اتحادِ عالم اسلام

اتحاد عالمِ اسلام سے مراد “ملتِ اسلامیہ کا ایک پلیٹ فارم پر جمع،اور اسلامی اخوت کے روح پرور رشتے میں پرو دیا جانا ۔
ارشاد ِباری تعالیٰ ہے۔
“اور اللہ کی رسی کو مظبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو”(القرآن )
ملتِ اسلامیہ کے اتحاد کی بنیاد رنگ و نسل، علاقہ اور زبان عربی و عجم نہیں بلکہ توحید پر ایمان ہے۔نظام کائنات پر غور و فکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بے شمار چھوٹی چھوٹی چیزیں باہم متحد اور یکجا ہو کر ایک بہت بڑی طاقت کا روپ دھار لیتی ہیں۔
اتحاد و اتفاق طاقت اور مظبوطی کا ذریعہ ہیں۔اس کے برعکس نااتفاقی یا انتشار،کمزوری اور زوال کا پیش خیمہ ہیں۔شکاری درندے جب کسی جانور کا شکار کرتے ہیں تو پہلے اسے اپنے جھنڈ سے علیہدہ کرتے ہیں۔
حدیث مبارکہ ہے کہ “اکیلی بکری کو بھیڑیا کھا جاتا ہے۔”
قوموں کی تعمیر و ترقی،خوش حالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔قوم متحد ہو تو اسے کوئی حریف یا دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔لیکن اگر قوم میں اتحاد نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر سکتا ہے۔
اسلام ہمیں اتحاد و اتفاق کا درس دیتا ہے۔اللہ رب العزت نے کلمہ گویوں کو اسے مضبوط رشتے میں باندھ دیا جس کی مثال کسی دوسری قوم یا امت میں نہیں ملتی۔
دنیا میں جہاں کہیں بھی فتنہ فساد ہورہا ہے وہاں حقوق فرائض زیادہ ہیں اگر ہم اسکی جانچ پڑتال کریں تو یہ بات یہ سامنے آئے گی کہ لوگ اس بات سے پریشان ہیں کہ ان کے حقوق کم ہیں اور فرائض زیادہ ہیں۔
دنیا میں بھائی سے بھائی کا رشتہ حقوق فرائض کا رشتہ برابری کا رشتہ ہے باقی کہیں حقوق زیادہ اور کہیں فرائض زیادہ ہیں۔لیکن اسلام نے سب کو بھائی بھائی بنا کر فساد حتم کر دیا ہے۔آپؐ نے ساری زندگی اتحاد و اتفاق کا پرچار کیا۔
مسلمانوں کی مثال ایک جسدِ واحد کی طرح ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا اثر سارے بدن پر پڑتا ہے۔
ہم جس پاک مذہب کے پیرو کار ہیں اس کی پاکیزہ تعلیم اپنے اندر اتحاد و مساوات اور ،ربط باہمی کے ایسے پہلو لئے ہوئے ہیں جس پر عمل کرنے سے قومیں سر فراز ہوتی ہیں۔جب تک افراد میں احتلافات رہتے ہیں تو وہ کوئی ایسی قوم نہیں بن سکتی جس پر تاریخ فخر کرے۔
ایک فرد کی تنہا حیثیت نہیں۔اسکی زندگی ربط ملت سے ہے۔ربط باہمی ایک کوئی قوم بن جاتی ہے۔اور انکا کا ایک ایسا نظام مرتب ہو جاتا ہے جس سے مشکل سے مشکل کام پر بھی غالب آجاتا اور وہ ایسی دیوار بن جاتی ہے جسے گرایا نہیں جا سکتا۔
ماضی قریب میں جب ہندوستان میں آزادی کی جدو جہد ہوئی تو كانگرس نے یہی نظریہ پیش کیا کہ ہندوستان میں ایک ہی قوم غالب ہے جسے ہندو کہتے ہیں۔قائداعظم نے مسلمانوں کو متہد کیا ایک مرکز پر جمع کیا اور مطالبہ کیا کہ ہندوستان میں ایک ہی قوم غالب ہے جسے ہندو کہتے ہیں۔قائد اعظم نے مسلمانوں کو متہد کیا۔ ایک مرکز پر جمع کیا اور مطالبہ کیا کہ ہندوستان میں ایک قوم نہیں،دو قومیں بستی ہیں۔ایک مسلمان بھی ہے ہندو نے اس مطالبے کا مذاق اڑایا۔
بعض مسلمانوں نے بھی اس نظریے کی مخالفت کی اور غیروں کی امداد کی۔یہ مخالفت مسلمانوں کے اتفاق باہمی کے سامنے ناکام ہوکر رہ گئی اور پاکستان اسی اتفاق باہمی کا ایک معجزہ ہے۔
جنگ میں پاکستان نے بھارت کو شرم ناک شکست سے دو چار کیا۔ حلانکہ پاکستانی قوم کے متحد ہونے کی وجہ سے بھارت کو ہر محاز سے منہ کی کھانی پڑی۔جب ہم ایک ہوں گے تو کوئی مخالف آنکھ ہماری طرف نہیں اٹھ سکتی اور کوئی ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکے گا۔
ہم پاکستانیوں کو اختلافات میں نہیں الجھنا چاہیے۔پاکستانی ہونے پر فخر کرنا چاہیے اور متحد ہوکر رہنا چاہیے۔
تحریر۔سدرہ بتول

3,922 total views, 2,260 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *