زندگی کا مقصد کیا ہونا چاہیے

زندگی کیا ہے کیوں ہے اور کیسے ہے یہ سوال تو ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ ہی منڈلاتا رہتا ہے۔لیکن اس زندگی کی حقیقت میں اتنی وسعت ہے کہ ہمارے ذہن اسے سمجھنے سے قاصر ہیں۔کیونکہ ہماری سوچ محدود ہے ہم زندگی کی حقیقت کو صرف ایک حد تک سمجھ سکتے ہیں۔چونکہ الحمداللہ ہمارا تعلق دین اسلام سے ہے تو یہ دین خالصتاً ہمیں ہماری زندگی کا نہ صرف مقصد سمجھاتا ہے بلکہ انسانوں کی رہنمائی بھی کرتا ہے۔انسان بہت بے بس ہے وہ اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کر سکتا۔لیکن ان سب کے باوجود انسان زندگی کی حقیقت کو جاننے میں لگے رہتے ہیں۔جو بھی انسان اس دنیا میں آتا ہے وہ کسی نہ کسی مقصد کے تحت آتا ہے اللہ تعالی نے ہر انسان کو اپنے مقصد کے بارے میں جاننے کی استطاعت دی ہوتی ہے اور اور ایک اسی عمل کی وجہ سے انسانوں کو دوسرے جانوروں سے برتری دی۔اللہ تعالی نے انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے اس دنیا میں بھیجا۔عبادت ہی وہ اصل مقصد ہے جس کے لئے اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کیا۔ اس اعلی ذات کا فرمان ہے: “وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ، مَا أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ، إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ”(سورۃ الذاریات، آیت: 56، 58)
‘میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں، نہ میں ان سے روزی چاہتا ہوں نہ میری یہ چاہت ہے کہ یہ مجھے کھلائیں، اللہ تعالی تو خود ہی سب کا روزی رساں توانائی والا اور زور آور ہے۔’
اب یہاں ضرورت اس سوچ کی ہے کہ کیا آج کل کے انسان اپنے مقصد سے آشنا ہیں ۔۔۔۔؟؟آج کل کا انسان تو روزی کمانے اور دنیاوی چکروں میں اس قدر دھنس گیا ہوا کہ اسے تو کچھ یاد ہی نہیں کہ وہ کس خالق کی مخلوق ہے اور اسے دنیا میں اللہ نے اپنا نائب اور اپنی مخلوق کے لیے مسیحا بنا کر بھیجا ہے تا کہ وہ دنیا میں آ کر اس کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی مخلوق کی مدد کرے اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے ساتھیوں کے جان و مال کی حفاظت کرے۔لیکن صد افسوس! کہ یہ اولین مقاصد تو کسی کو یاد ہی نہیں۔یاد ہے تو صرف اتنا کہ دنیا میں آے ہیں تو فساد کیسے برپا کریں اور دوسروں کو تکلیف دے کر کیسے اپنی جھوٹی انا کو تسکین پہنچائی جاے۔ یہاں جس کو دیکھو بس اچھا کھانا، پینا ،اچھا لباس پہننا اور آرام کرنا بس اسے ہی زندگی کا مقصد تصور کرتے ہیں ۔اور میرے خیال سے تو دوسروں پر تنقید کرنا بھی آج کل کچھ لوگوں کی زندگی کا اوّلین مقصد بن چکا ہے۔یہاں آپ کو بہت سارے لوگ ایسے نظر آئیں گے جو بے مقصد زندگی گزار رہے ہوں گے جن میں کثیر تعداد بچوں, بوڑھوں اور خواتین کی شامل ہیں ۔اگر بچوں سے یہ سوال کیا جاے کہ آپ کی زندگی کا مقصمقصد کیا ہے تو ان میں آدھے سے زیادہ بچوں کے پاس تو اس کا کوئی جواب ہی نہیں ہوتا اور جو بچے جواب دیتے ہیں ان میں اگر لڑکا ہو گا تو کہے گا کہ بڑا آدمی بننا چاہتا ہوں اور بہت سارے پیسے کمانا چاہتا ہوں اور اگر لڑکی ہو گی تو زیادہ تر یہی سننے کو ملے گا کہ شادی کرواؤں گی اور بس گھر سمبھالوں گی ۔اور بہت کم جوابات ایسے ہوں گے جو کہ زندگی کی حقیقی توقعات پر پورا اتریں گے۔اس کی وجہ یہ کہ ہمارے معاشرے میں استاد اور والدین بچوں کو ان کے حقیقی مقصد کے بارے میں تو بتاتے ہی نہیں اور جب تک اسے سمجھ آتی ہے تب تک شاید بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔اور پھر انسان بس ہاتھ ملتا ہی رہ جاتا ہے کہ اس نے تو اپنی زندگی بس فضولیات کی نظر ہی کر دی ہے۔

اگر انسان صرف اپنی زندگی کے حقیقی مقصد کو جان لے اور اپنی تمام زندگی صرف اس کے لیے صَرف کر دے تو انسان اس دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی سکون حاصل کرے گا اسے چاہیے کہ وہ دنیا میں سامنے آنے والے ذرائع اور وسائل کو اپنی زندگی کا مقصد نہ بناے بلکہ اپنے اصل وجود کو تلاش کرے اور اس کے مطابق زندگی گزارے۔اور انہی اوصاف کے ذریعے سے اپنی زندگی کو امر کر جاے اور دنیا والوں کے لیے مشعل راہ بن جاے۔
مبرا رانی

19,547 total views, 485 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *