اہل سیاست میں عداوت انووک/ ثناءآغا خان

پاکستان کی قومی سیاست میں کچھ بھی ”ناممکن“ نہیں ہے، کل کے شدید دشمن اچانک آپس میں گہرے دوست بن جاتے ہیں اور آج کے بہترین دوست کل کے بدترین دشمن بننے میں دیر نہیں لگاتے۔ اہل سیاست میں باہمی محبت اور عداوت مستقل نہیں ہوتی ان سے اپنے مفادات کی حفاظت کیلئے کچھ بھی بعید نہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان کئی دہائیوں تک عداوت رہی اور پھر اچانک پرویز مشرف کی آمریت نے ان ماضی کے بدترین مخالفین کو میثاق جمہوریت پر متفق اور پرویز مشرف کی آمریت کیخلاف متحد کردیا۔ ماضی میں بھی ہماری متعدد سیاسی پارٹیوں نے اتحاد بنائے اور پھر یہ اتحاد منتشر ہوتے رہے ، پی ڈی ایم کا اتحاد فطری نہیں بلکہ ان کے نظریات ایک دوسرے کی ضد ہیں لہٰذا ان کا زیادہ دیر اور دور تک ایک ساتھ چلنا خارج از امکان ہے ۔ تبدیلی سرکار کیخلاف اپوزیشن کی گیارہ پارٹیوں کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جانا انہونی بات نہیں تاہم ان گیارہ پارٹیوں میں سے صرف دو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی قابل ذکر ہیں ، مولانا فضل الرحمٰن اور مریم نواز دونوں پارلیمنٹ کا حصہ نہیں ہیں شاید اسلئے دونوں کا اپوزیشن ارکان کے استعفوں پر زور اور اصرار ہے تاہم پیپلز شاید استعفوں کیلئے تیار نہ ہو۔
اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا 13 دسمبر کو مینار پاکستان میں ہونے والا جلسہ حکومت اور اپوزیشن بالخصوص مسلم لیگ(ن) کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماو¿ں نے مینار پاکستان پر ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسہ عام میں شرکت کے لیے اپنے کارکنوں کو متحرک کرنے کی غرض سے مختلف علاقوں میں ہر روز کارنر میٹنگز کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز لاہور کے شہریوں کو 13 دسمبر کی دعوت دینے کیلئے خود نکل کھڑی ہوئی ہیں۔
جبکہ اپوزیشن پارٹیوں اور رہنماو¿ں کی جانب سے تبدیلی سرکار کے متنازعہ اقدامات پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
جس میں ڈی جے بٹ کی ان کے دفتر سے گرفتاری بھی شامل ہے ، شنید ہے انہیں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا ہے۔
دوسری جانب لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں پانی چھوڑنے کے معاملہ پر پی ایچ اے انتظامیہ نے ن لیگ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معمول کے مطابق پارک میں لگی گھاس کو سیراب کرنے کیلئے معمول کے مطابق پانی دیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم قیادت کا کہنا ہے کہ حکومت کی تمام تر کارروائیوں کے باوجود لاہور میں مینار پاکستان کے مقام پر بھرپور جلسہ ہوگا۔
چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ ہم اپوزیشن کو جلسہ کرنے سے نہیں روکیں گے لیکن جلسہ منتظمین اور انہیں کیٹرنگ سروس فراہم کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کریں گے۔
پی ڈی ایم نے لاہور میں آخری جلسہ عام کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے تاحال اجازت نہیں دی گئی ہے اور دو روز قبل وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا تھا کہ صوبائی حکومت ریلیوں کا انعقاد کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرے گی کیونکہ کورونا وائرس پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ ’ہم سب عدالتوں اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے احکامات کے بارے میں جانتے ہیں، کوئی بھی اجتماع جس کے باعث کووڈ 19 پھیلنے کا خطرہ ہو وہ غیر قانونی ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی کوئی سمت ہے اور نہ ان کو حالات کی نزاکت اور حساسیت کی سمجھ ہے۔ حکومت کو اپوزیشن کے اجتماعات سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ عناصر جلسوں کی آڑ میں اپنی کرپشن کا تحفظ چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں کرپٹ عناصر کا احتساب جاری رہے گا۔
حکمران جماعت کے رہنماو¿ں کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو ملک سے کرپشن کا صفایا کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے اور ہم اپنے قومی ایجنڈے کی تکمیل تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جومرضی کر لے ہمارا عوامی خدمت کا سفر جاری رہے گا۔

5,766 total views, 19 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *