یہ کون مرد اٹھ گیا ہر آنکھ اشکبار ہے

تحریر : منیبہ مختار اعوان

بہت سے بہادر نڈر بیٹوں نے اس وطن (پاکستان) سے والہانہ محبت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ، پھر چاہے وہ بنگلادیش میں پاکستان سے اظہار محبت کی پاداش میں سولی چڑھنے والا ‘پروفیسر غلام اعظم” ہو ، دشمن وطن پاکستان “حسینہ واجد” کی بربریت کی بھینٹ چڑھنے والا “عبدالقادر ملا” ہو یا پاکستان کی خاطر بھارت کی درندگی کو گلے لگانے والا
“مقبول بٹ” ہو۔ سب کی ہی کہانی اپنا ایک
امتیازی وصف رکھتی ہے۔ان بہادر بیٹوں کی داستانیں کسی بہار کو لگے زخم سے کم نہیں ہیں ۔
مگر اب کی مرتبہ جو بچھڑا ہے اس کے قصہ نے تاریخ کو بھی رلا دیا۔ تاریخ جب بھی دہرائے گی ۔ دل پہ ایک گہری ضرب لگائے گی ۔
سید علی شاہ گیلانی نے شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں ایک آسودہ حال گھرانے میں 29 ستمبر 1929 کو آنکھ کھولی تھی۔ابتدائی تعلیم شمالی کشمیر کے قصبے “سوپرو” سے حاصل کی۔اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور چلے آئے۔آپ لاہور میں جامع پنجاب کے ” اورینٹل کالج” میں زیر تعلیم رہے۔ یہاں پر آپ کو “مولانا مودودی رحمتہ اللہ” کے خیالات نے بے حد متاثر کیا۔وہ کہتے ہیں نا !
” حق پرست ہمیشہ حق کے راستے کا ہی چناؤ کرتا ہے”
آپ حق پرست تھے اور حق کی تلاش نے آپ کے دل میں مولانا مودودی رحمتہ اللہ کی محبت ڈالی ۔جس محبت اور لگاؤ کی وجہ سے آپ نے
“جماعت اسلامی” میں ایک کارکن کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی ۔
سید علی گیلانی کا مطالعہ کافی وسیع تھا اس لیے آپ نے ایک درجن کتابیں بھی تصنیف کیں جن میں
“رواداد قفس،نوائے حریت” وغیرہ شامل ہیں ۔ آپ کو علامہ اقبال کی شاعری نے بھی خاصا متاثر کیا ۔
شعر و سخن سے لگاؤ اور حُسنِ خطابت کی وجہ سے
بہت جلد آپ جماعت اسلامی کے اہم رہنما کے طور مشہور ہو گئے۔
1950 میں آپ نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔ کشمیر کے دفاع میں لڑتے ہوئے آپ پہلی مرتبہ 1962 میں گرفتار ہوئے۔ اور اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ قید ،حراست میں گزارا۔ آپ کی زندگی صرف ایک ہی مقصد تھا اور وہ کشمیر کے کیا جانے والا جہاد تھا۔
2003 میں اپنی جماعت”تحریک حریت” کی بنیاد رکھی۔آپ تاویل عرصہ
“کل جماعتی حریت کانفرنس” کے چئیرمن رہے اور کشمیر کی آزادی کے لیے بڑھ چڑھ کر خدمات سر انجام دیتے رہے
سید علی گیلانی نے” کل جماعتی حریت کانفرنس” نامی اتحاد سے طویل وابستگی کے بعد 30 جون 2020 کو علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ مگر اپنے جہاد سے پھر بھی پیچھے نا ہٹے اور اپنے وائس پیغام میں دنیا والوں کو بتایا کہ وہ حریت کانفرنس سے علیحدہ ہونے کے بعد بھی اپنا جہاد جاری رکھیں گے اور آخری سانس تک کشمیر کی آزادی کے لیے لڑتے رہے گے۔
آپ یکم ستمبر 2021 میں خالق حقیقی سے جا ملے ۔آپ اپنی وفات کے وقت بھی انڈیین آرمی کی جانب سے اپنے گھر میں تاویل عرصہ سے نظر بند تھے۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے تاریخی نعرے
” ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے” نے سب کو خون کے آنسو رونے پر مجبور کر دیا۔
لیکن بات صرف یہاں پر ختم نہیں ہوتی آپ کی وفات کے بعد فوج نے آپ کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ کے جسد خاکی کو اپنی تحویل میں لے کر رات کے اندھیرے میں خود ہی جا کر سپرد خاک کر دیا۔آپ کی وصیت تھی کہ انہیں”شہدا قبرستان” میں دفنایا جائے مگر ظالموں نے آپ کو اس حق سے بھی محروم رکھا۔آپ کے رشتہ دار آہ و بکا کرتے رہے مگر آپ کے پیاروں سے آپ کے جسد خاکی کو چھین لیا گیا۔شاید اس سے بڑی بد تہذیبی اور کوئی نا ہو۔
سید علی شاہ گیلانی کے داماد افتخار گیلانی نے جو کہ مشہور کشمیری صحافی بھی ہیں ایک پروگرام میں بتایا کہ فوج نے لاش کو اپنی تحویل میں لیتے وقت سید علی گیلانی کی زوجہ کے ساتھ بھی نازیبا سلوک کیا۔
آپ نے اپنی تمام تر زندگی حراست ،قید،نظر بندی،تنگی اور جدال میں کشمیریوں کی آزادی کے لیے وقف کر دی۔آخری لمحات میں آپ کا جسم سوکھ چکا تھا آپ انتہائی علیل تھے اس کے باوجود ہندوستان کی فوج آپ سے خوفزدہ تھی۔آپ کی دلیری کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔آپ کو معلوم تھا کہ آپ کی رب سے جلد ملاقات ہونے والی ہے اور شاید یہ بھی کہ بہار اب ان کی قسمت میں نہیں اس کے باوجود آپ کی حریت میں کمی نہیں آئی شاید وہ آنے والی نسلوں کے لیے آزادی کے خواب دیکھ رہے تھے۔آپ اپنے خواب کی تعبیر تو نہیں دیکھ پائے لیکن اب آپ کا نظریہ ہمارا نظریہ ہے۔ کشمیر پاکستان کی شاہ رگ ہے۔ان شا اللہ ایک دن پاکستان اپنی شاہ رگ واپس لے گا۔اللہ آپ کو جنتوں میں محل اور قبر میں کروٹ کروٹ راحت نصیب فرمائے آمین۔
شاید کسی نے یہ شعر آپ کے لیے لکھا تھا:

یہ کون مرد اٹھ گیا ہر آنکھ اشکبار ہے
لحد میں سو گیا مگر قوم کو جگا گیا
ہر اک محاذ حریت پر دھاک بٹھا گیا
وہ بجھتے بجھتے زندگی کو راستہ دکھا گیا

11,633 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *