انٹرویو نمرہ ملک

السلام علیکم میں ہوں ساجدہ چوہدری
آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن تنظیم کی جانب سے ملک کی نامور شخصیات کا انٹرویو لینے کےلیے اپنے دلچسپ سوالات لیےحاضر ہوں انٹرویو کےلیے میرے ساتھ موجود ہیں. تلہ گنگ چکوال سے تعلق رکھنے والی ادبی دنیا کی بہت پیاری شخصیت انتہائی قابل محترمہ نمرہ ملک
السلام علیکم کیسی ہیں آپ؟
وعلیکم السلام
بہت شکریہ آپ نے اپنا قیمتی وقت نکالا.
محبت… آپکی اور اپوا کی کہ میرے ساتھ گفتگو کےلیے فورم پہ بلایا

“اپنے بارے میں کچھ بتائیے
(کب اور کہاں پیدا ہوئیں تعلیم مشاغل قریبی دوست وغیرہ وغیرہ )
میرا نام نمرہ ملک ہے، 23 جون کو پاکستان میں پیدا ہونے کا شرف حاصل ہوا، تلہ گنگ میرا آبائی علاقہ ہے اور مجھے اپنے علاقے سے بچے کا ماں کے جیسا عشق ہے..
میں نے بی ایڈ، ایم اے اردو،، ماس کمیونکیشنز کیا ہے، مجھے چھ زبانوں میں لکھنے کا اعزاز حاصل ہے..میں اپنے گاؤں کی پہلی میٹرک پاس لڑکی ہوں جس نے خاندان، برادری سے بغاوت کر کے اور چھپ چھپ کے پڑھا اور الحمدللہ آج میرے بعد لڑکیاں ہر فیلڈ میں آرہی ہیں.
میں بنیادی طور پہ لکھاری ہوں، لوگ مجھے اک صحافی کی حثیت سے زیادہ جانتے ہیں، اس کی بڑی وجہ میرا بے باک انداز سخن ہے. میں ضلع چکوال کی پہلی خاتون صحافی ہوں ،اور پنڈی ڈویژن کی پہلی خاتون عہدے دار ہوں جس نے کسی پریس کلب میں عہدہ لیا ہو. میں تحصیل پریس کلب تلہ گنگ کی سنئر وائس چیئرپرسن ہوں، اس سے پہلے نائب صدر بھی رہ چکی ہوں.
میں کالم نگار، ناول نگار اور شاعرہ بھی ہوں، کمپیر اور اینکر پرسن بھی ہوں. پریس فورم میڈیا گروپ چکوال کی تلہ گنگ ایڈمن ہوںقومی اخبارات سے منسلک ہوں، اس کے علاوہ معروف انٹرنیشنل میگزین “روابط” کی چکوال سے بیوروچیف ہوں .
پڑھنا لکھنا، چہروں کی کھوج سے اندر کی کہانیوں کو سامنے لانا، اچھی کتب اور اچھے اہل قلم سے دوستی، رنگوں سے کھیلنا میرے مشاغل ہیں،اس کے ساتھ ساتھ میں نے کئی سال پڑھایا بھی ہے اسلامیہ کالج سے ساڑھے تین سال میں تین بار بیسٹ ٹیچر ایوارڈ جیتا. سیاحت کا شوق ہے، ککنگ کبھی بہت پسند تھی اب وقت نہیں ملتا،
بہترین دوست اللہ ہے اس کے بعد میرے والد محترم.جبکہ. بڑے بھائی حاجی خلیل میرے پسندیدہ استادوں میں سے ایک ہیں، بہن بھائیوں سے خاص طور پہ چھوٹے بھائی شفیق سےبہت محبت ہےبقول شخصے ہم اک دوسرے کے اندر سانس لیتے ہیں . باجی آمنہ، صوفیہ، ڈاکٹر صائمہ، عمران سرور،سردار امتیاز خان میرے بابا، طارق ملک ریاض انجم، یعقوب اعوان اور ان جیسے کئی لوگ دوستی میں میرا سرمایہ ہیں. ہمیشہ اچھے دوست ملے اور میں ان کی محبتوں کی ہمیشہ سے مقروض ہوں. روابط انٹرنیشنل میگزین کے چیف ایڈیٹر سردار امتیاز خان میرے وہ استاد ہیں جنہوں نے ترقی کے ہر موڑ پہ، ادب کے ہر زینے پہ میری رہنمائی کی. میری کامیاب ادبی زندگی میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے.
: لکھنے کی ابتدا کب اور کس عمر سے کی اور سب سے پہلی تحریر کونسی لکھی ؟
میں نے بچپن سے لکھنا شروع کیا، اخبار جہاں میں بچوں کی کہانی چھپی تھی. “.میں شہزادی ہوں “کالم نگاری کا آغاز “متقارب” تلہ گنگ سے کیا.پہلا افسانہ “کونسے دکھ کی کریں بات” تھا. الحمدللہ مجھے تمام قومی اخبارات اور جرائد میں لکھنے کا اعزاز حاصل ہے. میرے کالم “حقوق نسواں بل” کو ریکارڈ چالیس سے زائد پیپرز اور میگزین میں چھپنے کا اعزاز بھی حاصل ہے
آپ بتائیں فطرتاً کیسی انسان ہیں موڈی یا خوشگوار سی ؟
بہت موڈی ہوں، لیکن کسی بھی موڈ کو زہن پہ سوار نہیں کرتی، وقت اور موقع کے حساب سے ڈھل جاتی ہوں. مجھے محبت سے کبھی بھی مارا جا سکتا ہے بشرطیکہ کہ دھوکا نہ ہو.

: کس طرح کے لوگ آپ کو متاثر کرتے ہیں اور کس طرح کے لوگوں سے نفرت محسوس ہوتی ہے ؟
مجھے محبت کرنے والے بے ریا، اللہ کی خاطر تعلق رکھنے والے لوگ پسند ہیں. بے ایمان، عورت کی عزت نہ کرنے والے اور جھوٹے لوگوں سے بالکل نہیں بنتی. نفرت میں کسی سے نہیں کر پاتی یہ پروگرام قدرت نے مجھ میں فیڈ ہی نہیں کیا.

آپ کے خیال میں تنقید کرنا ضروری ہوتا ادب میں کسی کی اصلاح کےلیے؟؟اور تنقید کرتے وقت کس چیز کا ہونا ضروری ہے ؟؟

جی بالکل تنقید ہونی چاہیے. اچھی اور مثبت تنقید کسی بھی لکھاری کے لیے مشعل راہ کا کام کرتی ہے. لیکن تنقید برائے تنقید غلط ہے. تنقید برائے اصلاح ہونی چاہیے. تنقید ہمیشہ اچھے کام پہ ہی ہوتی ہے. اس کے لیے ادب سے بالخصوص مخلص ہونا ضروری ہے.

ادبی دنیا میں کن شخصیات سے آپ متاثر ہیں ؟

بانو قدسیہ، احمد ندیم قاسمی، خلیل الرحمٰن قمر، اوریا مقبول جان، مستنصر حسین تارڑسے بے حد متاثر ہوں. جاوید چوہدری میرے استادوں میں شمارہوتے ہیں
آج تک جو لکھا اپنے لکھے سے مطمئن ہیں یا کوئی تشنگی کوئی کمی محسوس ہوتی ہے ؟
دیکھیے… کوئی بھی فیلڈ ہو، فنکار کبھی اپنے فن سے مطمئن نہیں ہوتا. وہ ماسٹر پیس کی تگ و دو کرتا رہتا ہے. البتہ بعض تخلیقات ایسی ہوتی ہیں جن کے بارے یقین ہی نہیں آتا کہ یہ ہم نے لکھا ہے. الحمدللہ میں نے جب بھی لکھا، حق لکھا، حق پہ بولی اور حق پہ آواز اٹھائی اس لیے میں فنکار ہو کر بھی اپنی ہر تخلیق پہ مطمئن ہوں.

اپنی تخلیقات ہمارے قارئین کے ساتھ بھی ۔شئیر کیجئیے آپنی کسی فیورٹ تحریر کا نام یا اپنی شاعری؟
میرا پہلا ناول “کتاب زیست” تھا. اس کے بعد لا تعداد افسانے، افسانے لکھے، لیکن میرے کالمز زیادہ مشہور ہوئے، میں “دریچہ” کے عنوان سے لکھتی ہوں. “شاہ سائیں” کو میرے پڑھنے والوں نے شاہکار ناول قرار دیا ہے اور زیر تکمیل “من محرم کہ رب محرم” ناول میں سمجھتی میرا ماسٹر پیس ہو سکتا ہے..
میں نے اردو، عربی، فارسی، انگلش اور پنجابی میں شاعری کی مثال قائم کی. اردو غزل میں “آؤ خواب خواب کھیلیں”
پنجابی کا مجموعہ” مہنڈی روح دے یوسف بولیں نہ”
فارسی میں “بہ نوک خار می رقصم”
انگلش میں aah! My dreams!!
عربی میں “مرحبا یا سیدی”
کا مجموعہ ہے
اس کے علاوہ میں نے ملائی، پشتو، رشئین اور کئی دوسری زبانوں کو بھی شاعری کا حصہ بنایا جو اک ریکارڈ ہے.

آپ کو کیا لگتا ہے انٹرنیٹ کا استعمال دور جدید کی ضرورت ہے یا معاشرے پر اسکے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ؟
کوئی بھی چیز بری نہیں ہے، اگر اس کا استعمال غلط نہ کیا جائے. انٹرنیٹ سے ہم مہینوں کا کام منٹوں میں کر لیتے ہیں، سالوں کی دوری پہ بیٹھے احباب سے لائیو بات چیت کرتے ہیں، لوگ پبلسٹی کے لیے انٹرنیٹ کا سہارا لیتے، پہلے جو بات سینہ بہ سینہ پھیلتی تھی، اب اک کلک پہ فارورڈ ہو جاتی ہےتو یہ اس کے فائدے ہیں
لیکن یہ ہم پہ ڈیپینڈ کرتا ہے کہ ہم اس کو نیگیٹو استعمال میں نہ لائیں. فحاشی، عریانی اور بے حیائی سے خود بچیں.

آپ کو آپ کی اپنی کسی تحریر سے محبت ہوئی ؟
ماں کو تو اپنی ساری اولاد ہی پیاری ہوتی ہے نا… اس لیے مجھے اپنی ہر تحریر سے پیار ہے البتہ وہ کالمز، وہ نیوز جو میں نے اپنے علاقے میں روزانہ کی بنیاد پہ ہونے والے حادثات کی وجہ سے لکھے، سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف تک سڑک کا مطالبہ پیش کیا اور الحمد للہ منوایا بھی. میں سمجھتی ہوں کہ میری نجات کا باعث یہ تحریریں ہونگی. اور ہر وہ لفظ جو میں نے باوجود مخالفت کے حق پہ اٹھایا…

اگر آپ کو اپنی شخصیت کو ایک لفظ میں لکھنے کا کہا جاۓ تو ؟
باغی…. روایات سے باغی، فرسودہ رسموں کی باغی، مردانہ معاشرے کے بے جا ظلم کی باغی، جاہل عوام کی لکیری فقیری سے باغی….. وغیرہ وغیرہ

اپنے ساتھی لکھاریوں میں سے آپ کس کو پسند کرتی ہیں ؟

لبنی غزل آپا، طیبہ عنصر آپا، سارے سنئرز میرے پسندیدہ ہیں. نایاب جیلانی، ستارہ آمین کومل، اور میرا شیرو فلک زاہد… اور سب اچھا لکھتے ہیں. سچی بات ہے ہر شخص کا اپنا محاز ہوتا ہے جس پہ وہ ڈٹا ہوتا ہے. محترم اظہار الحق، سعید اختر ملک، ایم ایم علی کے کالمز دل کو لگتے ہیں، عمران سرور کا دبنگ اور باغی انداز محبوب ہے کیونکہ میں بھی ایسی ہی باغی ہوں بس ہمارا سٹائل مختلف ہے. .

کسی انسان کی ایسی نصیحت جو آپ نے اپنے پلو سے باندھ لی ہو اور جو آپ کے کام بھی آئی ہو … ؟؟؟
میرے استاد محترم، بہت پیارے بھائی طارق ملک نے کہا تھا جو بھی ہو جائے، قلم کا ساتھ مت چھوڑنا… بانو قدسیہ ماں جی نے کہا تھا میری بچی حق کا ساتھ مت چھوڑنا.. اور میرے بیسٹ فرینڈ میرے والد محترم کہتے ہیں بی پاکستانی… تو پاکستان سے محبت کبھی مت چھوڑنا.. تو یہ سب میں نے کبھی نہیں چھوڑا.

آپ کیا سمجھتی ہیں موجودہ دور میں عورت کا معاشی طور پر مضبوط ہونا کتنا ضروری ہے ؟
اس دور میں وہی عورت کامیاب ہے جس کے قدم معیشت کی سرزمین پہ جمے ہیں. اب تو لوگ پڑھی لکھی کماو بہو کی ڈیمانڈ رکھتے ہیں. عورت اگر فنانشلی مضبوط ہوگی تو اس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات بھی کسی میں نہیں ہوگی.

جو لوگ لکھنا چاہتے ہیں مگر آگے بڑھنے میں بے حد دشواریوں کا سامنا ہے انہیں کیا کہنا چاہیں گی ؟؟؟

لکھنے کے لیے پڑھنا بے حد ضروری ہے. دشواریاں وقتی ہوتی ہیں. لیکن ارادہ مضبوط ہو تو کوئی مشکل نہیں رہتی. اپنی تحریر، تخلیق کو اک قاری کی حثیت سے ضرور پڑھیے تو بہت ساری خامیاں خود ہی دور ہو جائیں گی. اعتماد سے رستہ بنائیے. جو کام کوئی نہ کر سکے وہاں اعتماد کام کرتا ہے. گھبراییے نہیں. اپنے مقصد کے لیے مسائل سے لڑنا پڑتا ہے. اک گول زہن میں رکھ لیں اور پھر آگے بڑھیے

اپوا تنظیم کے لیے کچھ کہیں گے؟؟؟
یہ تنظیم اک خوبصورت گلدستہ ہے جس میں بالخصوص نئے لکھاریوں کے لیے حوصلہ افزائی اک بہترین قدم ہے. یہ لکھاریوں کی نمائندہ تنظیم ہے. یہ پاکستان کی واحد تنظیم ہے جو لکھاریوں کو ان کے ہونے کا مکمل احساس دلاتی ہے. اپوا کی محبتوں کی میں بھی مقروض ہوں کہ سال 2020 کی بہترین لکھاری کا ایوارڈ مجھے معروف لکھاری خلیل الرحمٰن قمر نے اسی پلیٹ فارم سے دیا ہے.
لوگ نشانی کے طور پر اپنے پیچھے کچھ نا کچھ تو ورثے میں چھوڑتے ہیں آپ کیا چھوڑ کر جائیں گی ؟؟؟

یادیں، قلم اور قلم کے کارنامے!!!
ساجدہ چوہدری. ..بہت شکریہ
اللہ پاک آپکوکامیابیاں نصیب فرمائے …..اللہ حافظ

2,228 total views, 9 views today

7 Responses to انٹرویو نمرہ ملک

  1. رباب وسیم says:

    بہت اچھا لگتا ہے ،جب کوئی خاتون اس قدر ترقی کرے، ہمیشہ کامیاب رہیں۔

  2. سعید اختر ملک says:

    بہت زبردست ۔۔ماشااللہ نمرہ ملک نے اہنے آپ کو بزور قلم منوایا۔۔ اس کے اندر تخلیق کا بے کنار سمندر ہے ۔ کامیابیوں کے لیے ڈھیر ساری نیک خواہشات اور دعائیں

  3. Rabia Shaheen says:

    ماشاءاللہ بہت خوب اللہ پاک آپ کو مزید کامیابیوں سے ہمکنار کرے آمین ثم آمین یارب العالمین ❤️

  4. Shariq Aziz Miyan Awan says:

    ماشاءاللہ بہت خوب۔ آپ کا انٹرویو پڑھ کر یقین جانیں روح خوش ہو گئی۔ یہ جان جر بہت خوشی ہوئی کہ آپ تلہ گنگ، چکوال سے ہیں۔ ماشاءاللہ۔۔۔ اللہ پاک آپ کے علم و عمل میں اضافہ فرمائے۔ آمین ثم آمین

  5. Hafsa Faryal says:

    نہایت ہی خوبصورت انٹرویو ۔۔۔ پڑھ کر بہہت خوشی ہوٸی ماشاءاللہ

  6. Ibn e Niaz says:

    السلامُ علیکم..
    پلیز ترتیب درست کر دیں.. جوابات اکٹھے ایک جگہ پر ہیں اور سوالات آخر میں..

  7. ریحانہ اعجاز says:

    بہت عمدہ انٹرویو ۔ ڈئیر نمرہ بہت اچھا لگا اس پلیٹ فارم پر آپ سے ملنا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *