انٹرویو ثمینہ طاہر بٹ

اسلام علیکم میں ہوں ساجدہ چوہدری آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن تنظیم کی جانب سے ملک کی نامور شخصیات کا انٹرویو لینے کےلیے اپنے دلچسپ سوالات لیےحاضر ہوں انٹرویو کےلیے میرے ساتھ موجود ہیں لاہور سے تعلق رکھنے والی ادبی دنیا کی بہت پیاری شخصیت انتہائی قابل محترمہ ثمینہ بٹ طاہر صاحبہ
اسلام علیکم
وعلیکم اسلام
کیسی ہیں آپ؟ ؟
الحمدللہ میں بالکل ٹھیک ہوں ۔ اور آپ سب کے لیئے دعا گو ہوں ۔ پاک آپ سب کو اپنی امان میں رکھے اور مجھے بھی۔اللہ
بہت شکریہ آپ نے اپنا قیمتی وقت نکالا.

“اپنے بارے میں کچھ بتائیے
(کب اور کہاں پیدا ہوئیں تعلیم مشاغل قریبی دوست وغیرہ وغیرہ )

جی ، میں لاہور میں پیدا ہوئی۔ یہیں پلی بڑھی اور شادی بھی لاہور میں ہی ہوئی ۔ آپ کہہ سکتی ہیں کہ لاہور میرا میکہ بھی ہے اور سسرال بھی۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ سیر و سیاحت کے سلسلے میں تقریبا آدھا پاکستان گھوم چکی ہوں الحمداللہ۔
اور جہاں تک بات ہے تعلیم کی تو بنیادی اور ابتدائی تعلیم سر سید کیمبرج اسکول بیڈن روڈ لاہور سے حاصل کی۔ میٹرک نیو سینٹ میری ہائی اسکول شادباغ سے کیا ۔ انٹر خواتین ڈگری کالج شادباغ سے کیا اور گریجوئشن پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔ پھر شادی ہو گئی اور یوں تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔

: لکھنے کی ابتدا کب اور کس عمر سے کی اور سب سے پہلی تحریر کونسی لکھی ؟

میں نےلکھنے کی ابتدا بہت کم عمری سے کر دی تھی۔ اورپڑھنے کا جنون تو تب سے ہے جب شاید مجھے لفظوں کی پہچان بھی نہیں تھی۔ میرےپڑھنے کے شوق کو دیکھتے ہوئے میرے ابو جی نے بچوں کے لیئے چھپنے والے تمام رسالے اور مگیزین مجھے لگوا دئےتھے۔ ایک پلندہ آتا تھا میگزینز کا ہر ماہ گھر میں جیسے میں دنوں چاٹ جایا کرتی۔ ابو جی کو اخبار بینی کا شوق تھا اور اس وقت کے تمام بڑے اخبار ہمارے گھر آیا کرتے تھے۔ میں وہ بھی پڑھ لیتی ۔ حتی کہ کالمز بھی۔ بس پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ جنون بڑھتا گیا اور پھر شاید کلاس فورتھ میں میں نے ایک کہانی لکھی جیسے ابو جی نے مجھے بتائے بغیر بچوں کے مشرق میں بھیج دیا اور مزے کی بات وہ کہانی چھپ بھی گئی ۔ اور مجھ سے زیادہ میرے ابو خوش تھے۔ وہ دن میرے لیئے بہت بڑا تھا کیونکہ ابو نے میری پہلی تحریر کو کسی اعزاز کی طرح سنبھال کر رکھا اور پھر اس کے بعد آنے والی ہر تحریر ابو نے اسی طرح اپنے پاس محفوظ کیا۔ پھر کالج لائف میں بھی کچھ نہ کچھ لکھتی رہی لیکن وہ سب تحریریں محفوظ نہیں رہ سکیں ۔ شادی کے بعد وقتی طور سے قلم سے ناطہ ٹوٹ گیا لیکن اندر کہیں ایک تشنگی محسوس ہوتی تھی۔ ایک بے نام سی بے چینی ہر وقت کچوکے لگاتی رہتی تھی۔2005 میں ابو جی داغ مفارقت دے گئے اس کے بعد سچ میں قلم ہاتھ سے جیسے چھوٹ ہی گیا۔ وقت اور حالات نے میرے ہاتھ باندھے دئے۔ پھر 2012 میں زندگی سے یو ٹرن لیا اور میرے میاں صاحب کو بھی ماشاء اللہ پڑھنے کا بہت شوق ہے۔ انہوں نے میری دوبارہ قلم کاغذ سے دوستی کروائی۔ میں نے پھر سے لکھنا شروع کیا اور مختلف ڈائجسٹوں میں اپنی تحریریں بھیجنی شروع کیں۔ اللہ کا کرم ہوا اور تیسرے ماہ ہی حنا میں میرا پہلا ناولٹ لاج چھپ گیا۔ پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔ اب تک ملک کے تقریبا تمام بڑے ڈائجسٹوں اور آن لائن بلاگز اور ویب سائٹس ہر میرے افسانے ناولز اور ناولٹس چھپ چکے ہیں۔ چند کالمز بھی لکھے ہیں جو شائع ہو کر سند قبولیت پا چکے ہیں۔پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا کا سفر بھی طے کیا۔ اب تک تین سئیرئلز لکھ چکی ہوں الحمدللہ ۔ ایک سوپ لکھ رہی ہوں۔ ایک سیرئل شوٹ پر ہے دوسرا جانے والا ہے اور ایک آئر ہونے والا ہے الحمداللہ۔

آپ بتائیں فطرتاً کیسی انسان ہیں موڈی یا خوشگوار سی ؟

فطرتا تو میں خاموش طبع ہوں۔ موڈی نہیں کہہ سکتے۔ سب سے خوش دلی سے ملتی ہوں الحمد للہ اور بولنے سے زیادہ سننا پسند کرتی ہو لیکن جہاں ضرورت ہو وہاں خوب بولتی بھی ہوں۔

: کس طرح کے لوگ آپ کو متاثر کرتے ہیں اور کس طرح کے لوگوں سے نفرت محسوس ہوتی ہے ؟

خوش مزاج اور پر خلوص انداز سے ملنے والے لوگ بہت اچھے لگتے ہیں مجھے اور نفرت تو میں کسی سے بھی نہیں کر سکتی۔ کیونکہ سب اللہ کے بندے ہیں اور اللہ کے بندوں سے نفرت کیسے کی جا سکتی ہے بھلا۔ ؟ اس لیئے میں کسی سے نفرت نہیں کر سکتی ۔

آپ کے خیال میں تنقید کرنا ضروری ہوتا ادب میں کسی کی اصلاح کےلیے؟؟اور تنقید کرتے وقت کس چیز کا ہونا ضروری ہے ؟؟

تنقید اگر اصلاح کے لیئے کی جائے اور اس انداز می کی جائے کہ اگلے بندے کو برا بھی نہ لگے اور اس کی اصلاح بھی ہو جائے تو ٹھیک ہے لیکن اگر ہماری تنقید سے کسی کا حوصلہ ہی پست ہو جائے اور وہ لکھنا ہی چھوڑ دے تو ایسی تنقید کا کوئی فائیدہ نہیں۔ ایسی تنقید سے بہتر ہے کہ آپ خاموشی سے آگے بڑھ جائیں اور اگلے کو بھی آگے بڑھنے دیں۔

ادبی دنیا میں کن شخصیات سے آپ متاثر ہیں ؟

بہت سی شخصیات ہیں۔ میں نے کہا ناں میرا تو اوڑھنا بچھونا ہی لکھنا پڑھنا رہا ہے۔ قدرت اللہ شہاب صاحب ، اشفاق احمد صاحب ، مستنصر حسین تارڑ صاحب، بانو قدسیہ صاحبہ، رضیہ بٹ صاحبہ، نسیم حجازی صاحب، ممتاز مفتی صاحب، ایم اے راحت صاحب
اور کس کس کا نام لکھوں فہرست بہت طویل ہو جائے گی۔ اسی طرح شاعری کے میدان میں بھی یہی حال ہے۔ بہت لمبی لسٹ سے فیورٹ شعرا کی۔

آج تک جو لکھا اپنے لکھے سے مطمئن ہیں یا کوئی تشنگی کوئی کمی محسوس ہوتی ہے ؟

اگر مطمئن ہو گئی تو مزید کیسے لکھ پاوں گی۔ یہ تو ایک طرح کی خلش ہی ہوتی ہے ہم سے بہتر اور بہتر اور بہترین لکھوانے کا سبب بنتی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ابھی میں مطمئن نہیں ہوئی لیکن کچھ ایسی غیر مطمئن بھی نہیں ہوں۔

اپنی تخلیقات ہمارے قارئین کے ساتھ بھی ۔شئیر کیجئیے آپنی کسی فیورٹ تحریر کا نام یا اپنی شاعری؟

میں نے بہت سے افسانے ناولٹس اور ناولز لکھے ییں ۔ پرل پبلی کیشن کے بینرز تلے شائع ہونے والے شمارے سچی کہانیاں اور دوشیزہ میں چھپنے والے میرے ناولز خوش ہو کہ بھنور باندھ لیئے اور عشق کی شاخ کا الو پر مجھے بیسٹ رائیٹر آف دا ایر کے ایوارڈز بھی مل چکے ہیں ۔ دو افسانوں کے مجموعوں میں میرے افسانے شامل ہیں۔ ایک بزم سخن اور دوسرا خوابوں کے جزیرے۔
یوں تو ہر تحریر ہی لکھاری کو اپنے بچے کی طرح عزیز ہوتی ہے اور بچوں میں فرق کیا نہیں جا سکتا ۔ اس لیئے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ کون سی تحریر میری فیورٹ ہے ۔ لیکن دو ناولٹس ایسے تھے جو میں نے واقعی دل سے لکھے اور لکھتے ہوئے میں روئی بھی۔ ایک جگر ہو جائے گا چھلنی اور دوسرا کھارے پانی جیسا پیار۔

آپ کو کیا لگتا ہے انٹرنیٹ کا استعمال دور جدید کی ضرورت ہے یا معاشرے پر اسکے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ؟

انٹرنیٹ اس دور کی اہم ضرورت ہے۔ اس کی وجہ سے اتنی آسانیاں پیدا ہو چکی ہیں اب ساری دنیا ہمارے ایک ٹچ کے فاصلے پر آ چکی ہے۔ انٹرنیٹ کی وجہ سےہی دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے اور ہم گھر بیٹھے سات سمندر پار بسنے والے اپنے پیاروں سے بات بھی کر سکتے ہیں اور انہیں دیکھ بھی سکتے ہیں۔ جہاں تک بات منفی اثرات کی یے تو یہ ہر انسان کی اپنی چوائس یے۔ آپ اگر کسی چیز کا مثبت استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اس کا مثبت فائیدہ ہی آپ کے سامنے آئے گا۔ اور اگر آپ اسے منفی انداز سے لیں گےتو نتیجہ بھی منفی ہی نکلے گا۔ سو اگر ہم اپنی سوچ کو پازیٹو رکھیں تو انٹر نیٹ جیسی سہولت کا نعم البدل کوئی اور نہیں ہو سکتا۔

آپ کو آپ کی اپنی کسی تحریر سے محبت ہوئی ؟

محبت تو مجھے اپنی سب تحریروں سے یے لیکن میں نے جو سب سے پہلا سیرئل برزخ لکھا تھا اس کے کرداروں سے مجھے عشق ہو گیا تھا خاص طور سے فرہدہ ، مراد ، اور ر یحان کے کردار سے۔ پھر حال یی میں ایک پراجکیٹ مکمل کیا ہے اس کے دو کردار میرے موسٹ فیورٹ ہیں ایک بے جی اور دوسرے چوہدری صاحب۔ باقی ناول اور افسانوں میں سب ہی پسندیدہ ہیں میرے۔

اگر آپ کو اپنی شخصیت کو ایک لفظ میں لکھنے کا کہا جاۓ تو ؟

خلوص اور محبت

اپنے ساتھی لکھاریوں میں سے آپ کس کو پسند کرتی ہیں ؟

ساتھی لکھاریوں کی لسٹ بھی بہت طویل ہے۔ مصباح نوشین۔ نایاب جیلانی۔ صائمہ اکرم چوہدری۔ اپوا کے سب لکھاری ۔ فائزہ افتخار۔ اقبال بانو۔ نزہت ثمن
اور اور سب۔ سب بہت اچھا لکھتے ہیں اور میں سب کو بہت شوق سے پڑھتی ہوں

کسی انسان کی ایسی نصیحت جو آپ نے اپنے پلو سے باندھ لی ہو اور جو آپ کے کام بھی آئی ہو … ؟؟؟

میں سب کی نصیحتوں کو غور سے سنتی ہوں اورالحمد اللہ پلو سے بھی باندھ لیتی ہوں کیونکہ اچھی بات کوئی بھی کہے اسے ہمیشہ یاد رکھنا اور اس پر عمل کرنا بہت ضروری بھی ہوتا ہے اور بہت فائیدہ مند بھی۔

آپ کیا سمجھتی ہیں موجودہ دور میں عورت کا معاشی طور پر مضبوط ہونا کتنا ضروری ہے ؟

بہت ضروری ہے۔ جو حالات اس وقت چل رہے ہیں ان حالات میں ایک فرد کمائے اور گھر بھر بیٹھ کرکھائے یہ ممکن نہیں ہے۔ آج کی عورت کو ہر لحاظ سے مضبوط ہو کر مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا پڑے گا تب ہی یہ ملک ترقی کرے گا اور تب ہی معاشرے میں بہتری آئے گی ۔

جو لوگ لکھنا چاہتے ہیں مگر آگے بڑھنے میں بے حد دشواریوں کا سامنا ہے انہیں کیا کہنا چاہیں گی ؟؟؟

دشواریوں سے ڈر کررکیں مت۔ کیونکہ اگر ایک در بند ہوتا ہےتواللہ رب العزت اس کے بدلے کوئی اور در کھول دیا ہے ۔ بات ہےتو بس ہمت اور حوصلے کی اور آپ وقتی ناکامیوں اورروکاوٹوں سے گھبرا کر لکھنا مت چھوڑیں۔ میں آپ کو کسی اور کی مثال نہیں دوں گی۔ میں آپ کو اپنی مثال دیتی ہوں ۔ میں نے بھی زندگی میں اتنےمدوجزر دیکھے ہیں کہ ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ میں بھی قلم سے ناطہ توڑ بیٹھی تھی لیکن پھر وقت بدلا اور اب میں ایک لکھاری کی حیثیت سے آپ کے سامنے ہوں الحمدللہ تو میں آپ سب سے بھی یہی کہوں گی کہ

پیوستہ رہ شجر سے امید بہاررکھ۔

اپوا تنظیم کے لیے کچھ کہیں گے؟؟؟

اپووا ایک ایسے گلستان کی طرح ہے جس میں ہر رنگ اور ہر نوع کے خوشنما پھول مہک رہے ہیں۔ ماشاء اللہ سے جتنے کم وقت میں اس تنظیم نے ترقی کی ہے یہ آپ سب کی محنت اور محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مجھے اس ادارے سے منسلک ہوئے گو کہ زیادہ عرصہ نہیں ہوا لیکن مجھے یہاں کبھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوا۔ ما شاء اللہ سے سب لوگ اتنے اچھے پیار کرنے والے مان اورعزت دینے والے ہیں آپ سب کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں ۔ اللہ پاک آپ سب کے لیئے بہت بہت آسانیاں پیدا فرمائے آمین ثمہ آمین۔

لوگ نشانی کے طور پر اپنے پیچھے کچھ نا کچھ تو ورثے میں چھوڑتے ہیں آپ کیا چھوڑ کر جائیں گی ؟؟؟

میرا ورثہ میرا خلوص ، میرا اخلاق اور سب کے لیئے میری محبت ہی ہوگی ۔ میرےجانے کے بعد سب مجھے اچھے الفاظ سے یاد کریں اور میرے لیئے دل سے دعا کریں میں اپنی ایسی یادیں سب کے دلوں میں چھوڑ کر جاوں گی ان شاء اللہ۔ پھر نیک بخت اولاد اور میری تحریریں جن میں کوئی نہ کوئی مثنت سبق ضرور ملے گا آپ کو۔ بس یہی ہے میرا ورثہ ۔

ساجدہ چوہدری. ..بہت شکریہ اللہ پاک آپکو کامیابیاں نصیب فرمائے …..اللہ حافظ

بہت شکریہ ساجدہ آپ نے اتنی محبت سے بلاایا تو مجھے تو آناہی تھا۔ اللہ پاک آپ سب کے لیئے اور ہم سب کے لیئے بھی بہت آسانیاں پیدا فرمائے
جزاک اللہ خیرا کثیرا واحسناعملا۔
.

621 total views, 3 views today

One Response to انٹرویو ثمینہ طاہر بٹ

  1. Rubab Waseem says:

    I am following now:)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *