“اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے “

فائزہ تسنیم
نغمے کے ساتھ ساتھ ایموشنل کر دینے والا ڈرامہ شروع ہوا ۔
ادھر ماں بہنیں فوجی بھائی کی دلہن سجا سنوار کر باہر اسٹیج پر لا کر بٹھا رہی تھیں اور ادھر دلہا بننے والی لڑکی ناراض ہو کر بیٹھی تھی ۔دس دن سے اس ڈرامے کی اتنی تیاری کروائی گئی تھی کہ ہنگامی بنیادوں پر اسٹیج پر لانے کو کوئی دوسرا کیپٹن فوجی اور دلہا تیار ہی نہیں کیا تھا اور نہ اس وقت کوئی تیار تھی لڑکی لڑکا بننے کو ۔
ادھر نغمہ ختم ہونے کو تھا اور انہوں نے نغمہ ختم ہوتے ہی اپنا ڈرامہ بھی سمیٹنا تھا ۔
مجھے اس بارے کچھ نہیں پتہ چلا نہ میں نے اس بارے کسی سے پوچھا کہ آخر اس دلہے فوجی کو کیسے منایا گیا تھا؟؟؟
سنا تھا اس کی اصلی ماں بھی وہاں موجود تھی اور وه اس لڑکے نما لڑکی کی نقلی ماں دیکھ کر بڑی غیض و غضب میں آ گئی تھی ۔
ویسے بھی انہوں نے ہمارے ڈرامے کی ہی نقل کی تھی ان کے پاس ڈرامہ رائٹر تو کوئی تھا نہیں ۔ہماری کلاس میں تو سبھی ڈرامے باز اور ڈرامہ رائٹر ہی تھیں ۔۔۔اس لیے ہماری نقل کر کے ہی انہوں نے چھے ستمبر کا ڈرامہ کرنا تھا ۔
ادھر ہمارا ڈرامہ جو دس دن سے شروع تھا ایک بار پھر شروع ہو چکا تھا ۔
ہم تین سہیلیاں روز لڑائی کر کے ناراض ہو کر بیٹھ جاتیں تھیں کہ فوج کا کیپٹن میں نے بننا ہے ۔
اس وقت بھی فرحین اور انیسہ کی لڑائی ہو چکی تھی۔ اور بقلم خود کیپٹن بننے کو تیار تھی ۔کیوں کہ وه دنوں تو منہ پھولا کر بیٹھ گئی تھیں اور ہمارے پاس ہنگامی صورت حال سے نپٹنے کو کیپٹن اور فوجی موجود تھے ۔
جب ان دونوں نے دیکھا ہم دنوں تو بیٹھ گیں ناراض ہو کر اور تیسری بازی لے جائے گی تو بس خود ہی منہ اٹھا کر آ گیں اور فرحین نے مجھے چک کے اپنے سے پیچھے پھینک دیا ۔
پہلا ڈرامہ احتتام پذیر ہو چکا تھا ہمارا نام اناونس ہو چکا تھا ۔
“فرحین اور اس کے ساتھی آپ کے سامنے جوش جذبے کی ایسی داستان دھرائیں گیں جو 1965 کے ان گمنام فوجیوں کو سامنے لائیں گے جن سے ہم ناواقف ہیں ۔آپ اپنے دلوں کو تھام لیں ضرور آپ کی آنکھیں نم اور دل دکھ سے بھر جائیں گے ۔
کیسے بچوں کے سامنے ان کے باپوں کے پرچم میں لپٹے تابوت لائے گئے تھے ۔
لا رہیں ہیں تشریف سال دوم کی طالبات ”
فرحین کی بیٹی میرے چاچو کی بیٹی بنی تھی جس کے دانت اپنی کزن کی طرح کبھی بند ہی نہیں ہوئے تھے ۔
ادھر نغمہ گونجنے لگا ۔
“اے راہ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں ”
ادھر ایک طرف سے ہندو اور سکھ فوجی سامنے آئے ادھر ہماری باوردی فوج سامنے آئی ۔
ہماری فوج میں بہت جوش اور جذبہ تھا کیوں کہ ہماری کیپٹن فرحین جو تھی ۔
ہم سب آمنے سامنے تھے ۔
نغمہ گونج رہا تھا ہم میدان جنگ میں موجود تھیں ہمارا دشمن بھی سامنے تھا ۔میری تو ہنسی نکل گئی جب سکھ فوجنوں (لڑکیاں جو تھیں ) پر نظر پڑی کیوں کہ ان کے چہروں پر ہماری طاقت ور فوج اور طاقت ور قیادت دیکھ کر پہلے ہی ڈر اور خوف کے سائے منڈلا رہے تھے ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا ۔
ادھر ہمارے کیپٹن نے بنا ہمیں بتائے اکیلے ہی دشمن پر حملہ کر دیا ہمارے ہاتھوں میں پانی والے پستول پکڑے ہوئے تھے ۔
اور اس سے تو نہ” ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ” کی آواز آنی تھی اور نہ ہی کوئی دشمن مرنے والا تھا ۔ادھر ہمارا کیپٹن جوش اور جذبے سے سرشار تھا ۔
اسی لیے پہلے تو پانی والا پستول ایسے سامنے کیا جیسے اصلی پستول پکڑا ہوا ہو ۔اور منہ سے ہی “ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ ” کرنے لگی مگر اس ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ سے بھی کوئی فوجی نہ گرا تو اس نے لاتیں گھونسے مارنا شروع کر دیئے ۔
طے تو یہ پایا تھا ہماری فوج میں سے کچھ ہی فوجی زندہ بچیں گے اور ہمارا کیپٹن بہادری اور جرات کا مظاہرہ کرتا ہوا اپنی جان وطن پر قربان کر دے گا ۔
مگر یہاں معاملہ ہی الٹ گیا ۔
ہمارا کیپٹن لاتیں گھما گھما کر مار رہا تھا دشمن کو اور منہ سے ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ کئے جا رہا تھا ۔
ہم اپنے پانی والے پستول رکھ کر اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کے چکر میں تھے ۔ایک تو فوجی وردی پہن رکھی تھی اب ہمارے پاس تو دوپٹہ بھی نہیں تھا کہ چہرے چھپا کر ہنسا جائے ۔سبھی فوجنیں اپنے منہ چھپا کر ہنسنے کے چکر میں تھیں ۔
ادھر دشمن کی فوج جو پہلے ہی بدحواس تھیں ۔ہماری کیپٹن کی لاتوں گھونسوں سے زمین پر گرے جا رہی تھیں ۔ ایک بیچاری تو بدحواسی میں پیچھے پیچھے ہوتے اسٹیج سے اتر کر ٹیچرز کی کرسیوں تک پہنچ گئی اور جب گری تو سر جا کر کرسی پر لگا اور وه تو سچ میں زخمی ہو گئی ۔
پورے گراونڈ میں ہنسی کا طوفان آ گیا ۔
اب ہم فوجیوں نے فرحین کو یاد دلایا کہ “بہن تم نے مرنا ہے اور یہاں تم نے دشمن کو تو مار دیا اب تجھے کون مارے گا ۔اگر کہو تو ہم دنوں ہی تمہاراکام تمام کر دیں ۔دشمن کے فوجیوں میں تو اتنا دم نہیں کہ تمہیں گرا سکے ۔”
ہم نے سکون کا سانس لیا جب ایک دشمن کا فوجی کہیں سے چھپا چھپایا نکلا اور اس نے ہمارے کیپٹن کو گولی مار دی ۔فرحین کے گولی لگنے کی خوشی اتنی ان دشمنوں کو نہیں ہوئی ہونی جتنی ہمیں تھی ۔
فرحین کے گرنے کا بھی اپنا اسٹائل تھا گولی لگی ہوئی اور بھاگ رہی ہم نے زبردستی فرحین کو گرایا اور گھسیٹ کر کمرے میں لے گیں۔ اور وہاں سے فرحین کا تابوت جو گم تھا ڈھونڈ ڈھانڈ کر لا کر اسٹیج پر رکھا اور زخمی پڑے دشمنوں کو بھی سہارے دے کر کمرے میں لے گیں ۔
آج جب ہر طرف” اے راہ حق کر شہیدوں
اور اے پتر ہٹاں تے نہیں بکدے ”
سنے تو مجھے یہ واقعہ یاد آ گیا ۔

74,481 total views, 1,109 views today

4 Responses to “اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے “

  1. […] order cialis online from canada […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *