نعمان حیدر حامی

6 ستمبر کی جنگ اور ریڈیو کا کردار

ریڈیو کو ہر دور میں اہمیت حاصل رہی ہے کیونکہ قدیم معلوماتی ذرائع ابلاغ میں سے ریڈیو کا کردار سرفہرست ہے۔ ریڈیو کی آمد نے بھی معلوماتی دنیا میں ایک بڑا انقلاب برپا کیا۔ لوگ گھروں میں بیٹھ کر حالات حاضرہ کی خبریں ، موسمی صورت حال اور ہر قسم کی معلومات مل جاتی۔ ہمارے پیارے وطن پاکستان کی تاریخ میں بھی ریڈیو پاکستان نے جو کردار ادا کیا وہ ناقابل بیان ہے۔ 6 ستمبر 1965 کو ہمارے دشمن ملک بھارت نے رات کی تاریکی میں ہم پر حملہ کیا۔ پاک وطن کے محافظوں نے وطن عزیز کی حفاظت کیلئے اپنی جانوں پر کھیل کر دشمن کو سرحد پر ہی روکے رکھا اور ان کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیئے۔ پوری قوم یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے تن من دھن قربان کرنے کیلئے تیار ہو گئے۔
ان جنگی حالات میں قوم کو ملکی صورتحال سے باخبر رکھنے میں ریڈیو پاکستان نے بھرپور کردار ادا کیا۔ ملکی خبروں کے علاوہ جوانوں کے جذبے بحال رکھنے کیلئے ریڈیو پاکستان نے فوراً جنگی حالات میں نئے نئے نغمے ریکارڈ کر کے نوجوانوں میں ایک نیا جذبہ ، جنون اور ولولہ پیدا کر دیا۔ میڈم نور جہاں کی خوبصورت آواز میں نغمے سن کر نوجوان اس طرح دشمن پر ٹوٹتے کہ دشمن کی فوج بھاگنے پر مجبور ہو جاتیں۔ ریڈیو پاکستان پر دو سو سے زائد جنگی ترانے ریکارڈ کیے گئے۔ ریڈیو پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس وقت کے پاکستانی فوج کے جنرل ایوب خان نے ریڈیو پاکستان کے ذریعے ہی سے خطاب فرمایا۔
آپ نے فرمایا اے میرے ہم وطنو !!
ہمارے دشمن کو شاید معلوم نہیں کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے۔ ایک خدا اور رسول کو ماننے والوں اب وقت آگیا ہے۔ دشمن پر ٹوٹ پڑو اس انہیں بتا دو کہ ہم ایک خدا اور رسول کو ماننے والے ہیں۔ ہم اپنے وطن عزیز کیلئے کسی قربانی سے دریغ
نہیں کرتے۔
لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو اور دشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو للکارا ‘‘ ان کے اس خطاب نے قوم کے اندر گویا بجلیاں بھردی تھیں۔ پاکستان آرمی نے ہر محاذ پر دشمن کی جارحیت اور پیش قدمی کو حب الوطنی کے جذبے اورپیشہ وارانہ مہارتوں سے روکا ہی نہیں، انہیں پسپا ہونے پر بھی مجبور کر دیا تھا۔ ہندوستانی فوج کے کمانڈر انچیف نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ وہ لاہور کے جم خانہ میں شام کو شراب کی محفل سجائیں گے۔ ہماری مسلح افواج نے جواب میں کمانڈر انچیف کے منہ پر وہ طمانچے جڑے کہ وہ مرتے دم تک منہ چھپاتا پھرا۔ لاہور کے سیکٹر کو میجر عزیز بھٹی جیسے سپوتوں نے سنبھالا، جان دے دی مگر وطن کی زمین پر دشمن کا ناپاک قدم قبول نہ کیا۔
آپ کی تقریر سے لوگوں کے دلوں میں نیا ولولہ پیدا ہو گیا۔ ریڈیو پاکستان پر ملی نغمے اے پُتر ہٹاں تے نئی وکدے، کرنیل نی جرنیل نی، جنگ کھیڈ نئی ہوندی زنانیاں دی، ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن، نئی شان، میرا سوہنا شہر قصور نی  ، جوانوں کی ہمت باندھتے اور بڑھتے چلے جاتے تھے۔ تمام ملی نغمے ریڈیو پاکستان لاہور کے ذہین میوزک پروڈیوسر محمد اعظم خاں نے تخلیق کئے اور اس کے ساتھ صوفی غلام مصطفی اور نورجہاں سمیت تمام فنکاروں نے بھرپور کردار ادا کیا۔
مسعود رانا نے حمایت علی شاعر کے لکھے ’’جاگ اٹھا ہے سارا وطن، ’’اے دشمن دین تو نے‘‘ ترانے گائے۔ اس کے علاوہ ولی صاحب کا’’یہ غازیوں کا قافلہ‘‘، جوش ملیح آبادی کا ’’اے وطن ہم ہیں تیری شمع‘‘، آشور کاظمی کا’’ نعرہ حیدری‘‘،بریگیڈئیر ضمیر احمد جعفری کا’’زندہ باد اے وطن کے غازیوں‘‘ اور حبیب جالب کا لکھا ’’کر دے گی قوم زندہ‘‘ ترانے گائے۔
ریڈیو پاکستان کا نیوز کاسٹر پاک فوج کی کامیابیوں کی خبر دیتے تو قوم کے سر فخر سے بلند ہو جاتے تھے۔
چونڈہ کی کامیابیوں کی خبریں ایمان والوں کی شہادت کی مثالیں سے پوری قوم کے ایمان تازہ کر رہی تھیں۔
چونڈہ کے سیکٹر پر(ہندوستان کا پسندیدہ اور اہم محاذ تھا)کو پاکستانی فوج کے جوانوں نے اسلحہ وبارود سے نہیں اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر ہندوستان فوج اور ٹینکوں کا قبرستان بنادیا۔ ہندوستان کی اس سطح پر نقصان اور تباہی کو دیکھ کر بیرون ممالک سے آئے ہوئے صحافی بھی حیران اور پریشان ہوئے پاکستانی مسلح افواج کو دلیری دی۔
1965ء کی جنگ کے دوران شکیل احمد نے جس خصوصی ولولہ انگیز انداز میں خبریں پڑھیں ان سے قوم کے جذبات کو ابھارنے میں بہت مدد ملی۔ منفرد انداز کے مالک شکیل احمد کے انداز سے متاثر ہو کر آل انڈیا ریڈیو نے نقل کرتے ہوئے ایک شخص سے ایسی آواز میں خبریں پڑھائیں لیکن جلد ہی ان کا یہ منصوبہ بھی فلاپ ہو گیا۔
6 ستمبر سے لیکر جنگ بندی تک محاذ جنگ پر برسر پیکار مجاہدین اور فوجی جوانون سے لیکر ملک کے چھوٹے سے چھوٹے قریے اور آبادیوں میں خبروں کے وقت لوگ اس خواہش کے ساتھ ریڈیو کھولتے تھے کہ شکیل احمد خبریں سنائیں گے۔
ہر روز نئے نئے پروگرام ریڈیو پاکستان پیش کرتا نئے ملی نغمے ریکارڈ ہوتے رہے اور نشر کیے جاتے رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان ملی ترانوں کی ایسی حیرت انگیز تاثیر تھی کہ فوج اور عوام نے یک جان ہو کر دشمن کی پیش قدمی روک دی۔
پاکستان کی اس کامیابی میں جتنا دوسرے اداروں کا کردار نظر آیا تو اس سے کہیں بڑھ کر ریڈیو پاکستان نے سر انجام دیا۔ 6 ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ ہو یا 2005 کا زلزلہ ہو یا 2010 کا تباہ کن سیلاب ریڈیو پاکستان نے اپنی تاریخ سنہرے حروف میں رقم کی۔ جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔

30,825 total views, 3 views today

3 Responses to نعمان حیدر حامی

  1. cialis says:

    […] cialis online […]

  2. […] viagra pills for men […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *