طلسماتی کوہسار اور ہم

کمراٹ کی خوبصورتی پر کوئی شک نہیں پتھریلے راستے’ ندیا آبشارے اور سبزہ زار ان پہاڑوں کو خوبصورت انداز سے سجائے ہوئے ہیں ۔
اپووا کے زیر اہتمام یہ ٹریپ کچھ ہٹ کر تھا ۔صحیح معنوں میں بولوں تو یہ دس سرپھرے نظریات انسانوں کے روپ میں اپنی تخیل کی روح کو سیراب کرنے اس وادی میں گھومتے رہے ۔جو شاعر تھے وہ ہر جگہ اپنی شاعری سناتے رہے ۔جو افسانہ نگار تھے جو حسن قدرت کو دیکھ کر افسانے کہتے رہے۔اگر ان کے بس میں ہوتا اور وہاں نیٹ موجود ہوتا تو شاید ان کی زندگی کی سب سے زیادہ پوسٹ وہاں سے آتی ۔مشاعرے کی محفلیں جمی رہی ۔جہاں حسین منظر نظر آتے ہر نظریہ بول پڑتا اپنے رب کی حمد و ثناء۔
میں اب تک تقریبا پاکستان کے بہت سے علاقوں کی سیر کر چکی ہوں مگر یہ ٹرپ میری زندگی کا بہترین ٹور رہا ۔کمراٹ پہنچ کر جو راتیں گزاری’ دریائے پنجکوڑا کا شور ‘اس آگ کے الاؤ کی حدت جس کے گرد بیٹھ کر اس وادی کو شعر سنائے گئے۔ کبھی نہ بھولنے والے اس سفر کی داستاں ہر نظریے نے اپنے انداز سے لکھی۔کچھ لوگ مسلسل خاموش تھے اور ایسا لگ رہا تھا جیسے اپنے دماغ میں ان قدرتی مناظر کو دیکھ کر کوئی فسانہ لکھ چکے ہیں ۔جاز پانڈا کے سفر کے دوران جیسے جیسے منزل قریب آ رہی تھی ہمت جواب دیتی جا رہی تھی ۔خطرناک ترین جیب کی چڑھائی کے بعد ساڑھے تین گھنٹے کی ہائیکنگ شاید ناممکن ہوتی اگر اپوا فیملی نہ ہوتی ۔سب کو ساتھ لے کر چلنا اتنا آسان نہیں ہوتا مگر ایم ایم علی کی یہ قابل تعریف صفت ہے کہ وہ ۹ نظریات کو ایک ساتھ چلاتے رہے یقینا یہ ایک قائدانہ صفت ہے ہنسی مذاق میں اپنی بات بھی منوا جاتے تھے اور پھر کہہ بھی دیتے تھے! میری کون سندا اے؟😂😂😂
افسانوی لوگ درختوں اور جھیلوں کے پانی سے باتیں کرتے رہے فاطمہ شیروانی بھی اپنے پیغامات نظاروں کو سناتی رہی اور مسرتیں سمیٹتی رہی ۔ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ درخت یہ وادیاں اور یہ پانی پیغامات وصول بھی کر رہے ہیں اور ہمیں ان کے جوابات بھی دے رہے ہیں ۔ جاز بانڈہ کے رستے میں لوگوں نے ہمیں بتایا کہ کچھ دن پہلے یہاں لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوئی ہے ۔جس کے اثرات ہمیں نظر آرہے تھے حسن قدرت کے مجبور کرنے پر ہم آگے بڑھتے رہے ۔چڑھائی چڑھتے ہوئے بہت سے لوگ ہمیں ملے اور اپنے اپنے تاثرات بتاتے رہے ۔کچھ نے حوصلہ افزائی کی اور کچھ نے death zone تک کا پیغام دیا ۔
جہاز بانڈا پر پہنچ کر ہماری ساری تھکن ایک دم گل ہوگی۔وہاں تو دنیا ہی اور ہے کھانا کھایا اور پھر گھومنے نکل گئے ۔اس رات پھر شاعری کی ایک محفل جمی جس میں وہاں پر آئے ہوئے اور مسافروں نے بھی شرکت کی .صبح پھر راجہ آبشار کی طرف روانگی کا پروگرام بنا راجہ آبشار کی بہت تعریف سنی تھی مگر یہ بھی سنا تھا کہ اس کا راستہ ان تمام راستوں سے مشکل ہے جو اب تک ہم سر کر کے آئے تھے۔اس موقع پر اگر سفیان علی کا ذکر نہیں کروں گی تو ناانصافی ہوگی بظاہر بہت سنجیدہ نظر آنے والا یہ شخص اس سفر کا اہم کردار رہا۔ ہنسا ہنسا کر مسرت بکھرتے رہے ۔ان کی وجہ سے سفر کا پتا ہی نہیں چلا کب ختم ہوگا ۔جتنے مزاحیہ تھے اتنے ہی حساس بھی اپنی طبیعت خراب ہونے کے باوجود سفر میں سب کو ساتھ لے کر چلتے رہے ۔راجہ آبشار پر پہنچ کر جنت کے کسی گوشے کا احساس ہوتا ہے ۔ادھر بیٹھے چائے پی کچھ دیر اپنی نظروں کو تقویت دینے کے بعد واپسی جاز بانڈہ کی طرف روانہ ہوگئے ۔سفر بہت تھکا دینے والا تھا پر ہر نیا منظر تھکاوٹ ہونے ہی نہیں دیتا تھا ۔واپسی پر سب خاموش تھے جیسے کچھ بھول رہے ہو جیسے کسی اپنے کا ساتھ چھوٹ رہا ہوں ۔ اداسی اور تھکاوٹ سمیٹے واپسی بہت مشکل لگ رہی تھی مگر بہت سی اچھی یادیں اور خوبصورت نظارے اور بوجھل دل کے ساتھ واپس آنا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔

3,567 total views, 95 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *