منشیات کی عادت تباہی کی ضمانت (امین رضا مغل)

کسی بھی قوم کی اصل قوت اِس کے نوجوان ہی ہوتے ہیں نسل نوکا جذبہ تعمیرہی کسی قوم کو بھرپور ترقی سے ہم کنار کرتا ہے اس لئے نئی نسل کو ملک کی بہتر خدمت کے لیے بھرپورطریقہ سے تیار کرنے پر توجہ دی جاتی ہے محض معاشی ترقی کے لئے ہی نہیں بلکہ ملک کے دفاع میں بھی اس کا بھرپور کردار ہوتا ہے یہ نوجوان محافظ ہی ہیں جو سرحدوں پر راتوں کوجاگ کر ملک کو دشمن عناصر سے محفوظ رکھتے ہیں ملکی آزادی اور خود مختاری کا حقیقی تحفظ نئی نسل ہی کی بدولت ممکن ہو پاتا ہے اگر نئی نسل متحد اور چوکس ہو تو دشمن اپنے ناپاک عزائم کو عملی جامہ نہیں پہناسکتا مگر ہمارے معاشرہ میں نوجوان منشیات جیسی لعنت کو تیزی سے گلے لگارہے ہیں
نوجوان نسل میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان کسی سنگین خطرے سے کم نہیںمنشیات کا نشہ ایک ایسی لعنت ہے جو سکون کے دھوکے سے شروع ہوکر زندگی کی بربادی پر ختم ہوتا ہے توجہ طلب امریہ ہے کہ منشیات کی لعنت تیزی کے ساتھ ایک فیشن کے طور پر سامنے آرہی ہے اور اب دیہی علاقوں کے نوجوان بھی اس سے محفوظ نہیںرہے اکثر بچے اور نوجوان والدین کی غفلت اور ان کے رویہ کی وجہ سے نشے کی عادت کا شکار ہو جاتے ہیںنوجوان نسل فیشن کے طور پر سگریٹ یا دیگر نشہ آور چیزوں کا استعمال شروع کرتی ہے پھریہ شوق وقت کے ساتھ ساتھ ضرورت بن جاتا ہے اس طرح وہ شخص مکمل طور پر نشے کاعادی بن جاتا ہے اوریہی نشہ اس کے دل و دماغ کو مکمل طور پرتباہ و برباد کردیتا ہے پھر اس لت کو پورا کرنے کے لئے ہر وہ غلط کام کرناشروع کردیتا ہے جس سے وہ پیسے حاصل کرسکے اور اس طرح اچھا بھلا تندرست صحت مند انسان مجرمانہ سرگرمیوںمیں مبتلا ہوکراپنی زندگی کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرتا ہے اس وقت پوری دنیا منشیات کے خوفناک زہر کے حصار میں ہے نئی نسل اپنے تابناک مستقبل سے لا پرواہ ہوکر تیزی سے اس زہر کواپنی رگوں میں اتاررہی ہے منشیات ایک ایسا میٹھا زہر ہے جو انسان کو دنیاو آخرت سے بیگانہ کر دیتا ہے اس کو استعمال کرنے و الا ہر شخص حقیقت سے فرار حاصل کرتا ہے اور خیالوں میں بھٹکتا رہتا ہے بیشتر افرادتو غلط صحبت ملنے سے بھی نشے کے عادی ہوجاتے ہیںکئی اپنے مسائل سے ڈر کر اور کئی حقیقت سے فرار حاصل کرنے کے لئے بھی نشہ کا سہارا لیتے ہیں منشیات کی عادت ایک خطرناک مرض ہے جو خود انسان، اس کے گھربار ،معاشرے اور پورے ملک و قوم کو تباہ کر دیتا ہے اگر ایک بار کوئی نشہ کا عادی ہوجائے تو مناسب توجہ اور علاج کی عدم دستیابی کے باعث وہ اس دلدل میںدھنستا ہی چلاجاتا ہے
ایک طرف تو دنیا بھر میں منشیات کے خلاف بھرپور مہم چلائی جارہی ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ دنیا کو ہر طرح کی منشیات سے بالکل پاک کرکے نوجوانوں کو تباہی سے بچایا جائے اور دوسری طرف منشیات مافیا نئی نسل کو تباہ کرنے کے درپے ہے اور یہ منشیات کی غیر قانونی تجارت سے کروڑوں کمارہے ہیں نوجوانوں کوسگریٹ، شیشی، ہیروئن، کوکین، چرس، گانجا، افیون اور نہ جانے کئی طرح کے نشے میں مبتلا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیںمنشیات کی سرعام فروخت انتظامی اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے نئی نسل کا منشیات کی لت میں مبتلا ہونا انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں آگے چل کر ملک کو افرادی قوت کی شدید قلت کا سامنا ہوسکتا ہے اور سوال صرف معاشی نقصان کا نہیں ہے بلکہ جب نئی نسل منشیات کی عادی ہوگی تو معاشرتی خرابیاں بھی پیدا ہوں گی اور اس کے نتیجے میں پورے امعاشرے میں بگاڑ بھی پھیلے گایہاں پر والدین کا بھی فرض بنتاہے کہ اپنی مصروف زندگی میں سے کچھ وقت اپنے بچوں کو بھی دیںانہیں اپنے بچوں کی گھریلو اور بیرون گھر مصروفیات سے آگاہ ہونا چاہئے ان کے دوست احباب کی محافل ومشاغل سے آگاہی بہت ضروری ہے صرف اسی صورت اپنے بچوں کو تباہی کی عمیق گہرائیوں میں جانے سے بچایا جاسکتا ہے عصر حاضر میں نہ صرف نوجوان بیٹوں بلکہ بیٹیوں کی سرگرمیوں پربھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے

4,415 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *