انٹرویو۔۔ماہم صفدر

السلام علیکم میں ہوں ساجدہ چوہدری آل پاکستان رائیٹرز ویلفئیر ایسوسی ایشن تنظیم کی جانب سے ملک کی نامور شخصیات کا انٹرویو لینے کےلیے اپنے دلچسپ سوالات لیےحاضر ہوں انٹرویو کےلیے میرے ساتھ موجود ہیں سے تعلق رکھنے والی ادبی دنیا کی کم عمر ،بہت پیاری شخصیت انتہائی قابل محترمہ ماہم صفدر
اسلام علیکم کیسی ہیں آپ؟ ؟بہت شکریہ آپ نے اپنا قیمتی وقت نکالا.
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
بہت محبت آپ کی۔

“اپنے بارے میں کچھ بتائیے
(کب اور کہاں پیدا ہوئیں تعلیم مشاغل قریبی دوست وغیرہ وغیرہ )

میں نے 13 جنوری 1999ٕ کو ٹوبہ ٹیک سنگھ کے اک نواحی گاٶں 512 گ ب میں جنم لیا۔ میرا تعلق اک پڑھے لکھے گھرانے سے ہے۔ مختصر فیملی میں والدین، بڑا بھاٸی اور میں شامل ہوں۔ ابتداٸی تعلیم گاٶں کے پراٸمری سکول سے حاصل کی۔ میٹرک فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ ایف۔ایس۔سی پنجاب کالج فار وویمن فیصل آباد سے کی۔ تعلیمی سلسلہ ابھی جاری ہے۔ گورنمنٹ کالج فار وویمن یونیورسٹی فیصل آباد سے باٸیو کیمسٹری میں بی۔ایس۔آنرز کر رہی ہوں، جس کا فاٸنل ایٸر ہے۔

لکھنے کی ابتدا کب اور کس عمر سے کی اور سب سے پہلی تحریر کونسی لکھی ؟
کتب پڑھنے کا بچپن سے ہی شوق تھا۔ ادب سے رغبت اور کتب گردانی کا شوق والدین سے ورثے میں پایا ہے۔ پڑھتے پڑھتے کب لکھنے کا شوق ہوا پتہ نہیں چلا۔ ویسے تو مڈل پاس کرنے کے بعد ٹوٹی پھوٹی شاعری لکھنا شروع کر دی تھی لیکن باقاعدہ آغاز گزشتہ سال نومبر کیا۔ پہلا کالم ”جاٸزہ“ کے نام سے روزنامہ عوامی للکار راولپنڈی میں شاٸع ہوا۔ اس کے بعد مختلف اخباروں میں وقتاً فوقتاً کالمز وغیرہ لکھتی ہوں۔ اس کے علاوہ شاعری بھی کرتی ہوں۔

آپ بتائیں فطرتاً کیسی انسان ہیں موڈی یا خوشگوار سی ؟
فطرتاً خوش مزاج ہوں۔ حلقہٕ احباب کے مطابق میرا سینس آف ہیومر اچھا ہے۔ ہنستے مسکراتے وقت گزارنا اچھا لگتا ہے لیکن بعض اوقات موڈ swings شدت سے آتے ہیں۔ کچھ باتوں پر موڈ بری طرح خراب ہو جاتا ہے لیکن کوشش ہوتی ہے کہ ردِ عمل نہ دیا جاٸے۔

: کس طرح کے لوگ آپ کو متاثر کرتے ہیں اور کس طرح کے لوگوں سے نفرت محسوس ہوتی ہے ؟
جو لوگ دوسروں کو موٹیویٹ کرتے ہیں، کسی کی صلاحیت کو appreciate کرتے ہیں، کسی کی اچھاٸی کا پرچار کرتے ہیں، دوسروں کی خوشی میں خوش ہوتے ہیں اور کسی کو آگے بڑھنے میں مدد دیتے ہیں خواہ وہ زبانی مدد ہی کیوں نہ ہو، وہ لوگ مجھے متاثر کرتے ہیں۔ ہر وقت دوسروں کی براٸیوں پر روشنی ڈالنے والے، بےوجہ دوسروں کی ذاتیات میں مداخلت کرنے والے اور منافق لوگوں سے سخت نفرت محسوس ہوتی ہے۔

آپ کے خیال میں تنقید کرنا ضروری ہوتا ادب میں کسی کی اصلاح کےلیے؟؟اور تنقید کرتے وقت کس چیز کا ہونا ضروری ہے ؟؟
تنقید براٸے اصلاح ادبی صلاحیتوں کو نکھارنے میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہے۔ ادب کیا ہر شعبے میں تنقید ناگزیر ہے۔ سیکھنے کا عمل کا آخری سانس تک جاری رہتا ہے لہٰذا ادیب کو بھی تنقید خندہ پیشانی سے قبول کرنی چاہیٸے۔ جب کہ ناقد کو یہ بات ملحوظِ نظر رکھنی چاہیٸے کہ وہ ادیب کی ذاتیات پر کوٸی وار کرے نہ اس کی تخلیقی صلاحیتوں پر کیچڑ اچھالے۔ بلکہ اخلاقی حدود میں رہتے ہوٸے نہایت مناسب لفظوں میں نیک خواہشات کے ساتھ اصلاح کی جاٸے۔

ادبی دنیا میں کن شخصیات سے آپ متاثر ہیں ؟
یوں تو پسندیدہ لکھاریوں کی اک طویل فہرست ہے لیکن سب سے زیادہ نسیم حجازی، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، پریم چند، سمیرا حمید جیسے لکھاریوں سے متاثر ہوں۔ اس کے علاوہ عمیرہ احمد، ہاشم ندیم، نایاب جیلانی وغیرہ بھی پسندیدہ مصنفین ہیں۔ شاعری میں مرزا غالب، میر تقی میر، جون ایلیا، علامہ اقبال، محسن نقوی، اظہر فراغ، پروین شاکر، نوشی گیلانی، کومل جوٸیہ، فوزیہ شیخ اور نٸے شعرا میں سے امن شہزادی کو شوق سے پڑھتی ہوں۔
آج تک جو لکھا اپنے لکھے سے مطمئن ہیں یا کوئی تشنگی کوئی کمی محسوس ہوتی ہے ؟
ابھی تک تو بہت کم لکھا ہے۔ ابھی تک ہماری زنبیل میں چند نظمیں، کچھ غزلیں، کچھ کالمز چند سو لفظی کہانیاں اور اک دو طویل کہانیاں ہی ہیں۔ اس کے علاوہ تبصرہ نگاری میں بھی طبع آزماٸی کرتی ہوں۔ ابھی تشنگی کا دشت عبور کرنا ہے۔ اطمینان کے سمندر کا ساحل بہت دور ہے۔

اپنی تخلیقات ہمارے قارئین کے ساتھ بھی ۔شئیر کیجئیے آپنی کسی فیورٹ تحریر کا نام یا اپنی شاعری؟
اپنا اک پسندیدہ شعر;
یہ قیامت ہجر کی کس کام آٸے گی بھلا؟
میں اگر باقی رہوں، تو بھی اگر باقی رہے
اک نظم پیشِ خدمت ہے جو میرے دل کے بہت قریب ہے۔

عنوان

”امید“
ہاٸے اس سرد ٹھٹھرتی ہوٸی رت کا فسوں!
اس پہ پھیلے ہوٸے بےکیف نظاروں کا وجود!
ہاٸے اک آتشِ پرسوز میں سلگا سا بدن
ہاٸے یہ دیدہٕ خوں بار کا اجڑا سا وطن
اس پہ اک بند کھڑکی سے آتی ہوٸی ماضی کی نوا
اور اک درز سے جھانکتا ہوا اک عہدِ وفا!
موتیے کے گجروں سے یہ اڑتی سی مہک
میرے ہاتھوں کی ہتھیلی سے اترتا ہوا رنگِ حنا
اس پہ اک شوق کی ارزانی کہ دشتِ طلب میں
ہر آن یہ آواز لگاٸے، تو نظر آ!
اس پہ لیکن وہی تکرار!
لن ترانی کی صدا!
اب ہیں ہر آس سے خالی مرے قہقہے
یوں کہ فطرت کے ساز سے جوں محروم ہوں جھرنے
ہاٸے اک بیتی ہوٸی الفت کا خیال!
ہاٸے اک متروک تمنا کا ملال!
لمحہ لمحہ مرے ہاتھوں سے سرکتے ہوٸے لمحے
جسم و جاں کی فصیلوں میں نقب لگاتے ہوٸے صدمے
پھر بھی اک مسکان ہے زینت مرے ہونٹوں کی
ہاٸے یہ بیتے ہوٸے موسم مری پونجی لے اڑے
مرے جوش، ارادے، مرے سپنے لے گٸے
پھر بھی جاری ہے اک حسرت۔ ناکام کا بےانت سفر
جانے کس اور لے جاٸے جنوں بارِ دگر
یہ جو خوش نظمی کی اک چاک قبا
مجھ دل سوختہ نے پہنی ہوٸی ہے
زیست بس اک امید پہ ٹھہری ہوٸی ہے!

آپ کو کیا لگتا ہے انٹرنیٹ کا استعمال دور جدید کی ضرورت ہے یا معاشرے پر اسکے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ؟
ہر شے کے اپنے فواٸد اور نقصانات ہوتے ہیں۔ یہ استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسے کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ چھری کا کام پھل سبزیاں کاٹنا ہے، اس سے اگر کوٸی کسی کا گلا کاٹ دے تو اس میں چھری کا کیا دوش؟ یہی حال انٹرنیٹ کا ہے۔ آج کے دور میں انٹرنیٹ کا استعمال ناگزیر ہے۔ دورِ جدید میں انٹرنیٹ کا استعمال اک اشد ضرورت ہے۔ طلبا، ادبا غرض یہ کہ ہر شعبہ ہاٸے زندگی سے منسلک لوگ انٹرنیٹ سے مدد لیتے اور بہت سے افعال سرانجام دیتے ہیں۔ کچھ بری ویب ساٸیٹس وغیرہ کی موجودگی کے علاوہ دیگر طریقہٕ واردات نے معاشرے پر انٹرنیٹ کے منفی اثرات بھی مرتب کٸے ہیں۔

آپ کو آپ کی اپنی کسی تحریر سے محبت ہوئی؟
تخلیق کار کے لیے اس کی ہر تخلیق اہم ہوتی ہے۔ لکھاری کو اپنی ہر تحریر سے محبت ہوتی ہے۔ ہاں کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو ایسے وقت، ایسے موڈ میں تخلیق پاتے ہیں کہ دل کے بہت قریب ہوتے ہیں۔ اپنی نظم ”امید“ (جو اوپر بھی پیش کی ہے) دل کے بہت قریب محسوس ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اک نظم بہت پسندیدہ ہے جس کا عنوان ہے ”محبت اب نہیں کرنا۔“ یہ نظم میں نے یونیورسٹیز کے مقابلہ میں پہلی بار پڑھی تھی اور پہلی پوزیشن اور انعام وصول کیا تھا۔

اگر آپ کو اپنی شخصیت کو ایک لفظ میں لکھنے کا کہا جاۓ تو؟
مخلص و محنتی۔

اپنے ساتھی لکھاریوں میں سے آپ کس کو پسند کرتی ہیں؟
ساتھی لکھاری تو مجھے ادبی حوالے سے سبھی خود سے بلند نظر آتے ہیں۔ البتہ کچھ ایسے ہیں جن کے مقاصد اور عزم سے میں متاثر ہوں۔ ان میں مسکان احزم، مسفرہ سحر اور شاعری میں امن شہزادی اور صباحت عروج پسند ہیں۔

کسی انسان کی ایسی نصیحت جو آپ نے اپنے پلو سے باندھ لی ہو اور جو آپ کے کام بھی آئی ہو؟
ہماری زندگی میں بےشمار لوگوں کا عمل دخل ہوتا ہے لیکن ایسے لوگ بہت محدود اور مخصوص ہوتے ہیں جو آپ کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لاٸیں۔ الحمدللّٰہ میں اس معاملے میں خوش قسمت ہوں کہ دیگر رشتوں کی طرح اللّٰہ پاک نے دوستی میں بھی اک خوبصورت انعام سے نوازا۔ میری بہترین دوست بہنوں سے بڑھ کر عزیز سہیلی، عابدہ نواز نے اس ضمن میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کچھ ڈاٶن فالز کی وجہ سے میں مایوسی کا شکار تھی جو کہ بذاتِ خود عظیم گناہ ہے۔ جب میری دوست کی میری زندگی میں شمولیت ہوٸی تو اس نے ہمیشہ محنت کرنے، دعا کرنے اور اللّٰہ پر یقین کرتے ہوٸے صبر سے دعا قبول ہونے کا انتظار کرنے کی نصیحت کی جو میں ہمیشہ ساتھ رکھتی ہوں۔ آج جو کچھ بھی ہوں اس انسان اور اس نصیحت کی وجہ سے ہوں۔

آپ کیا سمجھتی ہیں موجودہ دور میں عورت کا معاشی طور پر مضبوط ہونا کتنا ضروری ہے ؟

میرے نزدیک عورت کا اخلاقی طور پر مضبوط ہونا زیادہ ضروری ہے تاکہ ہر لحاظ سے مضبوط معاشرے تشکیل پا سکیں۔ بہرحال عورت کو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند ہونا چاہیٸے۔ معاشی لحاظ پر کم از کم اتنا مضبوط ضرور ہونا چاہیٸے کہ اپنی چھوٹی چھوٹی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دوسروں کی مدد درکار نہ ہو۔

جو لوگ لکھنا چاہتے ہیں مگر آگے بڑھنے میں بے حد دشواریوں کا سامنا ہے انہیں کیا کہنا چاہیں گی ؟؟؟
زندگی اک جہدِ مسلسل کا نام ہے۔ مقصد مکمل نہیں ہوتا تو کیا؟ مقصد کی تکمیل کے لیے اک سفر کرنے میں کیا حرج ہے؟ محنت اک نہ اک دن رنگ ضرور لاتی ہے۔ بےجا تنقید کو اگنور کریں کہ جو کچھ نہیں کر سکتے وہ تنقید کرتے ہیں۔ تنقید براٸے اصلاح کو مثبت لیں۔ یقین، عزم اور عاجزی کے ساتھ اپنے مقصد پر ڈٹے رہیں۔

اپوا تنظیم کے لیے کچھ کہیں گے؟؟؟
اپوا تنظیم اک ایسا پلیٹ فارم ہے جو خام کو خاص بنانے کا عزم لیے کام کر رہا ہے۔ بہت سے ایسے لوگ جنہیں کچھ سمجھ نہیں آتی وہ کیا کریں؟ کیسے کریں؟ اپوا تنظیم انہیں ادبی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے اور آگے بڑھنے کے برابر مواقع فراہم کرتی ہے۔ اپوا ادبی فیملی بنا کسی غرض کے خلوص سے جیسے نٸے آنے والوں کو اک مقصد اور منزل فراہم کر رہی ہے یہ قابلِ تحسین ہے۔

لوگ نشانی کے طور پر اپنے پیچھے کچھ نا کچھ تو ورثے میں چھوڑتے ہیں آپ کیا چھوڑ کر جائیں گی ؟؟؟
ابھی ہم نے دیکھا ہی کیا ہے جو چھوڑنے چھڑانے والی باتیں بھی آ گٸیں۔ ہاہاہا!
ہمارے معاشرے کا اک المیہ ہے کہ ہمارے ہاں زندہ لوگوں کو سراہنا شجرِ ممنوعہ کو چھونے کے مترادف ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں آپ کو اچھا کہا جاٸے، سراہا جاٸے تو ورثے میں کچھ نہ کچھ ضرور چھوڑ کے جاٸیں۔ میں نشانی کے طور پر کم از کم اتنا اچھا ادب چھوڑ کے جانا چاہتی ہوں کہ جب کبھی اچھے ادبا کا ذکر چھڑے تو اک مصرعہ ہی سہی، میرا لکھا بھی سماعتوں سے ٹکراٸے۔

ساجدہ چوہدری. ..بہت شکریہ اللہ پاک آپ کو کامیابیاں نصیب فرمائے …..اللہ حافظ

.

765 total views, 60 views today

15 Responses to انٹرویو۔۔ماہم صفدر

  1. ماہم صفدر says:

    جزاک اللّٰہ خیرا کثیرا بہت محبت۔۔۔۔بہت نوازش

  2. تنزیلہ مہروی says:

    بہت دلچسپ اور خوبصورت شخصیت ماہم۔۔انٹرویو پڑھ کر بہت اچھا محسوس ہوا۔۔یقینا آپ ایک بہتیرن شاعرہ،کالم نگار اور تبصرہ نگار۔۔ آپ کی تحاریر پڑھ کر ہمیشہ ادبی ذوق کو تسکین ملتی ہے۔۔بہت جئیں ماہم

    • ماہم صفدر says:

      آمین ثم آمین۔ جزاک اللّٰہ خیرا کثیرا۔
      آپ جیسی پیاری آپی اور بذاتِ خود اک اچھی شاعرہ کی حوصلہ افزاٸی باعثِ اعزاز ہے۔

  3. Ibrar Hassan says:

    بے شک آپ بہت خوبصورت لکھتی ہیں ماہم، اللہ پاک آپ کے ہاتھ سلامت رکھے، اللہ پاک آپ کے سخن میں مزید برکت دے،

  4. عاتکہ مان says:

    ماشاء اللہ….. بہت ساری دعائیں

  5. صباء says:

    ماشاءاللہ بہت خوب ۔۔اللہ پاک بہت ترقیاں دے آپکو ماہم

  6. من تشاء درانی says:

    ماشاءاللّٰه ماشاءاللّٰه ۔۔۔آپ کے بارے میں آپ کی دل آرا اور پسندیدگی کی فہرست جان کر بہت خوشی ہوئی۔اللہ سبحان و تعالیٰ آپ کے قلم میں مزید نکھار پیدا کریں اور کامیابیوں کی چوٹیاں سرنگوں ہوں۔۔۔آمین یا رب العالمین۔۔۔❤❤❤

  7. جاوید خان تشنہ کراچی says:

    رابطہ دل کا

    (ہائے ایک محبت کا احوال شاعرہ ماہم حیا صفدر کے نام )

    وہ گورنمنٹ کالج برائے خواتین جھنگ سے بی ایس کر رہی تھی ہماری دوستی سماجی رابطے کی معروف ویب سائٹ فیس بک پر سنہ 2014 میں ہوئی تھی۔ میں ان دنوں ایک پرائیویٹ اسکول میں 3000 روپے ماہانہ لیکر چھوٹی موٹی کلاسوں کو پڑھاتا تھا اور ساتھ ہی Facebook پر اپنی ٹوٹی پھوٹی شاعری اور تحریریں شئیر کیا کرتا تھا اسے میری کوئی تحریر اچھی لگی تھی تو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجی جو میں نے قبول کر لی۔

    ہماری کبھی بھی بات نہیں ہوئی تھی بس وہ میری فرینڈ لسٹ میں تھی اور اس كا نام فرخندہ تھا ۔ ہمارا پہلی بار فیس بک انباکس میں ہی رابطہ تقریباً 2015 میں ہوا شاید وہ بھی تب جب اُسے پتہ چلا کہ میری job ہوگئی ہے اور میں کراچی میں شفٹ ہوگیا ہوں
    اُسے اتنی خبر تو تھی کہ میں جھنگ کے کسی ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہوں مگر وہ باقی حقیقت سے نا آشنا تھی خیر رابطہ ہوا تو فرضی حال احوال کے بعد گھر اور مصروفیات سے بات ہوتی ہوئی میری موجودہ کار حال تک جا پہنچی
    ان باتوں کے دوران اس نے بتایا کہ وہ ایک well settled family سے تعلق رکھتی ہے میرے گاؤں سے اس کا گاؤں تقریبآ ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے مگر اس کا گاؤں آنا جانا جب تک تعلیم مکمل نہ ہو جائے ابو امی کی طرف سے گناہ کبیرہ شمار کیا جاتا ہے اس لیے وہ یہاں ماموں کے پاس جس کی اہلیہ اسی کالج میں لیکچرار ہے رہتی ہے
    طویل سے مختصر یہ کہ میسنجر پر جب بات مشکل لگی تو نمبر exchange ہووے اور رابطہ WhatsApp پر منتقل ہوگیا اور پھر سر سے آپ اور آپ سے تم تک کی کہانی 2018 میں اپنے عروج کی منازل طے کر ہی رہی تھی کہ میری ٹرانسفر بدقسمتی سے گوادر بندرگاہ پر آگئی
    مرتا کیا نہ کرتا جانا پڑا اور وہاں جا کر جس بات نے دل پر نشتر چلائے وہ یہ کہ یہاں سگنل کا بہت مسئلہ رہتا سارا دن موبائل فون صرف ٹائم دیکھنے کے لیئے استعمال کیا جاتا اور رات کو جب چھٹی کر کے واپس آنے لگتے تو میں پہاڑوں کا راستہ اختیار کرتا جس سے عموماً سگنل آجاتے اور گھر بات بات چیت ہو جاتی جس میں سے ان کا وقت صرف 10 منٹ تک مقرر تھا اور باقی کا سفر جو تقریباً 25 منٹ کا تھا شہرِ محبت جھنگ والوں کے لیے مختص کیا ہوا تھا
    ابھی گوادر آئے 2 ماہ ہی ہووے تھے کہ ایک دن کھلے سمندر میں ایک بوٹ پر کام کرتے ہوئے جھکنے کی وجہ سے موبائل سینے والی جیب سے نکل کر سیدھا سمندر میں چلا گیا پاس کھڑے دوست نے جمپ تو کیا مگر اس وقت 5 سیکنڈ کی دیر پوری زندگی کی دیر کے مترادف ثابت ہوئی اور وہ خالی ہاتھ بوٹ پر آگیا
    موبائل خریدنے کے لیے گوادر شہر جانا لازمی تھا مگر سکیورٹی ایشو کی وجہ سے اجازت نہ ملی اور 1 ماہ انتظار میں گزر گیا اس دوران کیوں کہ گھر کا نمبر یاد تھا تو ٹیلی فون پر بات ہوتی رہی ذہن پر مکمل عبور پاتے ہوئے ایک دن اُن کا نمبر بھی یاد آگیا مگر کئی بار کال کرنے پر انہوں نے کال نہ اٹھائی بلکہ ایک دفعہ تو شاید اُن کے ماموں نے کال اٹھائی اور کافی تلخئ کے ساتھ ہیلو ہائے کر کاٹ دی اب میں سمجھ گیا تھا وہ اس نئے اور عجیب نمبر سے شاید خفا ہیں اس لیے بات نہیں ہو پا رہی
    جیسے تیسے موبائل اور سم کی ریکوری بنائی تو کال کرنے پر اُن کا نمبر بند ملا whatsaap پر کوشش کی تو آخری بار online ہووے اُنکو تقریباً دس دن ہو گئے تھے کافی نازک صورت حال تھی کہ اسی دوران میں چھٹی پر پنجاب اپنے گاؤں آگیا مگر رابطے کی صورت حال یہی برقرار رہی اور رہتی بھی کیوں نہیں جب مجھے اندرونی ذرائع سے پتہ چلا کہ انکا کار ایکسیڈنٹ ہوا تھا جن میں شدید چوٹیں آئیں جس وجہ سے وہ اب بھی قومہ میں ہیں اسپتال کا پوچھا تو بتایا گیا پہلے تو جھنگ میں ہی کسی نجی اسپتال میں تھیں مگر جب صورت حال اُن کے قابو سے باہر ہوئی تو اُنہیں الائیڈ ہسپتال فیصل آباد منتقل کردیا گیا واہ رے قسمت ہسپتال جانے کی خواہش 170 کلومیٹر کی مسافت اور سب سے بڑی اجنبیت کی وجہ سے پوری نہ ہوسکی اور میں واپس گوادر آگیا
    کچھ عرصہ بعد whatsaap پر ایک long voice message ملا جس میں شکوہ و شکایات سے بھر پور میٹھی میٹھی گالیوں سے لیکر اب تک کی صورت حال سننے کو ملی میرے replay کرنے پر باقی معاملہ تو ٹھنڈا ہوگیا مگر ان کے غُصہ کی آگ پر قابو پاتے پاتے مجھے ایک گھنٹہ لگ گیا اور وہ نیم مسکان کے ساتھ گفتگو کرنے لگیں اس حالات سے گزرنے کے بعد جو پوری طرح نہیں گزرے ہیں غُصہ نہ کریں کے مفت مشورے کام آگئے
    میں نے موقع ملتے ہی اُنکو اپنے ساتھ ہونے والی ساری روداد سنائی تو معاملہ بلکل ٹھنڈا ہوگیا بلکہ میری کئی کالز کرنے پر اُن کا فون نہ اٹھانا اُنہیں ندامت سی محسوس ہونے لگی
    بلآخر بات یہ طے پائی کہ اس دفعہ کی چھٹی پر آپ سے ملاقات لازمی ہوگی حسب وعدہ میں چھٹی پنجاب آیا تو رابطہ کرنے پر انہوں نے تھوڑا عجلت سے کام لیتے ہوئے کہا کہ مل لیتے ہیں آپ کون سا ایک دن کے لئے آئے ہو بات بہت ناگوار گزری مگر جب آپکا کوئی ایسا اقدام جو کسی دوسرے کی خاطر ہو اس کے نفع نقصان کا ذمدار بھی وہی ہوتا ہے لہذا بات کو میں نے سنی ان سنی کر دیا مزید ایک ہفتہ ملنے کے پلان بنتے اور کینسل ہوتے رہے مگر کوئی حتمی شکل اختیار نہ کر سکے ہمیشہ اُن کی طرف سے ہی یہ بات دہرائی جاتی کہ یار ہمارا سلطان باہو آنا ہوگا تو آپ سے بھی ملاقات ہو جائے گی مگر دن کا تعین کوئی نہ ہوسکا کہ آخر کب آنا ہے دوسرا ہفتہ مزید گزرنے والا تھا جو کہ میرا پنجاب میں آخری ہفتہ تھا اس کے بعد مجھے ھر حال میں واپس گوادر کمپنی کے پاس پنہنچا تھا
    میں نے کافی تگ و دو کر کے انکی ایک سہیلی فضا تک رسائی حاصل کی اور کافی منت سماجت کر کے اُنکو اس بات پر راضی کر لیا کہ اگر میں انکے شہر آجاؤں تو وہ مجھے فرخندہ سے ملوا دے گی بس جیسے میں یہی سننا چاہتا تھا
    میں اُسی وقت گھر سے کچھ دوستوں سے ملنے کے بہانے نکلا اور جھنگ جانے والی گاڑی پر بیٹھ کر کم و بیش 3 گھنٹوں بعد ہیر کے شہر پُہنچ گیا
    یہ تقریباً دوپہر 4 بجے کا وقت تھا یہ شہر میرے لیے انجان تھا مگر کچھ اسکول دوست جو یہاں ہاسٹل کی زندگی سے لطف اندوز ہو رہے تھے میرا اُن کو آنے کا بتا دینا مفید ثابت ہوا اور وہ آدھے گھنٹے کے اندر اندر مجھے لینے آ گئے ہاسٹل کی طرف جاتے ہووے میں نے اُنکو اپنے یہاں آنے کی وجہ بتائی جس سے وہ ناواقف تھے یہ سنتے ہی پتہ نہیں انکے شاطر ذہنوں نے بذریعہ زبان کیا کیا باہر نہیں نکالا سب خوب قہقہے لگانے لگے اور بار بار ہیر کا عاشق ہیر کا عاشق جیسے مزاحیہ نعرے لگانے لگے میں انکے اس مذاق سے بلکل خفا نہیں تھا ایک بھائ صاحب کے منہ سے مذاق مذاق میں نکل گیا کیوں نہ یار ہم پہلے اس عاشق صاحب کو ہیر رانجھا کے مزار پر لے جائیں بس آپ نے بول دیا تو سمجھو ہوگیا دوسرے دونوں نے یک زُبان ہو کر بولا
    فوراً ایک رکشے والے کو روکا جس میں پہلے سے دو عورتیں اور ایک بزرگ تشریف فرما تھے ڈرائیور نے مزار کا نام سنتے ہی بولا میں وہیں جا رہا ہوں دو بندے بزرگ کے ساتھ بیٹھ جائیں تیسرا میرے پیچھے بیٹھ جائے میری طرف اشارہ کر کے اور یہ جینز والا بچہ پیچھے لیڈیز کے ساتھ بیٹھ جائے مجھے یہ بات تھوڑی مشکل لگی کیوں کہ میں تقریباً پورے پاکستان کا سفر کر چکا تھا جس میں تقریباً 40 فیصد شہری علاقوں کا سفر رکشے کا تھا مگر ایسا کبھی بھی نہیں ہوا کہ لیڈیز کے ساتھ بیٹھ کر سفر کیا ہو مگر یہاں کرنا پڑا جس کی تشریح یہاں ممکن نہیں ہے
    رکشے میں بیٹھتے ہی میں نے فضا کو کال کی جس نے بتایا کہ وہ فیملی کے ساتھ ہے اور ہیر رانجھا کے مزار پر حاضری کے لیے آئی ہوئی ہے کیا کیا میرے منہ سے بیساختہ نکلا اس نے وہی بات دہرائی اور تو اور یہ بھی بتایا کہ فرخندہ بھی ساتھ ہے
    میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا رکشے میں خواتین کے درمیان جو منزل میری ہے وہیں وہ بھی آئی ہوئ ہے جس کو میں صرف نام سے جانتا ہوں
    آخر یہ کیا ہورہاہے میرے ساتھ میں انہیں گہرائیوں میں تھا کہ دوست نے بولا بھائ صاحب کہاں گم ہیں اب اُتر آئیں رکشے والے نے واپس جانا ہے
    یار کوئی سمجھ نہیں آرہی یہ کیسے ہو سکتا ہے میں نے دوبارہ فضا کا نمبر لگاتے ہوئے کہا
    مگر اس نے کال نہیں اٹھائی دوستوں کو یہ بات بتائی تو جو رہتی سہتی کسر تھی انہوں نے اس وقت نکال لی کہ کیسا عاشق ہے جو محبوب کو معذرت ہیر کو اپنے ہر وقت پاس پاتا ہے
    ہنستے ہوئے وہ مزار کی جو کہ ایک اونچے پہاڑ پر واقع ہے سیڑھیاں چڑھنے لگے اُسی دوران فضا نے کال اٹھا لی میں نے سب کو روک کر متوجہ کرتے ہووے اسپیکر آن کیا تو وہ بھی سن کر حیران ہووے کہ وہ یہاں کیسے مگر اس میں شک تو اس وقت ہوتا جب یہ بات صرف سننے سنانے کی حد تک ہوتی جب میں نے اسے بولا کہ میں بھی مزار ہیر پر ہوں تو وہ کافی پریشان ہوئی مگر ساتھ یہ بھی بول دیا کہ اگر یہیں ہو تو مزار کے صحن میں موجود اکیلے درخت کے نیچے بیٹھے ہیں آجاؤ بھلا۔۔
    حیرانی بھی خوشی بھی تذبذب کا شکار میں دوڑ کر سیڑھیاں چڑھ کے مزار کے مرکزی صحن میں پُہنچ گیا دوست میرے پیچھے آ پُہنچے یہ تقریباً 6 بجے کا وقت تھا سورج اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا وہی چہرے جو تین سال تک WhatsApp اور میسنجر پر دیکھے تھے اس ضعیف درخت کے نیچے کالے دوپٹوں میں تاریک رات میں روشن ستارے لگ رہے تھے میں نے بڑی بے تابی سے انکو ہاتھ ہلا کر سلام کیا بغیر کسی تعجب کے انہوں نے بھی ہاتھ ہلا کر سلام کا جواب دیا شک يقین میں تبدیل ہوگیا یہ فرخندہ اور فضا تھیں ساتھ میں انکے دو بھائ ایک ماں جی فضا کی امی اور ایک فرخندہ کے تایا جان تھے جن کا تعارف فضا نے مجھے میسیج پر واضح طور پر کرایا مزار پر حاضری کے دوران ایک طرف سے میں اور ایک طرف سے فرخندہ اور فضا داخل ہوئیں
    کسی دور میں ہاشم ندیم کا خدا اور محبت ڈرامے کا سین دیکھا تھا یاد آگیا بلکل اس دوران میں اسی حالت سے گزر رہا تھا حاضری کے دوران سلام و دعا کے بعد مختصر بات ہوئی جس میں فرضی حال احوال و مصروفیات پر بات چیت ہوئی منت کے محبت بھرے دھاگے فضا کے کہنے پر ایک دوسرے کے ہاتھ سے مس کروا کر مزار کے سرہانے جالی کے ساتھ باندھے گئے
    فضا ہمیں اکیلا چھوڑ کر تایا جان سے گھومنے کی اجازت طلب کر کے آگئی
    مزار سے نکل کر تھوڑا سیدھے ہاتھ پر ایک آئس کریم والے کی لگائی ہوئی کرسیوں پر جا بیٹھے میرے دوست کسی بھی انوکھی صورت حال سے بچنے کے لیے کافی متحرک نظر آرہے تھے باتوں میں اتنے مگن ہووے کہ سورج غروب ہونے لگا مگر باتیں تھیں کہ ختم نہیں ہوتی تھی مقامی لوگوں کے علاوہ باقی تمام لوگ گھروں کو جا رہے تھے اور ہم تھے کہ آئس کریم کی پرواہ کیا بغیر ایک دوسرے کو زیادہ سے زیادہ دیکھنے کی جدوجہد میں تھے تایا دو دفعہ کال کر چکے تھے اس سے پہلے کہ وہ ہمیں تلاش کرتے یہاں آجائیں اور معاملہ خراب ہونے لگے ہم نے محفل اس دُعا کے ساتھ کہ خدا کرے اکٹھے رہنا نصیب ہو برخاست کر دی
    وہ جیسے ہی رخصت ہوئیں یاروں نے گھیر لیا اور کافی مطمئن اور مردانہ باتیں کرتے ہوئے ہم لوگ قریب پارکنگ میں آکر کھڑے اُن کا انتظار کرنے لگے ہمارے پیچھے پیچھے وہ بھی آگئے ذاتی گاڑی ہونے کے باعث مجھے فون کرنے کا اشارہ کر کے وہ گاڑی میں بیٹھے اور چل پڑے ہم نے دوبارہ رکشہ پکڑا اور ہاسٹل کی بجائے ایک دوست کے ذاتی مکان پر آگئے ہاسٹل میں کیوں کہ میرا جانا کوئی مشکل کھڑی کر سکتا تھا اس لیے ہم نے وہاں نہ جا کر اپنی سائڈ safe کی مکان پر پُہنچ کر میں واش روم سے تھوڑا فریش ہوکر آیا تو ایک دوست نے بتایا کہ آپ کا فون بج رہا ہے
    میں نے بات کی تو فضا نے بتایا کہ آپ کہاں ہیں میں بولا یہیں آپ کے شہر میں کیوں۔۔۔؟ اس نے تھوڑا زور دے کر بولا
    میں نے کہا کل ایک اور ملاقات ہو جائے تو میں چلا جاؤں گا مگر اس نے واضح بتایا کہ یار اب کل ایسا ممکن نہیں یہ بھی آپکے نصیب تھا ورنہ میں تو آپ سے معافی مانگنے والی تھی
    لہٰذا ویسے یہاں روکنا ہے تو خوشی سے رہو مگر ہماری وجہ سے پلز نہیں رکیں اور فون بند کر دیا میں نے فرخندہ کو کال کی اس نے بھی یہی بات دہرائی اب کیا ہوسکتا تھا رات دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں گزری صبح جلدی میں نے بس پکڑی اور گاؤں واپس آگیا اور اس سے اگلے دن ملتان ائیر پورٹ سے گوادر پُہنچ گیا
    خوشیوں سے دامن بھرا ہوا تھا حسب معمول اُن سے بات ہو جاتی تھی چھے ماہ تقریباً اسی طرح چلتا رہا پھر ایک دن فرخندہ نے بتایا کہ وہ پنجاب یونی ورسٹی لاہور جا رہی ہے جہاں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد job بھی کرے گی اور وہیں خالہ کے ہاں رہے گی ایک دوست کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی ہو سکتی ہے کہ اس کا دوست ایک اچھے لیول پر ہو
    لاہور جانے کے ایک ماہ بعد اس نے رابطہ میں تھوڑی کمی کر دی میں نے ایک دن فضا سے رابطہ کر کے اسے اس صورتحال سے آگاہ کیا تو اس نے بتایا کہ اس کی وجہ اس کی خالہ ہے جس کی اس پر کڑی نگرانی ہے اور تایا جان کے مطابق اُسکی شادی بھی خالہ زاد سے ہی ہونے جا رہی ہے اور یہیں کہانی کو نیا موڑ آیا حسب معمول ایک دن میں نے فرخندہ کو کال کی تو آگئے کسی خاتون نے فون اٹھایا میرے پوچھنے پر کہ وہ کدھر ہے اس نے کوئی جواب دیے بغیر فون بند کردیا پریشانی کا ایک طوفان تھا جو میرے اندر اور باہر مجھے پھاڑ دینے کی ضد پر تھا میسج اس لیے نہیں کیا کہ کوئی نیا مضمون نہ کھل جائے
    فون کی سکرین پر نظر تھی whatsaap آنلائن تھا کچھ میسیج لکھتا مگر سینڈ کیے بغیر کاٹ دیتا اسی دوران فضا کو کال کر کے معاملے سے آگاہ کیا تو اس نے بتایا کچھ نہیں کہہ سکتی انتظار کریں خدا خیر کرے گا
    رات مشکل سے نیند آئی صبح نو بجے آنکھ کھلی تو سب سے پہلے موبائل فون دیکھا جس میں فرخندہ کی ایک مس کال ایک میسیج آیا ہوا تھا کال تو پتہ نہیں کیوں کی مگر میسیج میں صرف Sorry and Good bye لکھا ہوا تھا میں نے نمبر ملایا تو بند تھا WhatsApp پر بھی خود کو بلاک پایا بس اب فوراً فضا کو کال کی تو اس نے یہ کہہ کر کال کاٹ دی کہ مجھے سب پتہ ہے میں جب چاہوں گی آپکو call کروں گی آپ مجھے کال نہ کرنا شکریہ
    حالات نے اس کے بعد کچھ ایسے ایسے امتحان لیے جو بتا نہیں سکتا پہلی بار زندگی میں ایسا ہوا تھا پہلی محبت پاش پاش ہوتی نظر آرہی تھی ایک ماہ چھے ماہ ایک سال حتیٰ کہ دو سال اذیت سے گذرے جن کا احوال بیان نہیں کرسکتا ہوں
    آجکل کراچی ہوں
    فروری 2021 دو ہفتے پہلے ایک نئے نمبر سے کال آئی بات کی تو پتہ چلا فضا ہے اور یہ اس کے شوہر کا نمبر ہے حال احوال کے بعد اس نے فرخندہ کا پوچھا تو میں نے اسے ایک مشہور شاعرہ ماہم صفدر کا شعر بھیجا جو کچھ یوں ہے

    فون نمبر بلاک کر ڈالے
    پھر بھی قائم ہے رابطہ دل کا

    اس کے آدھے گھنٹے بعد ایک اور نئے نمبر سے کال آئی ہیلو کرتے ہے مجھ پر سکتا طاری ہو گیا جیسے زُبان میں بولنے کی ہمت ہی نہ ہو
    فرررخندہ میں نے ہچکچاتے ہوئے کہا!
    جی انہوں نے بولا کیا حال ہیں بس آپکی دعا ہے آپ سناؤ انہوں نے بغیر کسی تعجب کے بولا
    انہوں نے یہ کہہ کر کال کاٹ دی کہ میرا یہ نمبر save کر لیں شام کو بات ہوگی
    فون کاٹ دیا گیا خوشی سے آنسو نکل آئے تھوڑا سوچا تو اس کا سارا کریڈیٹ ماہم صفدر کے نام کیا جس کے دو مصرعوں نے میری دو سال کی باتوں کو یک مشت پیش کیا اور شعر کہتے بھی اُسے ہیں
    اب تھوڑا ماہم صفدر کے بارے میں
    انکا نام ماہم صفدر ہے
    ماہم حیا صفدر قلمی نام ہے اور تخلص حیا ہے
    تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ کےایک نواحی گاٶں سے ہے۔ میٹرک ماموں کانجن سے فرسٹ ڈویژن میں کیا۔ ایف ایس سی پنجاب کالج فار وویمن فیصل آباد سے فرسٹ ڈویژن میں پاس کی۔ تعلیمی سلسلہ ابھی جاری ہے۔ بی ایس آنرز ان باٸیو کیمسٹری کا فاٸنل اٸیر ہے گورنمنٹ کالج وویمن یونیورسٹی مدینہ ٹاٶن فیصل آباد سےکیا ہے ان کا تعلیمی ریکارڈ امتیازی اور شاندار ہے
    انہیں بچپن سے ہی پڑھنے کا شوق تھا۔ چھٹی ساتویں سے ہی نسیم حجازی، اشفاق احمد، عینی آپا، پریم چند اور بانو قدسیہ کو پڑھنا شروع کر دیا۔
    شاعری میں علامہ اقبال، جون ایلیا، میر تقی میر، مرزا غالب، پروین شاکر، محسن نقوی وغیرہ کو پڑھتی ہیں
    جدید دور میں پسندیدہ شعرا اظہر فراغ، دانش نقوی، کومل جوٸیہ، عمیر نجمی وغیرہ پسند ہیں۔
    عمیرہ احمد، نمرہ احمد، سمیرا حمید، ہاشم ندیم وغیرہ جیسے راٸٹرز کے ساتھ دیگر نٸے راٸٹرز کو بھی شوق سے پڑھتی ہیں۔
    مختلف اخبارات میں کالم نگاری کرتی ہیں شعر و شاعری سے دیرینہ شغف ہے سو پڑھنے کے ساتھ ساتھ غزل اور نظم میں بھی طبع آزماٸی کرتی ہیں
    سو لفظی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ بہت جلد ناول لکھنے کا
    ارادہ بھی رکھتی ہیں
    مشن اچھا اور اصلاحی ادب تخلیق کرنے میں اپنا معمولی سا کردار نبھانا چاہتی ہیں
    شاعری، ناول نگاری اور سکرپٹ راٸٹنگ میں کام کرنے کی خواہش ہے خدا انکو سلامت رکھے
    شام کو وعدے کے مطابق اُن کی کال آگئی ڈھیر ساری باتیں ہوئیں ڈھیر ساری شکایات دور ہوئیں اس نے بتایا کہ فضا سے میرا رابطہ ہوا تھا میں نے اسے بولا کہ وہ میرے بارے کیا سوچتا ہے ذرا پوچھ کر بتائے جب اس نے آپکو کال کی تو آپ نے یہ شعر بھیجا جس پر اس نے مجھے وہی شعر سنایا تو میں سمجھی آپ سے بات کر لی جائے کیوں کہ تھوڑے دن پہلے میری شادی ہوئی ہے آپ کا اور میرا ملنا قسمت میں شاید نہیں لکھا تھا اور کچھ ہم بھی قسمت سے لکھوانے میں قاصر رہے میرے سے لاکھوں درجے خوبصورت حصہ دار آپکو ملے گی انشاءاللہ مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو معاف کر دینا اگر کوئ بات کرنی ہو تو ضرور کرنا کیوں کہ میں اپنی یہ job چھوڑ کر اپنے شوہر کے ساتھ اگلے ہفتے دوبئی جا رہی ہوں
    اس کے بات کرتے وقت اس کے الفاظ میں ذرا سی بھی اُداسی شامل نہیں تھی اور نہ ہی وہ پریشان نظر آ رہی تھی بلکہ بے حد خوش لگ رہی تھی اور میں اس کے علاوہ اب چاہتا ہی کیا تھا کہ وہ جہاں رہے خوش رہے میں نے اُسے فقط اتنا ہی کہہ کر کال منقطع کر دی کہ جس شاعرہ کے ایک شعر نے ہمیں ملایا ہے اُسی کی ایک یہ غزل آپکے نام خدا حافظ
    غزل

    مرے اچھے بھلے دل کو یونہی بیکار کر ڈالا
    تری تیمارداری نے مجھے بیمار کر ڈالا

    کبھی ٹکنے نہیں پاٸی ترے اظہار کی سوٸی
    کبھی اقرار بخشا تو کبھی انکار کر ڈالا

    تری بےحس طبیعت نے مری نیت کو بدلا ہے
    تری من مانیوں نے ہی مجھے بیزار کر ڈالا

    کہانی گر کو یہ بولو کہ لیلیٰ سچ میں عاشق تھی
    وہ اک زندہ حقیقت تھی جسے کردار کر ڈالا

    ذرا سی بات پر آخر تعلق ختم کر بیٹھے
    کسی روزن کو ہم نے بھی حیا دیوار کر ڈالا

    تحریر۔۔۔ 131
    عنوان۔۔۔ رابطہ دل کا
    ازقلم۔۔۔۔ جاوید خان تشنہ
    انتساب۔۔۔ ماہم حیا صفدر
    بتاریخ۔۔۔ 27=02=2021

    نوٹ! یہ غیر حقیقی اور ایک تخیلاتی تحریر ہے رشتہِ دار کسی چکر میں نہ پڑیں شکریہ 💯

    Love from Karachi 💓

  8. Saffan Safdar says:

    ماشاء اللہ جیو اللہ تعالی تم کو اپنے حفظ امان میں رکھے اور تمہارا نام ادب کے آسمان پر قطب ستارے کی طرح چمکے جس سے دوسرے ادیب راہنمائی لیں. 😍

  9. Adil Imtiaz says:

    Masha Allah Sister!
    So pleased to see u doing such great things…May Allah give u more n more success and honor (Ameen)
    And best wishes for yur next adventure

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *