مرزا اسد اللہ غالب کا آج223واںیوم پیدائش منایا جارہا ہے

لاہور (اپووا نیوز)اردو کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب کاآج223واںیوم پیدائش منایا جارہا ہے 11 سال کی عمر میں پہلا شعر کہنے والے اسد اللہ کو شاید خود بھی علم نہیں تھا کہ ان کی شاعری اردو زبان کو رہتی دنیا تک روشن کرتی رہے گی مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ اور والد کا نام عبداللہ بیگ تھا آپ 27 دسمبر 1797ءکو آگرہ میں پیدا ہوئے غالب بچپن ہی میں یتیم ہوگئے تھے، ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہوگئے نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا 1810ءمیں 13 سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انہوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی شادی کے بعد مرزا غالب کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے اس دوران انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اورقرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے شاہی قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ءمیں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50 روپے ماہوار وظیفہ مقرر ہوامرزا غالب اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر سمجھے جاتے ہیں شروع میں وہ فارسی اور مشکل اردو زبان میں شاعری کرتے تھے اور اس زمانے میں اسد ان کا تخلص تھا تاہم معاصرین کے طعنوں کے بعد انہوں نے اپنی شاعری کا رخ بدلا اور اسے ایسی آسان زبان تخیل اور فلسفیانہ انداز میں ڈھالا کہ کوئی اور شاعر ان کے مدمقابل نظر نہیں آتا ان کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اوراشعار میں زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کی گہرائی نے غالب کو عظیم بنایا شاعری میں روز مرہ محاوروں سے دل میں اتر جانے والی سادگی کے کمال نے غالب کو زمانے میں یکتا کر دیا، وہ بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انہوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی کثرت شراب نوشی کے باعث ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی انتقال سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ءکو اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔

2,049 total views, 3 views today

2 Responses to مرزا اسد اللہ غالب کا آج223واںیوم پیدائش منایا جارہا ہے

  1. Ꮋi there, I tһink ʏοur website may be having browser compatibility ⲣroblems.
    When I taқе a look at your site in Safari, іt looks fіne hߋwever when opеning in Internet Explorer,
    it’s gоt some overlapping issues. І just wanted tο ɡive yoս ɑ quick heads սp!
    Aрart from tһat, excellent site!

  2. Hey would yoᥙ mind stating whicһ blog platform
    ʏou’гe սsing? I’m ⅼooking to start my
    own blog іn the neɑr future Ƅut I’m havіng a tough time selecting
    betѡeen BlogEngine/Wordpress/В2evolution ɑnd
    Drupal. Τhe reason I aѕk is because үour design seems different tһen most blogs and I’m ⅼooking
    for sometһing unique. P.Տ Sorry for being off-topic but I һad tߋ аsk!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *