ملکہ ترنم نورجہاں کومداحوں سے بچھڑے20سال ہوگئے

لاہور(اپووانیوز)ملکہ ترنم نور جہاں کی20ویں برسی آج منائی جارہی ہے ان کو ہم سے بچھڑے 20 برس ہو گئے لیکن آج بھی وہ اپنی سریلی آواز کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں بستی ہیں بلھے شاہ کی نگری قصور میں آنکھ کھولنے والی اللہ وسائی نے بڑے ہو کر نور جہاں کے نام سے شہرت پائی اداکاری ہو یا گلوکاری نور جہاں کا انداز شاندار، منفرد اور ہر دیکھنے والے کی پسند کا حصہ رہانور جہاں نے سدا بہار آواز کے ساتھ بچپن میں ہی گلوکاری اور اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا اور 74 سالہ کیرئیر میں مختلف زبانوں میں تقریباً 20 ہزار سے زائد گیتوں کو اپنی آواز سے یادگار بنایاملکہ ترنم نور جہاں نے اردو، پنجابی، فارسی، بنگالی، پشتو، سندھی اور ہندی میں گانے گائے اور ہر طرف دھوم مچا دی پاک بھارت 65ءکی جنگ کے دنوں میں انہوں نے اپنے نغموں اور ترانوںسے عوام اور فوجی جوانوں کا خون گرمائے رکھاشہرہ آفاق گلوکارہ نے تقریباً 40 فلموں میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے اور کئی قومی و بین الاقوامی ایوارڈز بھی اپنے نام کیے ۔
قیام پاکستان کے بعد نور جہاں لاہور آگئیں جہاں 1951ءمیں انہوں نے فلم چن وے سے پاکستانی فلمی صنعت میں نئی جان ڈال دی انہوں نے گلنار، پاٹے خان، انتظار، لخت جگر، کوئل، مرزا غالب اوردوپٹہ سمیت کئی فلموں میں ادا کاری اور گلوکاری کا جادو جگایا 1957 میں نور جہاں کو فلم انتظار کے لیے صدارتی ایوارڈ دیا گیا23 دسمبر 2000 کو کراچی میں دل کا دورہ پڑنے سے نور جہاں کا انتقال ہو گیا ان کی نمازجنازہ میں چار لاکھ سے زائد لوگوں نے شرکت کی

870 total views, 6 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *