انٹرویو.. ناہید نیازی

اسلام علیکم
آج ہمارے ساتھ موجود ہیں لاہور سے تعلق رکھنے والی نامور صحافی، جو ریڈیو پاکستان سے بھی منسلک ہیں ، نہایت قابل احترام اور معزز میم ناہید نیازی صاحبہ ،جو پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن خواتین ونگ کی صدر بھی ہیں۔
ساجدہ چوہدری : اسلام علیکم میم کیسی ہیں آپ؟ ؟بہت شکریہ آپ نے اپنا قیمتی وقت نکالا.
وعلیکم اسلام سلامت رہیں آپ لوگ. ..
ساجدہ چوہدری “اپنے بارے میں کچھ بتائیے
(کب اور کہاں پیدا ہوئیں تعلیم ،مشاغل قریبی دوست وغیرہ وغیرہ )
جواب :
میں لاہور میں پیدا ہوئی میرے والدین بھی لاہور سے ہی تھے میں نے ڈبل ماسٹر کیا ہوا ہے پہلا ماسٹر لاہور جی سی یونیورسٹی سے فلاسفی میں کیا، دوسرا ماسٹر اردو لٹریچر میں کیا اس کے بعد میں پروڈکشن کی طرف آگئی۔ پروڈکشن میں ،میں نے سب سے پہلے پروڈکشن سیکھی، سکریپٹ رائٹنگ سیکھی ،چلڈرن پروگرامنگ سیکھی ،اسکے بعد میں نے ایک نجی چینل جوائن کیا اس وقت تک میں تین نجی چینل میں کام کر چکی ہوں،مگر میں سمجھتی ہوں کہ بچوں کی پرورش اور گھریلو ذمہ داری میرے نزدیک تمام کاموں سے اہم ہے اسی وجہ سے ان چینلز کو الوداع کیا ،جیسے ہی میرے بچے سکول جانے لگے میں نے دوبارہ سے واپس اپنی ایکٹیوٹیز کی جانب واپس آگئی ،اسکے علاوہ میں بتاتی چلوں
سکول کا زمانہ بہت خوبصورت گزار سکول کے زمانے سے ہی مجھےادبی سرگرمیوں سے دلچسپی پیدا ہو گئی تھی اور سکول میں” بزم ادب “کا خاص حصہ رہی اور ہشتم کلاس سے سٹیج سیکرٹری بنی ، میٹرک تک جس میں تمام قسم کی سکول و ادبی اور دوسری سرگرمیوں کےلیے تیاری کرواتی تمام پروگرام ترتیب دیتی۔ ان سب کاموں کو انجام دیتے دیتے ادبی دنیا کا حصہ بنتی گئی ،ہر وہ کھیل جو سکول میں کھیلا جاتا میں نمایاں طور پہ شریک ہوتی، اس کے علاوہ گھر میں بہن بھائیوں کے ساتھ بھی مختلف قسم کی گیمز کھیلتی تھی مختصر یہ کہوں گی میرا بچپن بہت خوبصورت اور ادب کا ہی حصہ رہامیں کسی نہ کسی شکل میں کالج کے زمانے میں بھی کالج میگزین کی ایڈیٹر رہی ہوں اور اس وقت مجھے بہت ساری ادبی شخصیات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا انکے انٹرویو کرنے کا موقع ملا اور اس وقت مجھے لگتا تھا یہ بہت مشکل کام ہے مگر میری ٹیچر مس ناہید قاسمی جو کے احمد ندیم قاسمی کی بیٹی ہیں اور ایک مشہور رائیٹرہیں اور مس الطاف فاطمہ اللہ انکے ردجات بلند فرمائےانہوں نے میری بہت رہنمائ کی۔ وہ بہت اچھی رائیٹر تھیں میں ان سے بہت متاثر بھی ہوئی ہوں انہوں نے ہمیں بلکل بچوں کیطرح سکھایا جیسے انگلی پکڑ کے سکھانا ،کس طرح انٹرویو کرنا ہے،کس طرح آغاز کرنا ہے،کس طرح اختتام کرنا ہے،ہمیں ہر طرح کا ادبی سلیقہ انہوں نے ہی سیکھایا مس ناہید قاسمی اور مس الطاف فاطمہ کا میری زندگی میں ایک اہم رول رہاہے آج اگر میں کسی مقام پر ہوں تو اسکے پیچھے یہ دو ٹیچرز کا ہاتھ ہے اسکے علاوہ بات دوستوں کی آئی ہے تو میرے قریبی دوست بہت کم ہیں ویسے تو دوست بہت زیادہ ہیں مگر سکول اور کالج کے زمانے کے قریبی دوست ہیں وہ ہی آج بھی موجود ہیں ہم جب بھی اکٹھے ہوں اپنا سکول اور کالج کا زمانہ یاد کرتے ہیں اور میں سمجھتی ہوں کہ وہی وقت بیش قیمتی ہے ، بلا شبہ میری زندگی کے بہترین سالوں میں سے ہے ویسے تو میرا جو وقت بھی گزرا ہے خوبصورت اور بہترین ہے الحمدللہ ۔

ساجدہ چوہدری : لکھنے کی ابتدا کب اور کس عمر سے کی اور سب سے پہلی تحریر کون سی لکھی ؟
لکھنے کی ابتداء آٹھویں کلاس سے کی تھی، اس وقت میں نے روز نامہ امروز کےلیے لکھی تھی جوکے شعبہ اطفال کے لئے تھی..

ساجدہ چوہدری :ویسے تو ہم نے آپ کو کافی خوش مزاج اور فرینڈلی پایا مگر آپ بتائیں فطرتاً کیسی انسان ہیں موڈی یا خوش مزاج ؟
موڈ کی جہاں تک آپ بات کر رہی ہیں میرا خیال ہے اس بارے میں خود بہتر نہیں بتا سکتی ،یہ سوال تو میرے حلقہ احباب سے پوچھے جانے والا ہے،ویسے جہاں تک دل چاہتا ہے میں ہر وقت خوشگوار موڈ میں رہنا چاہتی ہوں لیکن انسان ہونے کے ناطے آپ کے اردگرد ایسے بہت سے معاملات ہو جاتے ہیں جس سے فطری طور پر انسان غصے میں آجاتا ہے لیکن ذاتی طور میں خود کو خوشگوار رکھنا چاہتی ہوں ..

ساجدہ چوہدری : زوال یافتہ معاشرے میں کس قسم کے ادب کو فروغ دینا چاہیے ؟
پہلی بات ہمارا معاشرہ جو ہے ، یعنی پاکستان کا معاشرہ بہت اچھا ہے اس میں کچھ وقت کے ساتھ خرابیاں ضرور پیدا ہوگئی ہیں اسکی وجہ شاید ہمارا ایجوکیشن سسٹم ہے جس کا سرا کسی کو نظر نہیں آرہا، زوال یافتہ معاشرے میں یقیناًایسا ہی ادب فروغ دینا چاہیے جس سے اس معاشرے کی تعمیری اصلاح ہوسکے اور ایسا تب ممکن ہو سکتا ہے جب ہماری تحریریں ایسی ہوں جسکو پڑھنے کے بعد دوسروں کا دماغ فریش ہو غلط اور صحیح راستے کی پہچان بنائے، اچھی ادبی تحریریں زندگی کا راستہ بدل دیتی ہیں ،جو معاشرے میں اچھی سے اچھی اصلاح پیدا کریں اور معاشرے میں اچھے اثرات چھوڑے..

ساجدہ چوہدری : آپ کے خیال میں تنقید کرنا ضروری ہوتا ادب میں کسی کی اصلاح کےلیے؟؟اور تنقید کرتے وقت کس چیز کا خیال رکھنا ضروری ہے ؟؟
تنقید ادبی سرگرمیوں کا حصہ ہوتی ہے تنقید وہ چیز ہے جو آپکی کمی جو آپکو نظر نہیں آرہی آپ اپنی تحریر میں وہ چیزیں شامل کرنا بھول جاتے وہاں پر تنقید جو ہے آپکے سامنے آتی ہے تنقید کسی تحریر پر کرنا بہت ضروری ہوتا ہے تنقید سے آپ ہمیشہ بہتری کی طرف جاتے ہیں ہاں ایک بات ہے تنقید کرنے والے کے اندر آپ کےلیے حسد نہ ہو اگر ایسا نہیں ہو تو تنقید آپکو اصلاح کی طرف لے جاتی ہے آپکی تحریروں میں ایک خوبصورتی پیدا کرتی ہے جس سے آپکی تحریریں نکھرتی ہیں لہذا تنقید ہمشیہ معیاری ہونی چاہیے ۔

ساجدہ چوہدری : ادبی دنیا میں کن شخصیات سے آپ متاثر ہیں ؟
ادبی دنیا میں ویسے تو بے شمار نام موجود ہے قابل شخصیات کے ، اور ان سب کی تحریریں جو لکھی جا رہی ہیں یالکھی جاچکی ہیں ایک سے ایک بہترین ہیں جہاں تک بات ہے میرے متاثر ہونے کی میں یہ ہی کہوں گی کرشن چندر کی تحریروں سے میں بہت متاثر ہوں عصمت چغتائی ، بانو قدسیہ، حسینہ معین کی ہلکی پھلکی خوبصورت تحریریں انکی تحریروں میں مجھے اصلاحی پہلو بھی نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ اشفاق احمد ،مستنصر حسین تارڑکے سفر نامے مرزا اطہر بیگ میں ان سب سے بہت متاثر ہوں .

ساجدہ چوہدری :اپوا کے بارے میں کیا کہیں گی آپ؟؟ آپ اس تنظیم کی کامیابی میں اپنے ساتھ کن شخصیات کی محنت اور لگن کو سرہاتی ہیں ؟؟
جہاں تک اپوا تنظیم کی بات ہے مجھے اپوا میں پہلے دن سے ہی ساتھ چلنے والے لوگ ملے ہیں جو ابھی تک ہیں وہ بہت پسند ہیں اللہ کا شکر ہے آج تک اپوا میں سب نے میری عزت کی اور سب مجھے اچھے لگتے ہیں ہم سب ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں اور کئی اگر کوئی مشکل میں ہوتا ہے تو اسکی مدد کر دیتے ہیں تو اپوا کے تمام لوگ جو شامل ہیں اور آگے شامل ہو رہے سب بہت اچھے ہیں ہم بلکل ایک فیملی کی طرح رہتے ہیں اور ایک فیملی کی طرح میل ملاپ رکھتے ہیں۔ .علی اور فاطمہ مجھے بہت پسند ہیں
علی مجھ سے ہمیشہ کوئی ایسی بات پوچھ لیتے ہیں جو اپوا کےلیے ضروری ہوتی ہے اور علی ہمیشہ مشورہ لے کر آگے کام کرتے ہیں اسی طرح فاطمہ کا بھی ایسا ہی رول ہے وہ ابھی تک اپوا کو لے کر ساتھ چل رہی ہیں اور میرے خیال میں اپوا کا جو زیادہ بوجھ ہے وہ علی اور فاطمہ کے سر پہ ہے گو کے اس میں علینہ ہے ،ساجدہ ہے ،فلک ہے ،اسی طرح ہمارے بہت سارے دوست ہیں مطلب سبھی اپنی اپنی جگہ پر بہترین رول ادا کررہے ہیں اور بہت سارے نئے لوگ بھی اس میں شامل ہوچکے ہیں آگے چل کر وہ بھی اپوا کے لیے کارامد ثابت ہوں گے.

ساجدہ چوہدری : آپ نےآج تک جو لکھا اپنے لکھے سے مطمئن ہیں یا کوئی تشنگی کوئی کمی محسوس ہوتی ہے ؟
جہاں تک لکھنے کی بات ہے مجھے لگتا ہے کے ابھی میں سیکھ ہی رہی ہوں، سیکھنے کے بہت سے ایسے مراحل ہیں جنکو میں وقت نہیں دے پارہی بہت ساری چیزوں کی میں اصلاح چاہتی ہوں اور سیکھنا چاہتی ہوں ہاں جو لکھ لیتی ہوں اس سے مطمئن رہتی ہوں میرا اپنا ہے ذاتی ہے اسی لیے میں مطمئن ہوتی میں بہت زیادہ لکھنے پہ بلیو نہیں کرتی اور ہاں جسکو اللہ تعالی نے قوت دی ہے وہ لکھتے بھی ہیں لیکن میری ترجیح تعداد نہیں بلکہ معیار ہے ۔

ساجدہ چوہدری : اپنی تخلیقات ہمارے قارئین کے ساتھ بھی ۔شئیر کیجئیے آپ نے کہاں کہاں لکھااور کیا لکھا؟؟
شاعری کے ساتھ ساتھ زیادہ تر میرے کالم وغیرہ چھپ چکے ہیں، اللہ کا شکر ہے روز نامہ پاکستان میں ، روز نامہ طاقت ، میں بڑے اچھے طریقے سے میرے کالموں کو سپورٹ کیا جاتا ہے،پڑھا جاتا ہے،جگہ دی جاتی ہے اور میں بہت خوشی محسوس کرتی ہوں کے مجھے رحمان شامی صاحب نے ایک لمبے عرصے تک روز نامہ پاکستان کا حصہ بنائے رکھا۔ میں یہ بھی بتاتی چلوں کے میری تمام تر سرگرمیاں ذاتی ہیں میرا گھر اور گھریلو زندگی میری سب سے پہلی ترجیح ہے اور میری ادبی سرگرمیوں میں میرا گھر متاثر نہ ہو اس بات کا خیال رکھتی ہوں .

ساجدہ چوہدری : ملکی سیاست میں دلچسبی رکھتی ہیں ؟
بلکل مجھے اپنی ملکی سیاست میں بہت دلچسپی ہے اس لیے نہیں کے مجھے سیاست دان بننا ہے اس لیے کے میں اپنے کالم میں جو ملکی ایشو ہوتے ہیں اس پر لکھتی ہوں ، مجھے کوئ ایسا ایشو نظر آجائے جو میرے معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہا ہو تووہ میرے کالم کا حصہ ہوتے ہیں، اسی طرح کسی سیاست دان کی زندگی کے بارے میں ہو یا کوئی ملکی مسلہ پیدا ہو جائے میں اس پر لکھتی ہوں کالم میں۔ میرا اہم کام ہوتا ہے میں ریسرچ کرتی ہوں میں راہ چلتے کالم نہیں لکھتی میں اس لئے لکھتی ہوں تاکے لوگوں میں شعور پیدا ہو لوگ دلچسپی لیں معاشرے کو بہتر بنانے میں حصہ لیں.

ساجدہ چوہدری : ادب کے فروغ کے لیے کوئی تجویز دیں ؟
معیاری لکھا جائے، حوصلہ افزائی کی جائے، ادبی سرگرمیوں کو اہم حصہ بنایا جائے ادبی پلیٹ فارم قائم کیے جائیں ۔
ساجدہ چوہدری : آپ کو کیا لگتا ہے انٹرنیٹ کا استعمال دور جدید کی ضرورت ہے یا معاشرے پر اسکے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ؟ ؟؟
انٹرنیٹ بہت ضروری ہے آج کی دنیا میں ایک دوسرے کو جاننے کےلیے ایک دوسرے کے قریب رہنے کےلیے اپنا پیغام فورا پہنچانے کےلیے کسی تحریر کسی مسئلے کے حل کےلیے، ریسرچ کرنے کےلیے، اس دنیا میں اس ملک میں کہاں کیا ہو رہا سب جاننے کےلیے انٹرنیٹ کا ہونا بہت ضروری ہے ۔یہ ایک اہم ضرورت ہے لیکن کسی بھی چیز کا غلط استعمال ہمیں بہت سارے نقصانات اور غلط راستے پر لے جاتا ہے اسی طرح انٹرنیٹ کاغلط استعمال بیشک منفی اثرات پیدا کرتا ہے اسی وجہ سے ضروری ہے انٹرنیٹ کو ہمیشہ اچھے مقاصد کےلیے استعمال کیا جائے تو یہ معاشرے کےلیے بہت مفید ہے ۔

ساجدہ چوہدری : آپ کو اپنی کسی تحریر سے محبت ہوئی ؟
مجھے اپنی سب سے پہلی نظم بہت پسند ہے کیونکہ اس میں کوئی غلطی نہیں تھی اس لیے بھی اچھی لگتی ہے اسکی اصلاح مس ناہید قاسمی نے کی ہے ۔انہوں نے مجھے یہ بات سمجھائی تھی کے تھوڑا لکھیں مگر اپنا لکھیں الفاظ کا ردو بدل کرکے کبھی بھی شاعری مت بنائیں میں انکی اس بات کو ہمیشہ سے اہمیت دیتی آئی ہوں عمل کرتی ہوں الحمداللہ جتنا بھی لکھا میرا زاتی اس میں تخیل موجود ہے

ساجدہ چوہدری : اگر آپ کو اپنی شخصیت کو ایک لفظ میں لکھنے کا کہا جاۓ تو ؟
خوش مزاج، پر امید اور مطمئن عورت .

ساجدہ چوہدری : کسی انسان کی ایسی نصیحت جو آپ نے اپنے پلو سے باندھ لی ہو اور جو آپ کے کام بھی آئی ہو … ؟ ؟؟
مس ناہید قاسمی کی نصیحت کے بے شک کم لکھیں مگر ذاتی ہو۔ لفظوں میں ردو بدل نہ کریں اور میں اس نصیحت پر ہمیشہ سے عمل کرتی آئی ہوں جو میرے لیے مفید ثابت ہوئی ہے۔

ساجدہ چوہدری : آپ کیا سمجھتی ہیں موجودہ دور میں عورت کا معاشی طور پر مضبوط ہونا کتنا ضروری ہے ؟
جی بلکل میں سمجھتی ہوں عورت کو معاشی طور پر بہت مظبوط ہونا چاہیے عورت معاشی طور پر اگر مظبوط نہیں ہو گی تو معاشرہ مظبوط نہیں ہوگا آج جو پرابلم ہم اپنے ملک میں دیکھ رہیں ہیں اس میں یہ ہے کے عورت کو صحیح مقام نہیں دیا گیا اگر صیحح مقام دیا گیا تو اسے گھر کی سطح تک ہی رکھا گیا یہ عورت پر بھی منحصر ہے کے وہ گھر کی ذمہ داریوں کو اور گھر سے باہر کی ذمہ داری کو کیسے نبھاتی ہے میرا خیال ہے ایک عورت کو کم سے کم بوجھ اٹھانا چاہیے تاکہ وہ گھریلو ذمہ داریوں کو نبھا سکے..
ساجدہ رائٹر: آپکے شوہر کیا کرتے ہیں اور آپکی آج کل کیا مصروفیات ہیں؟
میرے شوہر بھی جرنلسٹ ہیں ۔یوں مجھے بہت کچھ اپنے شوہر صاحب سے بھی سکھنے کو ملا جو ہمیشہ میرے کام آیا۔۔۔میرے شوہر صاحب جن کا نام آغا اقرار ہارون ہے ،پاکستان کی جرنلزم میں ایک نمایاں نام ہے۔۔میری فیملی میں زیادہ تر لوگ جرنلزم سے وابستہ ہیں۔۔اس وقت میں ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوں ۔اور ادبی دُنیا کی بہترین شخصیات کے زیر سایہ مجھے کام کرنے کا موقع مل رہا ہے۔,میں ہر قدم پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اُس نے ایک خوبصورت ہمسفر اور بہت چاہنے والی فیملی عطا کی ہے۔
ساجدہ چوہدری : بڑے لوگوں کی نشانی ہوتی ہے وہ اپنے پیچھے کچھ نا کچھ تو ورثے میں چھوڑتے ہیں آپ کیا چھوڑ کر جائیں گی ؟؟؟
پہلی بات میں بڑے لوگوں میں خود کو شامل نہیں کرتی۔۔۔۔اللہ تعالی کی ادنی سی بندی ہوں۔۔۔۔۔جہاں تک کہ اپنے پیچھے جو چھوڑ کے جاوں گی وہ محنت ۔لگن۔ایمان داری اور سب سے مسکرا کر اور خوش ہو ملنا۔۔۔دولت کے پیچھے مت بھاگنا جو قسمت میں ہو گا خود چل کر آئے گا بس. محنت پر یقین رکھو ۔یہ میری ہدایت ہو گی میرے بچوں کو ۔۔
ساجدہ چوہدری : آپ کے خیال میں زندگی میں کیا ضروری ہے محبت،عزت یا پیسہ؟
زندگی میں محبت سب سے زیادہ ضروری ہے ۔محبت ہو گی تو عزت بھی ہو گی اور دولت مقدر سے ملتی ہے اس کے لیے میں اللہ تعالی سے دعا کرتی ہوں کہ مجھے وہ دو جو میں استمعال کروں وہ نہیں دو جو نمائش کے لیے ہو۔۔۔۔محبت ہی میں سب کچھ ہوشیدہ ہے دولت بھی۔عزت بھی ۔۔۔ورنہ بہت سے دولت والوں کو دولت ہونے کے باوجود محبت کے لیے ترستے دیکھا اور عزت کے لیے منت سماجت کرتے ہوئے دیکھا۔

ساجدہ چوہدری. ..بہت شکریہ میم اللہ پاک آپکو کامیابیاں نصیب فرمائے …..اللہ حافظ

414 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *