انٹرویو۔۔۔عجوہ نور

السلام علیکم میں ہوں ساجدہ چوہدری آل پاکستان رائیٹرز ویلفئیر ایسوسی ایشن تنظیم کی جانب سے ملک کی نامور شخصیات کا انٹرویو لینے کےلیے اپنے دلچسپ سوالات لیےحاضر ہوں انٹرویو کےلیے میرے ساتھ موجود ہیں ” بہاولپور” سے تعلق رکھنے والی ادبی دنیا کی کم عمر لکھاری بہت پیاری شخصیت انتہائی قابل محترمہ “عجوہ نور”(قلمی نام) ، سعدیہ عبد الکریم (حقیقی نام)
اسلام علیکم کیسی ہیں آپ؟ ؟بہت شکریہ آپ نے اپنا قیمتی وقت نکالا.
“وعلیکم السلام! جی کوئی بات نہیں۔ محبتیں اور پیار بانٹنے سے بڑھتا ہے۔ ہم شاعر لوگ تو ویسے بھی معاشرے میں مثبت چیزوں کو فروغ دینا چاہتے ہیں سو تکلف کیسا۔”
“اپنے بارے میں کچھ بتائیے
(کب اور کہاں پیدا ہوئیں تعلیم مشاغل قریبی دوست وغیرہ وغیرہ )
یکم اکتوبر 1995 کو بہاولپور کے ایک نجی ہسپتال میں ایک بہت حساس بچی نے آنکھیں کھولیں۔ جس نے اپنے شہر کے بہترین ادارے سے بی ایس سی کی۔
مجھے ذاتی طور پر کتابیں پڑھنا، پودوں کی دیکھ بھال کرنا، پرندوں کا خیال رکھنا پسند ہے۔
دوستوں کے معاملے میں آپ مجھے آدم بیزار کہہ سکتی ہیں۔ مجھے اپنے آپ کے ساتھ وقت گزارنا پسند ہے بہ نسبت دوستوں کے۔
اور میں سمجھتی ہوں کہ اس نفسا نفسی کے دور میں مخلص دوستوں کی شدید ترین قلت ہے۔
کچھ میں خلوص اور اچھے دوستوں سے محروم رہی ہوں۔ سو ایسا کوئی دوست نہیں۔
ہاں بس میں اپنے رب سے باتیں کرتی ہوں۔ اس کو دل کا حال سناتی ہوں۔
: لکھنے کی ابتدا کب اور کس عمر سے کی اور سب سے پہلی تحریر کونسی لکھی ؟
میں بچپن سے ہی لکھتی ہوں۔ جماعت ہشتم کی طالبہ تھی تب سے۔ البتہ کبھی کچھ پبلش نہیں کروایا۔ کیونکہ اجازت نہیں تھی۔
ہمارے معاشرے میں فنونِ لطیفہ اور ادبی سرگرمیوں کو بہت منفی طور پر لیا جاتا ہے۔ یا پھر شاید میرا تعلق ایسے گھرانے سے ہے جہاں اس سب کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ مگر اب الحمدللہ اپنے حقیقی نام سے لکھتی ہوں۔
آپ بتائیں فطرتاً کیسی انسان ہیں موڈی یا خوشگوار سی ؟
میں فطرتاً بے حد حساس ، پر خلوص اور درویش منش سادہ دل لڑکی ہوں۔
مگر موڈی میں بہت ہوں جب اداس ہوں تو میرے سوا کوئی مجھے ہنسا نہیں سکتا۔
غصہ جلدی آ جاتا ہے۔ اور اکثر اپنا ہی نقصان کر بیٹھتی ہوں۔ چاہتی ہوں یہ عادت کنٹرول ہو جائے مگر نہیں کر پاتی۔ کیونکہ میں بہت صاف دل کی ہوں تو منافقت ہرگز برداشت نہیں ہوتی۔

: کس طرح کے لوگ آپ کو متاثر کرتے ہیں اور کس طرح کے لوگوں سے نفرت محسوس ہوتی ہے ؟

حقیقت پسند ہوں۔
سادگی پسند ہے۔
سو مجھے منافقین سے شدید چڑ ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کی کمپنی میں الجھن سی ہوتی ہے۔
آپ کے خیال میں تنقید کرنا ضروری ہوتا ادب میں کسی کی اصلاح کےلیے؟؟اور تنقید کرتے وقت کس چیز کا ہونا ضروری ہے ؟؟

جی بالکل تنقید بہت ضروری ہوتی ہے۔ مگر خیال رکھنا چاہیے کہ سامنے والے کی عزت نفس نہ کچلی جائے۔
تنقید کرنے کے لیے معیار، اصول اور تجربے کا ہونا بہت ضروری ہے۔
ادبی دنیا میں کن شخصیات سے آپ متاثر ہیں ؟

ادبی دنیا میں ہمارے بہاولپور کی ہی کئی شخصیات ہیں جیسے ڈاکٹر جاوید اقبال، نوشی گیلانی، اور بھی بہت سارے لوگ ہیں۔

آپ کے خیال نئے لکھنے والوں کو کن باتوں پر عمل کرنا چاہیے تاکے انکی تحریروں میں نکھار آسکے..؟؟؟

ان کو خود کو نکھارنے کے لیے اپنی تحریروں کا خود تین سے چار بار تنقیدی جائزہ لینا چاہیے پھر سب سینیرز کی رائے بھی لینی چاہیے۔ تاکہ ان میں نکھار پیدا ہو۔

آج تک جو لکھا اپنے لکھے سے مطمئن ہیں یا کوئی تشنگی کوئی کمی محسوس ہوتی ہے ؟

ابھی تو شروعات ہیں۔ ابھی تو قلم سے تعلق نبھانا ہے۔ اس کی لاج نبھانی ہے۔ بہت آگے جانا ہے۔ بے حد تشنگی ہے ابھی۔

اپنی تخلیقات ہمارے قارئین کے ساتھ بھی ۔شئیر کیجئیے اپنی کوئی تحریر یا شاعری؟

غزل

منزلوں کی جستجو اک مسئلہ معلوم ہو
چاہتی ہوں ہر کسی کو راستہ معلوم ہو

خود شناسی کی منازل طے کرے ہر آدمی
بس خدا تک پہنچنے کا ضابطہ معلوم ہو

روشنی کا فیض ہو اب ہر طرف کچھ اس طرح
ہر بشر کو آگہی کا زاویہ معلوم ہو

تیرگی میں اک دیا جو ٹمٹماتا ہے ابھی
ظلمتوں کے دور میں وہ معجزہ معلوم ہو

مٹ گئیں سب حسرتیں اے زندگی پر سن ذرا
جس جگہ دل تھا وہاں اب آبلہ معلوم ہو

سب لبوں پر جگمگائے مسکراہٹ بے ریا
وحشتوں کا نا ذرا سا شائبہ معلوم ہو

تھی محبت تو اسے بھی ابتدا میں ہاں مگر
بعد میں بس دل دکھانا مشغلہ معلوم ہو

اس ستم گر کے بنا تو ہر غزل ہی مسترد
وہ مجھے میری غزل کا قافیہ معلوم ہو

ہے دکھوں سے نور کی اتنی پرانی دوستی
کرب ہی اس کا مجھے تو آئینہ معلوم ہو

✍️عجوہ نور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل

اک دیا جلتا رہا دربار میں
روشنی ہونے لگی سنسار میں

گفتگو کرنے لگا جب اک فقیر
عاجزی مجھ کو ملی گفتار میں

یہ زمانہ پوچھتا ہے کیا دیا
ہم لٹا سب کچھ چکے ایثار میں

راز کچھ تو ہے،خموشی چھا گئی
مصلحت ہے اک چھپی انکار میں

بات دل کی یوں نہیں بولا کرو
کان ہوتے ہیں میاں دیوار میں

اک کلی کو نوچنے سے کیا ہوا
بس خبر ہی تو لگی اخبار میں

بیٹیوں نے اب محبت چھوڑ دی
رکھ چکیں ارمان سب دستار میں

دوستوں کی سازشوں سے بے خبر
آگ کیوں کر یہ لگی گلزار میں

اک ترا جب تذکرہ ہونے لگا
نبض تب چلنے لگی رفتار میں

بس تری صورت دوا ہے دل ربا
زندگی پھر آ گئی بیمار میں

خودبخود سب پیش ہوں اب با ادب
ہو کشش کچھ نور کے کردار میں

✍️ عجوہ نور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کو کیا لگتا ہے انٹرنیٹ کا استعمال دور جدید کی ضرورت ہے یا معاشرے پر اسکے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ؟

جی مثبت اور منفی پہلو تو ہر چیز کے ہوتے ہیں۔
انسان اس کو کیسے استعمال کرتے ہیں ان قواعد و ضوابط کا جاننا بے حد ضروری ہے۔
بحیثیت عورت آپ کو اپنی حدود کا خود علم ہونا چاہیے تاکہ کوئی بھی ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔ عورت اپنی محافظ خود ہوتی ہے۔
ہاں بچوں کو گیجٹس سے دور رکھیے۔ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیے۔ کیونکہ وہ جو کچھ دیکھتے ہیں اسی کا اثر ان کی شخصیت پر پڑتا ہے۔

آپ کو آپ کی اپنی کسی تحریر سے محبت ہوئی ؟

دیکھیں لکھنے والے کو تو اپنی ہر تخلیق سے عشق ہوتا ہے۔ مجھے بھی ہے۔
مگر جب میرے پڑھنے والے ایک بھی لفظ میری تعریف یا تنقید میں بولتے ہیں تو اس وقت بے حد خوشی ہوتی ہے کہ میرے الفاظ اکارت نہیں جا رہے بلکہ ان کو لوگ پڑھتے ہیں۔ سمجھتے بھی ہیں۔
میرا ایک ہی مقصد ہے مجھے اپنی اور معاشرے کی اصلاح کرنی ہے۔

اگر آپ کو اپنی شخصیت کو ایک لفظ میں لکھنے کا کہا جاۓ تو ؟

” الجھا سوال ”

اپنے ساتھی لکھاریوں میں سے آپ کس کو پسند کرتی ہیں ؟

طوبیٰ کرن، مون شاہ،
اروی عمران

کسی انسان کی ایسی نصیحت جو آپ نے اپنے پلو سے باندھ لی ہو اور جو آپ کے کام بھی آئی ہو … ؟؟؟

میرے تایا ابو کی بات کہ ” اپنی پہچان اپنے بل بوتے پر بناؤ۔ تاکہ کل کو جب تم کوئی مقام حاصل کرو تو تمھیں خوشی ہو کہ یہ میری اپنی محنت کا ثمر ہے”
اور بس میں آج تک اسی پر عمل پیرا ہوں۔ آج میں جو کچھ ہوں اپنی محنت اور میرے رب کا فضل و کرم ہے۔

آپ کیا سمجھتی ہیں موجودہ دور میں عورت کا معاشی طور پر مضبوط ہونا کتنا ضروری ہے ؟

عورت کا معاشی طور پر مضبوط ہونا بے حد ضروری ہے۔ تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔ اپنے فیصلوں میں با اختیار ہو سکے۔
ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں تو یہ وقت کی اہم ترین ضرورت بن گئی ہے۔ سو میں سب والدین سے گزارش کروں گی خدارا اپنی بچیوں کو پڑھائیں۔ اور ان کے خوابوں کو پورا کرنے میں ان کا بھرپور ساتھ دیں۔
اسی کے ساتھ میں بچیوں کو بھی کہنا چاہوں گی کہ اپنے والدین کے دیے گئے اعتماد اور یقین کی لاج رکھیں ان سے زیادہ مخلص ہستی آپ کو کہیں نہیں ملے گی۔

جو لوگ لکھنا چاہتے ہیں مگر آگے بڑھنے میں بے حد دشواریوں کا سامنا ہے انہیں کیا کہنا چاہیں گی ؟؟؟

لکھتے رہیں بس لکھتے رہیں اگر آپ کی لگن سچی ہے تو قدرت آپ کے لیے خود بخود راستے ہموار کرے گی۔ آپ کو خود پتہ نہیں چلے گا کہ میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔

اپوا تنظیم کے لیے کچھ کہیں گے؟؟؟

اپوا لکھاریوں کی نمائندہ تنظیم پورے ملک کے لکھاریوں کو ایک پرچم کے نیچے بلا تفریق اکٹھا کر دینے کا جو فریضہ انجام دے رہی ہے یقین کیجیے رب آپ کو اس کا بہترین اجر دے گا علی بھائی اور ان کی پوری ٹیم کے لیے نیک خواہشات۔

لوگ نشانی کے طور پر اپنے پیچھے کچھ نا کچھ تو ورثے میں چھوڑتے ہیں آپ کیا چھوڑ کر جائیں گی ؟؟؟

میں بس اپنے الفاظ میں زندہ رہنا چاہتی ہوں۔ میری تحاریر، شاعری یہی میرا کل اثاثہ ہے۔
میری خواہش ہے کہ ہماری نوجوان نسل کی ایک پیڑھی تو مجھے یاد رکھے۔

ساجدہ چوہدری. ..بہت شکریہ اللہ پاک آپکو کامیابیاں نصیب فرمائے …..اللہ حافظ

.

318 total views, 24 views today

3 Responses to انٹرویو۔۔۔عجوہ نور

  1. زویا کنول says:

    ماشاءاللہ بہت پیارا انٹرویو
    سعدیہ جیتی رہو

  2. Awais Qarni says:

    ماشاءاللہ زبردست انٹرویو ۔۔۔ مولا مذید کامیابیاں عطاء فرمائے آمین ۔۔ آپ کیلئے ڈھیروں دعائیں

  3. ماہم صفدر says:

    بہت دعاٸیں۔ ماشا اللّٰہ بہت خوب۔اچھا لگا آپ کو جان کر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *