“خود کو سنواریں “

ساجدہ چوہدری
انسان کی زندگی میں اسکی سوچ کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے ہمیں ہماری زندگی میں اچھائی اور برائی کے فرق کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کےلیے سوچ کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے ایک انسان اگر اپنے دماغ میں یہ بات سوچ لیتا ہے کے اسکے کس عمل میں برائی ہے اور کس عمل میں اسکے خاندان معاشرے اور اس کے اپنے لیے نفع ہے تو یقیناً اس کےلیے اسکی مثبت سوچ اسکا استاد ہے دیکھا جائے تو انسانی زندگی ایک ایسا شاگرد ہے جیسے اپنی آخری سانسوں تک کچھ نہ کچھ سیکھنا ہے کوئی انسان بھی یہ دعوہ نہیں کر سکتا کے اسکی زندگی اب معکمل ہے مزید کسی علم کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ہماری سوچ کبھی ہمیں مطمئن نہیں ہونے دے گی انسانی فطرت ہے ہر کام میں ہر بات سےکوئی نقطہ نکال کر اس پہ سوچنا کوئی نتیجہ اخذ کرنا. کیوں ہوا ؟کیسے ہوا ؟کب ہوا؟یہ وہ سوالات ہیں جو انسان ساری زندگی اپنے معاملات میں دہراتا رہتا ہے ۔سوچ اچھی رکھنی ہے یا بری یہ ہم پہ انحصار کرتا ہے جہاں انسان کی زندگی میں مختلف سٹیج ترتیب دی گئی ہیں کے اس عمر تک انسان اپنے ماں باپ سے سیکھتا ہے پھر اپنے اساتذہ سے سیکھتا ہے وہاں ہی یہ بات بھی لکھ کر رکھ لیں کے انسان خود کا بھی استاد ہوتا ہے انسان خود کو بھی تعلیم دیتا ہے یاد رہے جو تعلیم انسان خود کو دیتا ہے اچھائی کی ہو خواہ برائی کی اسکا اثر باقی سب سے دگنا رہتا ہے انسان کے دماغ میں اور یہ ہی انسانی فطرت ہے کے انسان خود کی بات کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے زندگی کے کسی بھی معملات میں انسان سب سے پہلے اپنی مرضی کو منتخب کرتا ہے اسکے بعد باقی نصیحتیں یا علم آتا ہے اسی لیے سب سے ضروری ہے انسان کا خود کو سنوارنا اپنی سوچ اپنا ضمیر مثبت رکھنا جب تک انسان اپنے آپ پر اختیار اور کنٹرول حاصل نہیں کر سکتا تب تک وہ اپنے معاشرے کو کچھ نہیں دے پاتا اور نہ ہی عمل کے بغیر دوسروں پر آپکے کسی لیکچر کا اثر ہوتا ہے آپ لاکھ کوشش کر لیں دوسروں کو دلیلوں کتابوں کے علم سے اچھائی کی طرف مائل کرنے کی آپ وہ کامیابی حاصل نہیں کر پائیں گے جتنا انسان کسی کو اچھائی پر قائم رہ کر اس کو عملی طور پر نمونہ پیش کرکے اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتا ہے کوشش کریں خود کو آئیڈیل انسان بنانے کی اپنی زندگی میں ہر وہ کام کرنے کی پوری کوشش کریں جس سے آپکے اردگرد اور آپ سے وابستہ لوگوں کو ایک مثبت اور خوبصورت پیغام ملے ایک بہترین انسان اپنی مثبت سوچ اور اعلی رویہ سے ہزاروں لوگوں کی سوچ اور اخلاق کو مثبت تعمیر کر سکتا ہے اسی طرح اگر آپ خود کو نیگیٹو سوچ کے حوالے کر دیتے ہیں تو یاد رکھیں یہ نیگٹیوٹی اپکے ساتھ ساتھ آپکے حلقہ احباب میں بھی پھیلے گی آپکی ایک نیگٹیو سوچ جب دس لوگوں کے سامنے آئے گی تو وہ خود بخود ان دس لوگوں کے دماغ میں گھس کر انکو مجبور کر دے گی آپکی سوچ کو سوچنے کےلیے آپ نہ صرف خود اذیت میں رہیں گے بلکہ نیگٹیوٹی کا پورا ایک ماحول پیدا کر دیں گے جہاں نہ تو آپ خوش رہ سکتے اور نہ آپکو موقعہ مل سکے گا اس دلدل سے نکلنے کا مشہور قول ہے انسان جو بیچ بوتا ہے وہی کاٹتا ہے بحثیت مسلمان اپنی سوچ اخلاق اور رویے سے ایک صحت مند مثبت معاشرے کا قیام عمل میں لائیں یاد رکھیں ہر انسان کسی نہ کسی کا آئیڈیل ہوتا ہے کوئی نہ کوئی اسے فالو کر رہا ہوتا آپکے گھر کے بچے ہوسکتے ہیں آپکے بہن بھائی ، آپکے رشتے دار دوست کوئی بھی ہوسکتا اس لیے آپ پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہے کے آپ اپنے قول و فعل سے ایک آئیڈیل انسان بنیں ایک مثبت سوچ کو اپنائیں تاکے آپ سے سیکھنے والے بھی ایک بہترین زندگی جی سکیں .

11,700 total views, 3 views today

One Response to “خود کو سنواریں “

  1. Zarish Butt says:

    بہترین لکھا۔ واقعی ہماری زندگی میں سوچ کا سب سے اہم کردار ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *