انقلاب کی دعوت

اس وقت مسلمان جن حالات سے گزر رہے ہیں وہ انتہائی دردناک اور تشویش ناک ہیں۔اس کی وجہ بھی ہماری نادانیاں اور کمزوریاں ہیں۔لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ان بیماریوں کی دوا کے لیے جس حکیم کے پاس جا رہے ہیں اس کا مشن ہی یہ ہےکہ یہ بیماریاں پھیلے۔معاشرے کو لگے ان بیماریوں(برائیاں) نے اکثر ممالک خاص طور پر غریب ممالک کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔بحیثیت مسلمان ہمیں رہبر و رہنما بناکر بھیجا گیا تھا۔ ہمیں ان برائیوں کو ختم کرنے کی طاقت اور صلاحيت دونوں عطا کیاگیا ہے ان مسائل کو حل کرنے کا نسخہ بھی قرآن کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔لیکن بات وہی ہے علاج کے لیے جس ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اس نے خود ان امراض کو پیدا کیا ہے تو وہ اس کا علاج شافی کیوں کرے گا۔یہ بات سوچنے اور سمجھنے والی ہے۔اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر مسلمان اس بات سے لا علم ہے کہ انسان کے فلاح و بہبود ,انسان اور کائنات سے متعلق ہر چیز کے بارے میں رہنمائی و ہدایات قرآن میں موجود ہے کوئی ایسی چیز نہیں جس کا تعلق انسان سے ہو اس کے بارے میں قرآن و حدیث میں واضح اصول و ضوابط موجود نہ ہو۔لیکن ہمیں قرآن کی جو تعلیم دی جاتی ہے وہزیادہ تر صرف اس کے ناظرہ تک ہی محدود ہے حیرت کی بات ہے قرآن جس کاموضوع ہی انسان ہے اس کی تعلیم اور تحقیق کا کوئی بھی مستند اور بڑا ادارہ موجود نہیں جہاں قرآن پر تحقیق اور اس کے تعلیمات پر غورو فکر کیا جائے۔آج کے مسلمان معاشرے میں قرآن کی تعلیمات کے متعلق ہمارا علم اور تحقیق بہت ہی کم اور محدود ہے۔قرآن کو ہم صرف ایمانیات تک محدود رکھتے ہیں اور اس کی تلاوت کرنے کو باعث اجر سمجھتے ہیں۔قرآن کو نازل کرنے کا مقصد صرف یہ نہیں ہے بلکہ اگر کبھی قرآن پر غورو فکر اور تحقيق کیا جائے تو اس بات کا علم ہو گاکہ قرآن کی پہلی سورت میں ہی معاشرے کی تشکیل اور ظلم و جبر کے خاتمے کے بنیادی اصول بیان کے گئے ہیں۔وحی کا آغاز سورہ علق سے ہوتا ہے پہلی ہی سورت میں ظلم کے نظام کو ختم کرنے کے تین بنیادی اصول بیان کے گئے ہیں پہلے پانچ آیات میں اس بات کی ذکر کی گی ہے کہ اللہ نے انسان کو اس علم سے نوازا جس سے انسان پہلے لاعلم تھا علم کا مرکز جسکو بتلایا گیا وہ ذات اللہ کی ہے۔جس سے علم اور طریقہ کار سمجھ میں آتے ہیں ان طریقہ کار کے مطابق دنیا میں کام کرنا ہے۔دنیا کے تمام ایجادات اور رہنمائی اللہ کے جانب سے انسانوں کے ذہنوں اور دلوں میں القا کیے جاتے ہیں۔اس سے آگے یہ وارننگ دی گی ہے خبردار ہر گز یہ بات قابل و قبول نہیں کوئی انسان کسی انسان پر ظلم کرے,جبر کرے,طاغوت بنے۔جس طرح موسی علیہ اسلام کو طور پر وحی کے ذریعے حکم دیا گیا جاؤ فرعون کے پاس اس نے سر کشی کی ہے جیسے موسی علیہ کو فرعو نی نظام کے خاتمے کے لیے بھیجا گیا ویسے ہی قران کی پہلی ہی صورت میں رسول صلی سے کہا جا رہا ہے جاؤ ظالم کو ختم کرو(رسول صلی علیہ وسلم چونکہ تمام انسانیت کے لیے مبعوث کیا گیا ہے اس لیے مخصوص ابو جہل کا نام نہیں لیا گیا ہے۔)اس لیے خاص شخص یا گروہ کا نام نہیں لیا گیا ہے بلکہ جو بھی انسان ظالم ہو چاہیے کسی بھی زمانے یا مقام سے تعلق ہو جبر و سر کشی قابل قبول نہیں۔یہ قرآن کی خصوصیت ہے کہ یہ ایک آفاقی اور عالم گیر کتاب ہے اورایک عالمگیر کتاب میں ہی آفاقی و عالمگیر قوانین بیان کیے جاتے ہیں۔قرآن کی تعلیمات کا جو بنیادی نکتہ ہے وہ ظلم کے خلاف انقلاب پیدا کرنا ہے۔انقلاب کا پہلا نکتہ کسی مزدور,مظلوم اور کسی بے بس انسان کے اندر یہ جذبہ پیدا کرنا کہ وہ ظلم کے خلاف کھڑا ہو جائے اور ظالم کے ظلم اور آمریت کو قبول کرنے سے انکار کرے۔اس کے بعد پھر خبردار کیا گیا ہے کہ ہرگز ظلم کی یہ بات قبول نہیں کی جا سکتی ہے۔اگر یہ ظالم اپنے ظلم سے باز نہیں آتے ہیں تو ان کے پیشانیوں کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹیں گئے یہ ہے ظالم کا انجام جو قرآن کی ابتدائی آیات میں بیان کیاگیا ہے۔مظلوموں کو حکم دیا گیا ہے کہ اٹھو اور ظلم کرنے والوں کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ لو ان کی عزت اور اطاعت اگر کرتے ہو حکمران سمجھ کر ,عزت تو اس حکمران کی کی جاتی ہے۔ جو جھوٹ نہ بھولے بدعہد نہ ہو ظالم نہ ہو لیکن یہ حکمران انسانی معاشرے کے خلاف ہے,جھوٹے,بد عہد اور ظالم ہے ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔قرآن مجید نے کہا معاشرے کی ترقی کے دو بنیادی امور ہیں عہد یعنی وعدہ جو کیا جاۓ وہ سچائی پر مبنی ہونا چاہیے اور عمل عدل پر مبنی ہونا چاہیے۔لیکن اگر یہ لوگ ظلم سے باز نہ آۓے تو ان کی اطاعت ہر گز نہ کرنا۔کیا ہو گا کیا کرینگے یہ اپنی فوج لاۓ گے یعنی جو بھی حکمرانوں کے ساتھی ہے اور ہم اپنی فوج ان کے مقابلے میں لائینگے یعنی ظالموں کے خلاف اپنی طاقت لائینگےاللہ نے اعلان کر دیا کہ اب ٹکراؤ ہو گا ظلم و عدل کے درمیان ظلم کے ساتھ پہلا ٹکراؤ تو وہ تھا جو بدر کے میدان میں فقط تین سو تیرہ صحابہ ظالم کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گی یہ ہے وہ جذبہ جو قرآن نے مسلمانوں کی اس جماعت میں پیدا کیا قلیل تعداد کے باوجود ظالم کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہو گی ان کی مدد و تائید اللہ نے غیب سے اپنے فرشتوں کے ذریعے کی۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ مکے میں صرف کلمے کی دعوت تھی بلکل غلط بات ہے کیونکہ کلمے کے بعد سب سے پہلے قران کی تعلیمات سیکھنے کا ابتدا ہی اس سورت سے ہوتا ہے یعنی پہلی بات ہی ظالم سے مقابلے کی سیکھائی جا رہی ہے یعنی ظالمانہ نظام کے خلاف عدل قائم کرنا اور طاقت اور ہمت پیدا کی جا رہی ہے تاکہ باطل کے سامنے ڈٹ جائے تو کیسے کہہ جا سکتا ہے کہ قرآن میں کسی انقلاب کی بات نہیں۔ یہ ہماری کم علمی اور قرآن سے دور کا نتیجہ ہے کہ آج تک ہم حق و باطل میں فرق نہیں کر سکے اور ظالم کے ظلم پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
تحریر : فرح ملک

6,025 total views, 142 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *