مغرب کو توہین رسالت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کیسے روکا جائے؟

یہ شاید اللّٰہ کی بارگاہ میں قبولیت کا عشر عشیر ہو گا ہم دنیا پرستوں کی نظر میں کہ جو ہمارے وزیر اعظم صاحب نے مغرب کے نمائندوں سے توہین رسالت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کرنے پر پابندی لگانے کا کہا ہے. خان صاحب نے یہ بات بھی ٹویٹ کرکے کی ہے. سوال یہ ہے کہ مغرب ممالک کے سفراء کو بلا کر یہ بات ان سے نہیں کی جا سکتی تھی، ان کو لکھ کر سخت الفاظ میں بھی کہا جا سکتا تھا. ہم ایسے اقدامات کیوں نہیں لے سکتے. فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا یا اس کا سفارت خانہ بند کرنا اس مسلے کا حل نہیں ہے. الٹا پاکستان کے اندر مختلف تنظیموں پر پابندی لگا دی جاتی ہے. دنیا میں ہم مسلمانوں کی حالت دنیا اتنی گر چکی ہے کہ ہم ہر کام میں دوسروں کے محتاج ہیں ہو گئے ہیں. اس کی کیا وجہ ہے، دین اسلام سے دوری. بنیادی وجہ علامہ اقبال نے سو سال پہلے بتائی..

وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

یقیناً اس وقت بھی مسلمانوں کی حالت ایسی ہی تھی. تب ہی آزادی سے پہلے ہم پر کبھی اطالوی، کبھی پرتگیزی تو کبھی فرانسیسی اور پھر انگریز حکومت کر رہی تھے. آہس کی چپقلش، حکومت کرنے کی لالچ نے ہمیں اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی طرف سے آنکھیں بند کرنے ہر مجبور کر دیا تھا. اندر کے غداروں کی ریشہ دوانیوں نے بیرونی لوگوں کو ہم پر مسلط کر دیا تھا. یہ حالت اس وقت ہندوستان کی تھی اور آج ساری دنیا کے مسلمانوں کی ہے. ہم غیر مسلموں کے کاسہ لیس بنے ہوئے ہیں. جب ہم نے ان کے آگے ہاتھ پھیلا لیا ہے تو ہم یہ جرأت کہاں سے لائیں گے جو اپنی زبان سے ان گستاخوں کو وارننگ ہی دے سکیں چہ جائیکہ ان کے منہ بند کریں.
کسی ملک کا سفارت خانہ بند کرنا یا ان کے سفیر کو ملک بدر کرنا مسلے کا حل نہیں ہے. اگر اس سفیر کو ہم نکال بھی دیتے ہیں تو نیا سفیر تو آنا ہی ہے. پھر کیا ہو گا. ہم مسلمان بزعم خود عاشق رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم بنے پھرتے ہیں. نعروں پر نعرے لگاتے ہیں. لیکن مساجد میں صفیں پوری نہیں کر پاتے. دعویٰ عشق محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اور سارے کام ان کی سنتوں اور تعلیمات کے خلاف کرتے ہیں. غیر مسلم ممالک کو سبق سکھانا ہے تو سیدھا سا حل ہے. سب سے پہلے اپنے آپ کو سدھار لو. پھر درآمد شدہ اشیاء کا استعمال بند کرو. فرانس سے دنیا بھر میں بشمول مسلم ممالک پرفیوم برآمد کیے جاتے ہیں. ہم ان کے متبادل عطر کیوں استعمال نہیں کر سکتے؟ فرانس سے جتنی بھی مصنوعات پاکستان آتی ہیں، ہمیں ساری معلومات انٹرنیٹ سے، کسٹمز سے اور دیگر مختلف ذرائع سے مل سکتی ہیں. ہم ان مصنوعات کا بائیکاٹ کیوں نہیں کرتے. کیا ان کے بغیر رہ نہیں سکتے. عشق مصطفٰی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیا اتنا ہی کمزور ہے. ایک طرف آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی احادیث سوشل میڈیا کے ہر فورم ہر شیئر کی جاتی ہیں اور اپنی محبت کا اظہار کیا جاتا ہے اور دوسرے لمحے اسی سوشل میڈیا پر ہر وہ چیز وہی بندہ شیئر کرتا ہے یا لکھتا ہے جس سے اللّٰہ نے اور اللّٰہ کے پاک رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے. کہاں گیا آپ کا عشق؟
یوں تو اسلامی ممالک کی تنظیم بس نشستند گدتند برخاستند کی شاندار مثال ہے. لیکن اس فورم سے سب مسلمان ممالک ان غیر مسلم ممالک پر دباؤ ڈال سکتے ہیں کہ آزادیٔ رائے کے اظہار کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اٹھ کر صرف اسلام اور رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خلاف بات کرنا شروع کر دیں. صرف بات ہی نہیں، لغویات کہنا شروع کر دیں. اس سے اگرچہ اللّٰہ تعالٰی اور ان کے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات کو بالکل بھی فرق نہیں پڑتا لیکن مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں. وہ کچھ بھی نہ کریں لیکن عشق رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں اپنی جان قربان کرنے کے لیے یا گستاخ کی جان لینے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں. تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں. مسلمان ممالک نے جس دن امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس، ناروے، آسٹریلیا اور دیگر غیر مسلم ممالک پر انحصار کرنا چھوڑ دیا. تجارت کا رخ آپس میں موڑ دیا، میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اس دن سے ان ممالک پر زوال آنا شروع ہو جائے گا اور مسلمان ایک بار عروج کی جانب سفر شروع کریں گے. یہ بھی حق بات ہے جو احادیث میں درج ہے کہ قیامت جب آئے گی تو اس وقت دنیا میں اللّٰہ کا نام لیوا کوئی نہ ہو گا. لیکن تب تک تو مسلمان عروج کی زندگی جی تو سکتے ہیں. کون سی نعمت ہے جو مسلمان ممالک میں موجود نہیں ہے. ذہانت کی انتہا سے بھرے دماغ ان ممالک میں موجود ہیں. بات صرف ان کے اذہان کو استعمال کرنے کی ہے. لیکن یہ دماغ امریکہ اور یورپ کی ترقی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں.
مسلمانوں کے پلیٹ فارم سے دیگر اقوام کو یہ دھمکی اب جانی ہی چاہیے کہ تم لوگ اسرائیل کے ہولو کاسٹ پر تو بات کرتے ڈرتے ہو. دنیا کے کسی بھی اور مذہب یا اس کے بانی کے خلاف کبھی ایک لفظ تک نہیں کہا. تمہاری زبان چلتی بھی ہے، غلیظ الفاظ نکلتے بھی ہیں تو دین اسلام کے خلاف، آقائے نامدار صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خلاف. اگر ہم اس بات جے جلاف آواز اٹھائیں اور متعلقہ مجرم کو سزا دینے کا مطالبہ کریں تو کہتے ہو یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے. اگر وہ تمھارا اندرونی معاملہ ہے تو رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت نہ کرنا ہمارا مذہبی ہی نہیں بلکہ مکمل طور پر شرعی معاملہ ہے.
مسلمان ممالک ان گستاخ ممالک ہر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنے قوانین میں ترمیم کریں. مذہب کوئی بھی ہو ہمارے لیے قابل احترام ہے. کہ ہمارے پیارے آقا صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمیں کسی بھی مذہب کی توہین یا اس کے خلاف بات کرنے سے منع فرمایا ہے. اس لیے ان ممالک کو چاہیے کہ وہ اس طرح کے قوانین وضع کریں جو آزادئ رائے کو ایک دائرے میں محدود کریں جس کی بنا پر نہ ان ممالک کے مسلمان ممالک کے ساتھ تعلقات متأثر ہوں اور نہ ہی مسلمانوں میں بے چینی پھیلے. حکومت سے یہی گزارش ہے کہ فرانس سے بھلے تعلقات نہ ختم کریں لیکن ان کو مختلف ذرائع سے اس طرح کی گستاخیاں کرنے سے مستقل طور پر روکا تو جا سکتا ہے. اور ہم پاکستانی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے ان کو زک پہنچا سکتے ہیں. بس سوال یہ ہے بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟
تحریر.ابن نیاز

1,531 total views, 77 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *