ادھوری زندگی

رات کے دوسرے پہر وائٹ پیلس میں خاموشی کا راج تھا۔ پریشے کھڑکی میں کھڑی گہری سوچ میں گم تھی۔ زندگی نے اسے ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا تھا ۔جس کا تصور کرنا بھی محال تھا ۔ انہی سوچوں میں گم وہ وہ بیڈ پر آ کر لیٹ گئی۔ نا جانے رات کے کس پہر پریشے نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔۔
صبح اس کی آنکھ دن کے دوسرے پہر کھلی ۔تو آنکھیں ملتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔ رات جاگنے کی وجہ سے آنکھیں سرخی مائل ہو رہی تھیں اپنے لئے چائے بنانے کی طلب لیے گھر کے اندرونی حصے کی جانب آئی ۔ جہاں سائز میں چھوٹا مگر خوبصورت باورچی خانہ آراستہ کیا گیا تھا۔ ہر چیز اپنی جگہ پر نفاست سے رکھی ہوئی تھی۔۔۔ باورچی خانے کی صفائی سے گھر کے افراد کا سلیقہ ظاہر ہو رہا تھا ۔ پریشے نے چائے کی کیتلی چولہے پر چڑھائی ۔اور قریب پڑی ہوئی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔
پریشے چائےکے گھونٹ آہستہ آہستہ لے رہی تھی۔جیسے ان کو زبردستی حلق سے نیچے اتار رہی ہو۔۔۔۔۔
اسی دوران
پریشے۔۔۔۔ پریشے۔۔۔۔
پکارتی ہوئی ایک ادھیڑ عمر عورت جس کے بالوں میں ہلکی ہلکی چاندی اتری ہوئی تھی۔۔۔۔دوپٹہ سلیقے سے نماز کی شکل میں لپیٹا ہوا تھا ۔ جیسے ابھی ابھی نماز سے فارغ ہو کر باورچی خانے کا رخ کیا ہو۔
باورچی خانے میں داخل ہوتی ہے۔
پریشے ابھی بھی گہری سوچ میں گم تھی۔
پریشے بیٹا ۔۔
اسی عورت نے قریب آ کر پریشے کو پکارا ۔۔۔۔
پریشے ایک دم چونکی۔۔۔۔اور بولی ۔۔
جی مما۔۔۔
بیٹا کیا بات ہے؟ آج اتنی دیر سے بیدار ہوئی ہو ۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا میری شہزادی کی۔۔
زارا خاتون کے لہجے میں بیٹی کے لیے پیار ہی پیار تھا۔۔۔۔
کیوں کہ پریشے ان کی اکلوتی بیٹی تھی ۔ ان کی جان کا ٹکڑا تھی ۔ وہ پریشے کی ذرا سی تکلیف پر پریشان ہو جایا کرتی تھیں۔۔۔۔
پریشے نے نرم لہجے میں جواب دیا۔۔۔
جی مما میں ٹھیک ہوں ۔ بس سر میں تھوڑا درد محسوس ہو رہا تھا ۔تو دیر سے بیدار ہوئی۔ آپ پریشاں نہ ہوں ۔اب میں ٹھیک ہوں۔
زارا خاتون پریشے کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیر کر کمرے کی جانب چل دیں۔
پریشے کا چھوٹا سا گھرانہ تھا۔ جس کو اس نے بہت خوب صورتی سے سجا رکھا تھا۔اور جنت بنایا ہوا تھا ۔
چار مرلے پر مشتمل گھر جس میں دو کمرے ایک باورچی خانہ اور بیرونی جانب غسل خانہ بنایا گیا تھا۔ ایک چھوٹا سا صحن تھا۔ پورے گھر کو سفید پینٹ کیا ہوا تھا ۔
پریشے کو سفید رنگ اور سرخ پھولوں سے عشق تھا۔ اس نے صحن میں چھوٹے چھوٹے گملے رکھے ہوئے تھے۔اور ان کو سرخ و سفید پھولوں سے سجایا ہوا تھا۔ قریب ہی چھوٹی سی پھولوں کی کیاری بنی ہوئی تھی۔جس میں سرخ و سفید پھول آنکھوں کو بہت بھلے معلوم ہو رہے تھے۔ان پھولوں کی سوندھی سوندھی خوشبو پورے صحن میں پھیلی ہوئی تھی۔ سفید پھولوں کی بدولت ہی پریشے نے اپنی چھوٹی سی جنت کا نام وائٹ پیلس رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔
پریشے اپنی زندگی میں اپنے ماں بابا کے ساتھ بہت خوش تھی ۔ اپنے شوق کی خاطر بچوں کو سکول پڑھانےبھی جاتی تھی ۔ اس کی جنت اس کے ماں باپ اور اس کا یہ چھوٹا سا گھر تھا۔ جس میں وہ خوشی سے رہتی تھی۔۔۔
لیکن زندگی صرف خوشی کا نام نہیں ہے۔۔۔۔۔
غم اور پریشانیاں بھی اس کے ساتھ ساتھ ہی ہماری زندگی میں آتی ہیں۔
پریشے کی پر سکون زندگی میں ارتعاش تب پیدا ہوا ۔۔۔
جب ایک دن سکول میں پڑھاتے ہوئے اس کی طبیعت اتنی خراب ہوئی ۔ کہ ہسپتال لے کر جانا پڑا ۔
مسز صباحت سکول کی پرنسپل جو کہ ایک اچھی اور نیک دل خاتون تھی۔
وہ پریشے کو ہسپتال لے گئیں اور ڈاکٹر کے کہنے پر سارے ٹیسٹ کروائے۔ رپورٹ ملنے کے انتظار میں مسز صباحت ہسپتال کے کوری ڈور میں بیٹھ کر پریشے سے مخاطب ہوئیں۔۔
پریشے بیٹا آپ کی طبیعت پہلے بھی کبھی اتنی خراب ہوئی ہے۔۔؟
پریشے ہلکا سا سر ہلا دیتی ہے۔۔
کوئی بات نہیں بیٹا آپ پریشان نہ ہو ۔ اللّٰہ بہتر کرے گا۔
اسی دوران نرس آ کر بتاتی ہے۔ کہ آپ لوگوں کی رپورٹس آ گئی ہیں۔۔
دھک ۔۔ دھک۔۔ دھک
نا جانے کیوں۔۔اس لمحے پریشے کا دل زور سے دھڑکا تھا۔۔
جیسے کوئی بری خبر اس کی منتظر ہو۔۔۔
ڈاکٹر نے بتایا کہ پریشے کو کینسر ہے ۔اور لاسٹ سٹیج پر ہے ۔
شاید وہ ایک ماہ زندہ رہے ۔ ہم تو اتنا بتا سکتے ہیں ۔ باقی اللّٰہ کی مرضی ہے۔ وہ چاہے تو ان کی سانسوں کی ڈوری جب تک مرضی چلتی رہے۔ ڈاکٹر نے نرم اور افسردہ لہجے میں کہا۔۔
یہ سن کر مسز صباحت کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔
انھوں نے ڈاکٹر سے پوچھا۔ کیا علاج ممکن نہیں ہے۔
ڈاکٹر کا جواب تھا ۔لاسٹ سٹیج پر علاج ممکن نہیں ہوتا ۔ ان کے پاس وقت کم ہے ۔۔۔
بس ہم کچھ ادویات لکھ دیتے ہیں ۔ جس سے ان کو اپنی زندگی کے باقی ایام گزارنے میں کم تکلیف محسوس ہو گی۔۔۔۔۔۔۔ ۔
مسز صباحت دکھی دل کے ساتھ ڈاکڑ کے پاس سے اٹھ گئیں۔
انھوں نے شفقت سے پریشے کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔ منہ سے کچھ نہیں بولا۔ شاید ان کے پاس الفاظ نہیں تھے۔ ۔۔۔
تسلی کے الفاظ بھی نہیں تھے۔۔۔۔۔
وہ اس پیاری سی لڑکی کے لیے سوائے دعا کے کچھ نہیں کر سکتں تھیں۔
انھوں نے پریشے کو گھر ڈراپ کیا اور اللّٰہ حافظ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ جیسے وہ پریشے کو آج کے بعد کبھی نہیں ملیں گی۔۔۔۔۔۔۔
وہ پیاری سی لڑکی جس کی سنہری براؤن آنکھوں میں بہت سے خواب ٹوٹ کر بکھر گئے تھے۔۔۔
ان آنکھوں میں دکھ کا عنصر نمایاں طور پر نظر آ رہا تھا۔۔۔۔ مسز صباحت سارے راستے اسی کے بارے میں سوچتی رہی تھیں۔۔۔۔۔۔
پریشے اپنے قدموں کو گھسیٹ کر کمرے تک لائی ۔۔
جیسے بہت لمبا سفر طے کر کے آئی ہو ۔۔
ساری رات وہ اسی پریشانی میں سو نہیں سکی تھی ۔
پریشے کو دکھ اس بات کا نہیں تھا ۔ کہ اس کی زندگی ختم ہو رہی ہے۔ اسے پریشانی تھی ۔تو صرف اپنے ماں بابا کی ۔۔
پریشے کے بعد ان کا خیال کون رکھے گا ۔؟ وہ سوچوں میں گم خود سے مخاطب تھی۔۔
دن تیزی سے گزر رہے تھے۔۔اور اس کی زندگی کے آخری ایام قریب آ رہے تھے۔
ایک صبح پریشے اٹھی ۔ تو اس کے بابا اس کے سرہانے بیٹھے ہوئے تھے۔ پریشے جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اور اپنے بابا سے مخاطب ہوئی ۔۔
بابا جانی ۔۔۔
خیرت ہے نا۔۔؟
کیوں میں اپنی بیٹی کے کمرے نہیں آ سکتا ۔ بابا نے پیار سے مسکرا کر کہا۔۔۔
اور بولے پریشے بیٹا میں کچھ دن سے دیکھ رہا ہوں۔ میری بیٹی بہت پریشان سوچوں میں گم نظر آتی ہے۔ تمہاری ماں بھی یہی کہہ رہی تھی بیٹا۔۔۔
بتاؤ میری شہزادی کیا بات ہے جو ہماری بیٹی کو پریشان کر رہی ہے۔۔۔
پریشے کا دل کیا ۔۔۔
۔ کہ وہ اپنے بابا کے سینے سے لگ کر خوب روئے اور سب کہہ دے ۔ لیکن وہ اپنے بابا کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔
اس نے اپنے آپ کو سنھبالا۔ اور مظبوط لہجے میں بولی۔۔
بابا جانی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ بس کچھ طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ اس لیے آپ کو ایسے لگتا ہے ۔ آپ پریشان نہ ہوں ۔ پریشے نے اپنے بابا کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔۔۔
لیکن پھر بھی ماں باپ کو اپنی اولاد کے حال دل کا علم ہو جاتا ہے۔ تبھی تو پریشے کے بابا خاموشی سے اٹھ کر کچھ کہے بغیر کمرے سے باہر نکل گئے تھے۔۔۔
وہ جانتے تھے۔کوئی بات ضرور ہے۔ جو اندر ہی اندر میری بیٹی کو کھا رہی ہے۔۔
دوسرے دن مسلسل بارش کی وجہ سے موسم خوش گوار ہو گیا تھا۔۔۔۔
۔ پریشے کو بارش بہت پسند تھی ۔ وہ بارش میں ٹہل رہی تھی ۔ ابھی بھی ہلکی ہلکی رم جھم ہو رہی تھی ۔ صحن میں لگے ہوئے پھول نکھر گئے تھے۔ اور خوشبو سے مہک رہے تھے۔ آسمان کا رنگ بھی نکھر کر سامنے آ گیا تھا ۔۔۔
پریشے تھک کر پھولوں کے پاس آ کر بیٹھ گئی ۔ اور ان کی مہک کو اپنے اندر محسوس کر نے لگی ۔۔۔
مغرب کی اذان کا وقت ہونے والا تھا ۔ پریشے اٹھ کر وضو کرنے چل دی۔۔۔
اسی دوران اذان ہونے لگی ۔اور پریشے کی ماں کی آواز آئی ۔۔
پریشے۔۔ پریشے بیٹا نماز پڑھ لو۔۔۔
پریشے نے جائے نماز بچھایا ۔اور نماز کی نیت باندھ لی۔۔۔
آخری سجدہ ادا کرتے ہوئے پریشے کی روح اس جہاں فانی سے کوچ کر گئی تھی۔۔۔۔۔۔
روحا غفور

19,365 total views, 3 views today

7 Responses to ادھوری زندگی

  1. Ayesha Asif says:

    Impressive writing skills, good way of story narration and good choice of words but story line still can be better.

  2. محمد says:

    ماشاءاللّٰہ

  3. Jaweria Tariq says:

    Zabardastttt 💜💜💜 kamal kar diyaaa 💖😘

  4. Sidra khalid says:

    Larki kamal kar dea😘

  5. Tayyaba says:

    amazing👏👏 keep it up dear💕

  6. Afia says:

    V .informative

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *