف اور دیگر بڑے اخبارات شامل ہیں اس کے علاوہ سنڈے میگزین اور جسارت میں بھی میری تحریریں شائع ہوئیں، بین الاقوامی سطح پر بھی میری تحریریں شائع ہوئیں جن میں انڈیا کے میگزین اور کینیا کی آن لائن ویب سائٹ شامل ہے اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر باقاعدگی سے لکھتی ہوں اور بعض دفعہ ایسا ہوا ہے کہ لوگ میری تحریریں میرے نام سے شائع کروا کر بھیج دیتے ہیں۔”

ملکی سیاست میں دلچسپی رکھتی ہیں ؟ “(ملکی سیاست سے عدم دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا) مجھے سیاست اور سیاسی لوگوں سے چڑ ہوتی ہے لیکن اگر آپ کی ضرورت ہے پاکستان کو اور آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اس منصب کے اہل ہین تو ضرور سیاست میں شامل ہوں کیوں کہ اگر اہلیت کے حاملین بھی سیاست سے عدم دلچسپی کا اظہار کرین گے تو ملک کی باگ ڈور نا اہل حکمرانون کے ہاتھ میں آجائے گی ، جس کا نقصان پاکستان کو ہوگا۔”
ادب کے فروغ کے لیے کوئی تجویز دیں ؟
“ادب کو پہلے ہمارے معاشرے میں ادب تو سمجھا جائے یہاں ادب کو ادب نہیں سمجھا جاتا بہر حال میرا یہ خیال ہے کہ آج کل ہر دوسرا شخص لکھارئ بنا بیٹھا ہے ہر دوسرا بندہ شاعری کر رہا ہے۔ میں ایک وقت میں خود کو شاعر سمجھتی تھی تو یہ اتنا آسان نہیں جتنا ہم نے سمجھ لیا ہے ، ہر چیز کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے، کچھ اصول ہوتے ہیں جنہیں سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر بندہ ہر چیز میں پرفیکٹ نہیں ہوتا تو بہتر یہی ہے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔”
آپ کی کوئی ایسی تحریر جو آپ کو اس حد تک پسند ہو کہ محبت کا احساس ہوتا ہو؟
“جیسے ماں کو اپنا ہر بچہ اچھا لگتا ہے تو ایک لکھاری کو بھی اپنی ہر تحریر اچھی لگتی ہے، مجھے محبت وحبت والا معاملہ تو نہیں لگتا پر مجھے اپنی ہر تحریر پسند ہے۔”

آپ کی پہلی کتاب جو حال ہی میں شائع ہوئی سرمگیں سکون اس کے حوالے سے کچھ بتائیے؟
“سر مگیں سکوں دراصل مجموعہ مضامین ہے جو میں نے مختلف اوقات میں لکھا اور جو اس میں مقدمہ میں نے لکھا وہ مجھے بے حد پسند ہے کبھی کبھی میں اسے پڑھ کر ایسا محسوس کرتی ہوں جیسے یہ کسی اور نے لکھا ہے۔سرمگین سکوں نام مجھے بے حد پسند تھا تو اسی وجہ سے میں نے اپنی پہلی کتاب کو اسی نام سے موسوم کیا۔اس کی اشاعت کا ارداہ کافی عرصے سے رکھتی تھی لیکن ذاتی مصروفیات کی وجہ سے اشاعتی کام میں تاخیر ہوتی رہی ، اب الحمد للہ شائع ہوگئی۔”

آپ کی جب پہلی کتاب شائع ہوئی تو کیسا محسوس کیا؟
“مجھے پہلے لگتا تھا مجھے خوشی نہین ہوھی لیکن جب شائع ہوئی تو واقعی خوشی کا احساس ہوا ، اچھے احساسات تھے جو بیان سے باہر ہیں۔”

آپ کی دوسری کتاب منظر عام پر آئے گی؟
“دوسری کتاب بھی جلد منطر عام پر آئے گی ، کوشش یہی ہے دو سے تین ماہ میں آجائے۔”

اگر آپ کو اپنی شخصیت کو ایک لفظ میں لکھنے کا کہا جاۓ تو ؟
“لوگوں کے تناظر میں اگر کہا جائے تو مغرور اور میری نظر سے۔۔۔( سوچتے ہوئے) شعلہ اور شبنم۔۔۔ ( ازراہ تفنن)”

کوئی ایسی نصیحت جس کو آپ نے یاد رکھا ہو اور اس پر عمل کرنے کو خود پر لازم کر لیا ہو؟
“ایسی بہت سی نصیحتیں ہیں جن میں میرے والدین ، دوست احباب کی نصیحتیں شامل ہیں، جن کی وجہ سے میں کامیابی کی منازل طے کر رہی ہوں۔”

آپ بحیثیت سماجی کارکن معاشرے کو کس طرح دیکھتی ہیں؟
“میں سمجھتی ہوں ہم سب کو تربیت کی ضرورت ہے اور باشعور ہونے کی ضرورت ہے ہمارے معاشرے کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنا اپنا ہی سوچتے ہیں، اپنے کام کی واہ واہ چاہتے ہیں لیکن در حقیقت کوئی کام نہیں ہورہا ہوتا اگر ہم واقعی خود کو سماجی کارکن کہتے ہین تو ہمارا کام بھی سماج کے لیے ہونا چاہیے۔”

آپ کا ادارہ الایمان فاؤنڈیشن کو لے کر کیا کیا خواب ہیں؟

“ایمان فاؤنڈیشن ایک ایسا خواب ہے جو بہت سالوں پرانا ہے اس آغاز الایمان اکیڈمی کے نام سے ہوا تھا جو بڑھتے بڑھتے اب ایمان فاؤنڈیشن بن چکا ہے جس میں اب الایمان اکیڈمی ایک شعبہ بنا دیا گیا اس کے علاوہ دیگر شعبہ جات بھی تشکیل دیے جائیں گے اور یہ خواب نہیں بلکہ میرا مقصد ہے کیوں کہ خواب تو ٹوٹ جایا کرتے ہیں ۔ بس اس کی تکمیل کے لیے آپ سب کی دعائیں اور نیک تمنائیں چاہیے۔”

جی ضرور! در صدف ایمان صاحبہ میری اور آپ کے قارئین جو آپ سے محبت کرتے ہیں کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ اللہ کریم آپ کو مزید کامیابیوں سے نوازے معاشرے کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرتی رہیں اور آپ کے تمام مقاصد کو اللہ کریم پورا فرمائے آمین ۔۔
السلام علیکم ورحمة الله و برکاتہ۔

69 total views, 6 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *