“رسمِ جدائی”

مصنفہ: مریم چوہدری

نوحے۔۔۔۔ سمجھتے ہو نوحے کیا ہوتے ہیں؟؟؟
جن کا ہر ہر لفظ سینے میں کپکپاہٹ پیدا کر دے، جن کا حرف حرف دل کو دہلا دے، جن کا احساس کسی اور مقام پر لے جائے، جن کی آہ چشم کو آبگیں کر دے، جن کی تڑپ روح کی پتال میں اتر جائے۔
دن بھر کی مصروفیت کے بعد موصول ہوئی ڈاک کو کھولا تو “رسمِ جدائی” کے عنوان سے کہانیوں کا۔۔۔ نہیں نہیں نوحوں کا ایک مجموعہ وصول ہوا۔
رات کی تاریکی میں ٹھنڈی چلتی ہواؤں کے ساتھ آگ کی حدت میں ان نوحوں کو جو پڑھنا شروع کیا تو حرف حرف نے یوں اپنے حصار میں لیا کہ مکمل کتاب پڑھے بنا اٹھ نہ سکا۔ ہر ہر نوحہ اپنے اندر درد کا ایسا سمندر سموئے ہوئے ہے کہ پڑھنے والے کو ہر درد اس کے سینے پر محسوس ہوتا ہے۔
جدائی کا درد ہو یا ملنے کے اسباب ممکن نہ ہوں، ہر ہر درد کو یوں بیاں کیا کہ محسوس کرتے ہی قاری لرز جائے۔
یوں کیفیت ہوئی کہ:

بیٹھے بٹھائے درد سے جی تلملا گیا
یادش بخیر کوئی ہمیں یاد آ گیا

اللہ کریم محترمہ کو مزید عزتیں اور عروج عطا فرمائے اور قلم میں مزید تشنگی پیدا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الامی الکریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم

محمد طیب نوید✍️

8,534 total views, 2,320 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *