*میرا دل*

اس منافقت کے دور میں٫
میں ڈھونڈتا رہا رفاقتیں٫
جو نہ پا سکا وفا کبھی٫
وہی میرا دل بنجارا تھا٫
میں پہنچا ساحل تک٫
اپنی دھن میں گاتا ہوا٫
ان لہروں کی روانی میں٫
جھومتا مسکراتا ہوا٫
جو پہنچان نہ سکا دھوکا کبھی٫
وہی میرا دل بیچارا تھا٫
ھمیں نہ اپنی داستان سنائیے٫
ہمیں تو بس اس دہشتِ ویران کا قصہ بتلائیے٫
جیون کی موج میں ھم سے بس اتنا آپ کہلائیے,
وہ جو چہرے نقاب پوش تھے انکا پردہ اٹھائیے,
اس صدی کے کچھ لوگ جو پتھر دل ٹھرے,
ہمیں تو بس آپ انکا بھید بتائیے!
اس وقت کے گہرے زخموں میں,
انہیں کہہ دیں کوئی مرہم سا لگائیے!
اس کٹھن گھڑی کے میلوں میں,
ھمیں بس اپنی دھن کا عادی بنائیے!

اس منافقت کے دور میں
بس میرے بنجارے دل کو وفا سے بہلائیے!

“ڈاکٹر انعم پری”

108 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *