جنت میں گذرے چار دن

ویسے تو انسان کی زندگی بھی ایک سفرہی ہے ازل سے آتا اور اپنے اپنے طریقے سے یہ سفر طے کر کے واپس اپنے اصل مقام کی طرف روانہ ہوجاتا ہے، زندگی ختم ہو جاتی ہے مگر سفر ختم نہیں ہوتا،انسان دنیا میں کئی نشیب و فراز کا سامنا کرتا ہے ،اگرعمال اچھے کر کے دنیا سے گیا تو جنت کا حقدار ٹھہرے گا،بحرحال بات ہورہی تھی سفر کی تو اور سفر بھی ان مقامات کا جو دنیا میں ہی جنت کا منظر پیش کرتی ہیں ،راقم بھی سفر کرنے گھومنے پھرنے میں کافی حد تک دلچسپی رکھتا ہے سیرو سیاحت کے ساتھ ساتھ راقم کو ادب سے بھی گہرا لگاءو ہے،لکھاریوں کی ایک معروف تنظیم ;APWWA; کی بنیاد رکھنے کا اعزاز بھی بندہ ناچیز کو حاصل ہے ۔ اور راقم اس تنظیم کا سنئیر نائب صدر بھی ہے ۔ ;APWWA;وہ واحد ادبی تنظیم ہے جو ادبی و صحافتی تقریبات کے ساتھ ساتھ معلوماتی اور سیاحتی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہتی ہے،اس سے پہلے بھی یہ تنظیم کئی آفیشل ٹرپ کر چکی ہے،مگر اس بار ہم نے ٹرپ کو 4،5 روز کا کرنے کا ارادہ کیا ،جو کہ ایک مشکل فیصلہ تھا ،کیونکہ ہمارے ساتھ خواتین کی بھی ایک معقول تعداد ساتھ ہوتی ہے،اس لئے کافی سوچ بچار کرنی پڑی کہ کیا ہم اتنے دن کا وزٹ رکھ سکتے اس سلسلہ میں ، میں نے پہلا رابطہ اپنے درینہ دوست اور تنظیم کے نائب صدر حافظ محمد زاہد سے کیا ،زاہد بھائی کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے،کہ وہ ہاں نہ بھی کریں تو نہ بھی نہیں کرتے،اس کے بعد دوسرا رابطہ فاطمہ شیروانی سے کیا ،یوں تو تنظیم میں فاطمہ کو سب فاطمہ میم کہتے ہیں مگر میں ان کو فاطمہ بہن کہتا ہوں ،فاطمہ خواتین ونگ کی سنئیر نائب صدر اور انتہائی محترک رکن ہیں ،میری لاڈلی بہن اور خواتین کی سیکرٹری انفارمیشن مہوش احسن نے انہیں آئرن لیڈی کا خطاب دے رکھا ہے،فاطمہ بھی میری طرح سیر سپاٹے کی انتہائی شوقین ہیں ،وہ تو جیسے پہلے ہی تیار بیٹھی تھیں ،انہوں نے فوراً میری ہاں میں ہاں ملائی اور یوں یہ طے ہوا کہ ہم خیبر پختون خواہ کے ضلع اور پاکستان کے سوئزرلینڈ کہے جانے والے سوات کا رخ کریں گے ۔
اس سلسلے میں انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لئے اقدامات شروع کر دئیے گئے،ٹرانسپورٹ کے معاملات کی ذمے داری میں نے اپنے سر لی جبکہ وہاں پر رہائش کے لئے ہوٹلز بک کروانے کی ذمہ داری فاطمہ نے اپنے سر لی ،اور بلا آخر دونوں انتظامات مکمل کر لئیے گئے، میں یہ تو جانتا تھا کہ بحرین سے کالام کا راستہ دشوار گزار اور کافی خراب ہے ،لیکن میرا خیال تھا کہ اس راستے میں اب کافی بہتری آ چکی ہو گی،مگر میرے ایک دوست جو انہی دنوں کالام سے واپس آئے انہوں نے بتایا کہ وہ راستہ جوں کو توں ہے اور انہوں نے بھی آدھے راستے سے واپسی میں عافیت جانی ہے،یہ سن کر میری تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا،اس کا ذکر میں نے زاہد بھائی اور فاطمہ بہن سے کیا اور ساتھ ہی ٹرپ کا وینو جینج کرنے کا مشورہ بھی دیا ،میرا خیال تھا کہ اب ہمیں سوات کی بجائے ،جنت نظیر وادی کشمیر کے خوبصورت ترین مقام وادی نیلم کا رخ کرنا چاہئیے،جس پر دونوں نے اتفاق کیا اور فاطمہ نے یہ بات ٹرپ کے حوالے سے بنائے گئے وٹس ایپ گروپ میں شئیر کر دی ،پھر تو جیسے گروپ میں طوفان آگیا،اور طوفان کی شروعات میرے دوست فلک زاہد نے کی،فلک زاہد یوں تو لڑکی ہیں مگر ان کو لڑکو ں کا لائف سٹائل پسند بھی ہے اور اپنائے ہوئے بھی ہیں اور انداز گفتگو بھی لڑکوں والا ہی ہے،چھوٹی عمر میں لاجواب صلاحتیوں کی مالک ہیں ،ہارر لکھتی ہیں مگر کمال لکھتی ہیں ان کی دو کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں ،ہم ایک دوسرے کو دوست کہہ کر مخاطب کرتے ہیں ،فلک کو سوات کی بجائے کشمیر جانے پر سخت اعتراض تھا اور حسب رویت ان کی ہاں میں ہاں ملانے کے لئیے مہوش احسن پیش پیش تھیں ۔ مہوش احسن کا ذکر میں اوپر بھی کر چکا مگر یہ بتانا بھول گیا کہ مہوش احسن ایک بہت اچھی شاعرہ بھی ہیں اور شاعری پر مشتمل ان کی ایک کتاب بھی شائع ہو چکی ہے
دھیمہ مزاج اور گفتگو میں مکھن کا بے دریغ استعمال ان کی شخصیت کو مزید خوبصورت بنا دیتا ہے ۔ بحرحال فلک اور مہوش کی مزاحمت کے بعد مجھے اور فاطمہ کو سخت مایوسی بھی ہوئی ،لہذہ ہم نے سوات جانے کا ہی فیصلہ برقرار رکھا ۔ مگر ابھی سفر کے امتحاں اور بھی تھے ،سوات راونگی سے دو دن قبل آفس جاتے ہوئے میر ے پاوں پر سے گاڑی گذر گئی اور اور میرا پاوں بری طرح مسلا گیا ،آفس جانے کی بجائے فوراً قریبی ہسپتال پہنچا ،ضروری ٹیسٹ اور ایکسرے وغیرہ کروائے اللہ تعالی کے کرم سے پاوں کی ہڈی تو فیکچر ہونے سے بچ گئی تھی مگر مسل دبنے کی وجہ سے تکلیف بہت زیادہ تھی ،پاوں پر سوجن بھی آچکی تھی،سب سے پہلے اس بات کا علم فلک کو ہوا اور فلک نے یہ بات گروپ میں بھی شئیر کر دی ،اب تو سب کو تشویش لاحق ہو گئی ،اور سب کو ایسا لگنے لگا کہ شاہد اب ٹرپ نہ جا پائے، میں اپنے ان سب دوستوں کا ہمیشہ مشکور رہوں گا کہ انہوں نے مجھے تکلیف میں اکیلا نہیں چھوڑا اور سب نے یک زبان ہوکر یہی کہا کہ علی بھائی جائیں گے تو ہم جائیں گے ۔ مگر مجھے ڈاکٹرز نے 5 دن کے لئیے بیڈ ریسٹ کرنے کا کہا اور چلنے پھرنے سے بھی منع کر دیا ۔ اور دوسری طرف اس حالت میں گھر سے بھی جانے کی اجازت ملنا تقریباً ناممکن تھا ،اس لئیے میں نے زاہد بھائی اور فاطمہ سے بات کی اور دونوں کو ٹرپ لے جانے کے لئے کہا مگر دونوں نے صاف انکارکر دیا ،فاطمہ کا خیال تھا کہ ٹرپ کو آپکی صحت یابی تک پوسٹ پونڈ کر دینا چاہئیے جبکہ زاہد بھائی نے کہا کہ ٹرپ کینسل کر دیا جائے،زاہد بھائی میری عیادت کرنے میرے گھر آئے،تب بھی انہوں نے یہی کہا کہ ٹرپ کینسل کر دینا چاہئیے،مگر میں یہ کسی صورت بھی نہیں چاہتا تھا ایک تو تمام انتظامات مکمل ہو چکے تھے دوسرا تمام لوگ مکمل تیاری کر چکے تھے اور سب ایکسائیٹڈ بھی تھے،ایسی صورت میں ٹرپ کینسل کرنا میرے نزدیک نامناسب تھا،مختصر یہ کہ جب میں نے یہ دیکھا کہ اب کوئی اور چارہ نہیں تو میں نے ساتھ چلنے کا ارداہ کر لیا،اب گھر سے اجازت کیسے لی یہ ایک علیحدہ اور طویل کہانی ہے
بحرحال مقررہ دن پررات ۱۱ بجے سب مقررہ جگہ پر اکھٹے ہوئے اور یوں سوات کی جانب سفر کا آغاز ہوا ،قافلے میں میرے علاوہ زاہد بھائی ،فاطمہ،مہوش فلک،علینہ ارشد،حفصہ خالد ،فضہ ،نوید اسلم ،موسٹ سنئیر ریحانہ عثمانی،اسلم سیال ،اور حسنین کمیانہ شامل تھے ہمارا اگلا پڑاو،سرگودھا کی تحصیل کوٹ مومن تھا جہاں سے ہم نے میم نایاب جیلانی اور ضحی سید کو پک کرنا تھا ۔ نایاب جیلانی کسی تعارف کی محتاج نہیں ملک کی معروف ناول نگار اور ڈارمہ نگار ہیں ،خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ خوب سیرت اور نفیس شخصیت کی مالک ہیں ،ان سے ملنے سے پہلے میرے خیالات کچھ اور تھے میں سمجھتا تھا کہ وہ فیمیس رائٹر ہیں اور دوسرے فیمیس رائٹرز کی طرح گھمنڈی ٹائپ ہوں گی ،مگر ان سے ملنے کے بعد میرے خیالات یکسر بدل گئے ،وہ ایک عاجزانہ طبعیت کی مالک پرکشش شخصیت ہیں ،آپ ان سے مل کر ان کی شخصیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ وہ تنظیم کی چیف کو آرڈنیٹر بھی ہیں ،چونکہ ان کی تنظیم میں شمولیت مہوش کی وساطت سے ہوئی اس لئیے مہوش گاہے بگائے ہمیں یاد دلاتی رہتی ہیں کہ میں ہوں وہ، جو اس ہستی کو تنظیم میں لے کر آئی،ان کے ساتھ ان کی صاحبزادی ضحی سید بھی تھیں ،یوں تو ضحی سید 8،9 سال کی معصوم سی گڑیا ہے ۔ مگر وہ باتیں نانی اماں جیسی سیانی کرتی ہے،اور بہت خوبصورت کہانیاں بھی لکھتی ہے یوں تو ضحی سید آرمی ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں مگر لکھنا ان کو وراثت میں ملا ہے اور اپنی وارثت کا پورا پورا حق ادا کر رہی ہیں ۔ مختصر یہ کہ ہمارا اگلا پڑاو تو کوٹ مومن تھا مگر ہمارے ڈارئیور نے کہا کہ اسے شیخوپورہ اپنے گھر سے اپنے کپڑے لینے ہیں لہذہ اب پہلا پڑاو کوٹ مومن کی بجائے ،شیخوپورہ کا تھا ،شیخوپورہ پہنچے تو ہمیں پتہ چلا کہ ہمارے ڈارئیور صاحب اپنا گھر ہی بھول چکے ہیں ،ایک لمحے کے لئیے خیال آیا کہ جو صاحب اپنا گھر ہی بھول گئے کہیں سوات کے پہاڑوں میں ہمیں ہی نہ بھول آئیں ۔ مگر اب کیا کر سکتے تھے ،اب جو ہوتا سو دیکھا جاتا،ادھر کوٹ مومن پر میم نایاب اور ضحی شہزادی ہمارے انتظار میں بے چین ہوئے جارہے تھے اور دل ہی دل میں یقینا ہماری عزت آفزائی بھی کر رہے ہوں گے،بلا ٓخر ہم کوٹ مومن پہنچ گئے،اور ہمیں دیکھ کر میم نایاب اور شہزادی کی جان میں جان آئی ۔ میم ہم سب کے لئیے ٹھنڈے آموں کے ساتھ ساتھ کولڈ ڈرنکس بھی لائیں تھیں ، میں لاہور سے ہی میم نایاب اور ضحی کے لیے سیٹس فرنٹ پر رکھوائی تھیں مگر عین موقع پر مہوش نے سازش کر کے ان کو اپنے ساتھ بیٹھا لیا اور ضحی سید تو میرے ساتھ ہی بیٹھی ،میم نایاب کے آنے کی دیر تھی گاڑی کو ماحول ہی بدل گیا،اب مرکز نگاہ میم نایاب ہی تھیں ،حسب روایت ہم نے مشاعرہ شروع کر دیا جو ان کے گاڑی میں آنے تک بار بار موخر کیا جا رہا تھا،میم کے علاوہ ضحی شہزادی نے بھی مشاعرے میں پھر پور حصہ ڈالا اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مشاعرے کی روح رواں علینہ آپی تھیں ،جن کو شعر کہنے کا کوئی بہانہ چاہئیے ہوتا ہے،علینہ ارشد ہر فن مولا ہیں شاعری،کالم نویسی ہو ،خطابت ہو یا پھر انتظامی امور ہوں وہ ہر کام بخوبی سر انجام دینا جانتی ہیں ،علینہ آپی خواتین ونگ کی جنرل سیکرٹری بھی ہیں ،علینہ جب تنظیم میں آئیں تو میں نے ان کو آپی کہنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے علینہ ساری تنظیم کی آپی بن گئیں ،اس ٹرپ کو کامیاب بنانے میں ان کا کیاکردار تھا یہ آگے چل کر بیان کروں گا ۔ اب ہمارا اگلاپڑاو تھا بلکسر،بلکسر ضلع چکوال کا ایک قصبہ ہے جو موٹروے کے ساتھ ساتھ ہی ہے ،چکوال کی حدود میں داخل ہوتے ہی مجھے ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوتی ہے چونکہ چکوال میرا آبائی علاقہ بھی ہے ۔
میری بہت ساری خوبصورت یادیں چکوال کے ساتھ وابستہ ہیں ،بلکسر سے ہم راجہ فیضان کو پک کیا ،راجہ فیضان ایک کم عمر نوجوان ہے جو ابھی لکھنا سیکھ رہا ہے،کم عمر ہونے کے ساتھ ساتھ کم گو بھی بہت ہے،فیضان کو پک کرنے کے بعد ہمارا قافلہ پھر سوات کی جانب رواں دواں ہوا ،اور ہمیں اسلام آباد انٹرچینج پہنچنے تک صبح کی پو پھوٹ چکی تھی ،ہم نے وہاں رکنے کا فیصلہ کیا اور نماز فجر ادا کی ،;APWWA; والے چائے کے بے حد شوقین ہیں مگر یہاں چاہے تعویز والی تھی ،تعویز والی مطلب ٹی بیگ والی ،جس طرح آپ کے سامنے اگر چائے میں کوئی تعویز گھول کر پلائے تو آپ نہیں پئیں گے اسی طرح ہم ٹی بیگ کو اپنے سامنے گھول کر پینے سے انکاری تھے،طے یہ پایا کہ راستے میں کسی ڈھابے پر رک کر ناشتہ کیا جائے گا اور کڑک چائے پی جائے گی ۔ خیر ہم چل پڑھے اور چلتے چلتے ہم سوات پہنچ گئے ،سوات کے خوبصورت ٹنل میں جب داخل ہوئے تو محسوس ہوا کہ شاہد کسی اور دنیا میں ہی پہنچ چکے ہیں ،سوات میں داخل ہوتے ہی جہاں ہمیں خوشی محسوس ہوئی وہیں حیرت اور پریشانی کا جھٹکا بھی لگا جب ہمارا ٹرانسپوٹر ہم سے طے شدہ معاملات سے پھر گیا،یا پھر یوں کہہ لیں کہ ہمارے ٹرانسپوٹر نے ہمیں اندھیرے میں رکھ کر ہم سے معاملات طے کئیے جو اندھیرا سوات پہچنے پر ہماری آنکھوں سے چھٹا ،بقول زاہد بھائی کے یہ میری (علی)کی غلطی تھی، کہ میں نے ٹرانسپوٹر سے معاملات صیح طریقے سے کیوں نہ طے کئے،مگر میں اوپر بھی بتا چکا کہ میرا ایکسیڈنٹ ہونے کے بعد میں پوری توجہ اس معاملے پر نہ دے سکا جس کی وجہ سے ایک بڑی پرابلم ہمارے سامنے آن کھڑی ہوئی،مجھ میں لاکھ خامیاں ہوں گی مگر مجھ میں ایک خوبی یہ ہے ۔ کہ میں ہمت نہیں ہارتا ،زاہد بھائی نے ٹرپ کو مختصر کر کے واپس چلنے کا مشورہ دیا جو میں نے یکسر مسترد کر دیا ۔ ہم سوات میں داخل ہوتے ہی آڑوں کے ایک باغ میں رکے اور سب کو اس پریشانی سے بھی آگاہ کیا،باغ میں کچھ دیر رکنے اور تصویریں بنانے کے بعد ہم ناشتے کے لئیے کسی ڈھابے کی تلاش میں چل پڑے اور جلد ہی ایک ڈھابے پر پہنچ چکے تھے ناشتہ آڈر کیا ، میں فاطمہ اور علینہ نے ساری صورت حال کا جائزہ لیا اور سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ،ناشتے سے فارغ ہو کر ہم اپنی اگلی منزل فضہ گھٹ کی تلاش میں نکلے مگر ہماری وہ تلاش ختم نہ ہوئی اور ہم سوات سے کالام جا پہنچے، میں یہاں سوات کے حوالے اکھٹی کی گئی کچھ معلومات قارئین سے شئیر کرنا چاہاتا ہوں ۔ سوات خیبر پختون خواہ کا ضلع ہے اسے پاکستان کا سوئزر لینڈ بھی کہا جاتا ہے سوات میں آڑو،سیب،خوبانی اور ناش پاتی کے باغات بکثرت پائے جاتے ہیں ۔ سوات اس برس سیر و تفریح کے شوقین افراد میں اس لیے زیادہ مقبول رہا کیونکہ وہاں تک رسائی کے لیے سوات موٹر وے کو عید سے قبل کھول دیا گیا اور جس کا نتیجہ مالاکنڈ کی انتظامیہ کے مطابق تقریباً ڈیڑھ لاکھ گاڑیوں اور 10 لاکھ افراد کی آمد کی صورت میں نکلا ۔ پاکستان میں حالات کی بہتری کے بعد شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے لیے آنے والے افراد کی تعداد میں ہر برس اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ مگر یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جس طرح سیاحوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس تیزی سے سیاحتی مقامات پر انفراسٹرکچر میں بہتری نہیں لائی جا سکی ۔ خیبر پختونخوا میں ایبٹ آباد، مانسہرہ اور ہری پور جیسے شہر ناران، کاغان اور گلگت بلتستان جانے کے لیے گیٹ وے کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن ان شہروں سے گزرنے والے سیاحوں کو آج بھی 1960 کی دہائی میں بنائی گئی ایک رویہ سڑکوں سے ہی گزرنا پڑتا ہے اور نتیجہ گھنٹوں برقرار رہنے والے ٹریفک جام کی شکل میں نکلتا ہے ۔ جس طرح ہر علاقہ اپنی کسی مخصوص سوغات کی وجہ سے جانا جاتا ہے اسی طرح سوات بھی ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش اور خوراک کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے ۔ سوات میں پہلی ٹراؤٹ فش ہیچری 1950 میں قائم ہوئی تھی جبکہ سب سے بڑا ایکوا کلچر (آبی کلچر) بھی سوات کے علاقے مدین میں ہے ۔
1988 سے اس کاروبار سے منسلک محمد سعید نے بتایا کہ سوات میں تین قسم کی ٹراؤٹ مچھلیوں کی افزائش ہوتی ہے جن میں کیم لوپ، رین مبو اور براؤن شامل ہیں ، جن کی قیمت بالترتیب سات سو، نو سو اور 12 سو روپے فی کلو ہے ۔
تاہم اس کاروبار کو سیلاب سے خطرہ لاحق ہے اور پچھلے سال تین فش فارمز مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے جس کی وجہ سے انھیں ایک کروڑ روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا تھا ۔ سوات میں محکمہ فشریز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کےمطابق خیبر پختونخوا میں سوات ٹراؤٹ کی پیداوار میں پہلے نمبر ہے جہاں اس کی پیداوار پانچ سے چھ ٹن ہے، تاہم سوات میں دہشت گردی اور سیلاب کے باعث اس شعبے کو بہت نقصان ہوا تھا اور ٹراوٹ فش فارمز تقریبا ختم ہوگئے تھے ۔ تاہم اب حکومت اور مختلف غیر سرکاری تنظیموں کی مدد سے یہ بحال ہوئے ہیں ۔ ان کے مطابق سوات میں مچھلیوں کی 22 سے 25 اقسام پائی جاتی ہیں ۔ سوات کی ٹراؤٹ مچھلی یہاں آنے والے سیاحوں کی پسندیدہ خوراک ہے ۔ ہیں سوات کے تقریباً تمام ہوٹلوں میں ٹراؤٹ مچھلی دستیاب ہوتی ہے، تاہم فرائی مچھلی کی قیمت 15 سو روپے فی کلو تک ہوتی ہیں جسے سیاحوں کے علاوہ مقامی لوگ بھی بڑے شو سے کھاتے ہیں ۔ اب میں دوبا رہ آتا ہوں اپنے سفر کی روداد کی طرف ۔ ہم نے سوات سے بحرین تک کا فاصلہ تو با آسانی طے کیا مگربحرین سے کالام تک جو راستہ طے کیا اس پر ایک علیحدہ سے سفرنامہ لکھا جا سکتا ہے، میں تو ایسے راستوں کا عادی ہوں مگر جن لوگوں کا پالا پہلی با ر ان راستوں سے پڑا تھا ،ان کو اس راستے نے بہت پریشان کر دیا ،کچھ کی پریشانی تو چہرے پر عیاں تھیں ،اور کچھ دل ہی دل میں کوس رہے تھے ۔
مگر میں مطمن تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ،ایک تو ہمارے ڈارئیور صاحب بلا کے اناڑی تھے دوسرامقامی لوگوں نے بھی ہمیں خوب گھمایا ۔ ان کے بتائے ہوئے پندرہ منٹ اور اٹھارہ کلومیٹر میں توبندہ لاہور سے اسلام آباد جا کر واپس بھی آسکتا مگر کالام تھا جو آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔ بلا ٓخر ہم کالام کی حدود میں داخل ہوئے تو سب کے چہروں پر رونق آئی ،کالام میں ہمارا قیام باغ بالا ہوٹل تھا ،جہاں ہم نے پہنچ کر سکون کا سانس لیا ،یہاں پہنچ کا علینہ آپی نے ایک خوبصورت ٹی شرٹ بھی مجھے گفٹ کی ۔ ہم سب فریش ہوئے کپڑے بدلے اور دریائے سوات کے کنارے جا پہنچے ، دریا کا ٹھندا پانی،پہاڑوں سے آتی ٹھنڈی ہوا نے ہمیں ترو تازہ کر دیا ،ہم سفر کی تلخی کو یکسربھول گئے اور خوب انجوائے کیا ،اور وہیں سے میرا اور مہوش کا مشن جاسوسی بھی شروع ہوا،یہ مشن جاسوسی کیا تھا ،کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر اس پر روشنی نہیں ڈالوں گا ۔ خیر اس وقت شام کے اندھیرے چھانے لگے اور ہم شام کا کھانہ کھانے کے ارادے سے وہاں سے چل پڑے کالام کے بازار میں علینہ آپی نے اپنا ہم نام علینہ ریسٹورنٹ بھی ڈھونڈ لیا وہاں پر بیٹھ کر ہم نے چپلی کباب اور دل ماش کا لطف اٹھایا ،ہمارا کالام آنے کا مقصد مہوڈنڈ جھیل تک جانا تھا ،مگر بحرین سے سوات تک کے راستے نے ہمارے کچھ دوستوں کو اسقدر تھکا دیا تھا کہ وہ مہوڈنڈ جانے سے انکاری ہوگئے ۔ جن میں سے ایک میم نایاب بھی تھیں ، میں نے اور فاطمہ نے ان کو کنوینس کرنے کی بھر پور کوششیں کی مگر سب کو ششیں رائیگاں گئیں ۔ پھر یہ طے پایا کہ جو جھیل پر جانا چاہتا وہ چلے اور جو نہیں جانا چاہتا وہ کالام میں رکے ،اسی دوران زاہد بھائی نے بتایا کہ انہوں نے جیپ والے سے بات کی ہے وہ ساڑھے سات ہزار ایک جیپ کے لیں گے ۔ اور ایک جیپ میں سات افراد آ سکیں گے، اب یہ رقم بھی ہمارے بجٹ سے باہرتھی لہذہ مہوڈنڈ جانے کی رہی سہی امید بھی دم توڑ گئی ۔ کھانا کھانے کے بعد سب نے کالام کے مال روڈ پر گھومنے پھرنے کے لئیے نکل پڑے ۔ جبکہ میں فاطمہ اور علینہ نے ہوٹل کی راہ لی ،وہاں بیٹھ کر ہم نے نئے سرے سے سارا بجٹ ترتیب دیا اور کھانے پینے کے انتظامات میں نے علینہ آپی کے حوالے کر دئیے، نیا بجٹ ترتیب دینے میں تقریباً دو گھنٹے لگے،اس کے بعد ہم تینوں نے بھی کالام کے مال روڈ کی راہ لی اور ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر کڑک چائے پی،چائے نے ہمیں پھر سے تازہ دم کر دیا ۔ اس کے بعد ہم نے بھی کالام کے بازار کا رخ کیا ،کالام وادی سوات کا ایک خوبصورت علاقہ ہے جو دریائے سوات کے کنارے واقع ہے ۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی 6,800 فٹ ہے ۔ یہ اسلام آباد سے 270 کلومیٹر دور ہے ۔ کالام ایک مشہور سیاحتی مقام ہے تاہم اچھی سڑک نہ ہونے کی وجہ سے سیاحوں کو یہاں پہنچنے میں مشکلات پیش آتی ہیں ۔ یہاں سیاحوں کے لیے کافی تعداد میں قیام گاہیں اور مہمان خانے موجود ہیں ۔ یہاں گرمیوں میں موسم نہایت خوشگوار رہتا ہے اور سردیوں میں شدید سردی اور برف باری ہوتی ہے ۔ یہ مینگورہ سے تقریباً 99 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ گلیشیر جھیل اور مہوڈنڈ جھیل یہاں کی مشہور جھیلیں ہیں ۔ رات کافی دیر تک سب بازار میں گھومتے رہے اور آخر کار جب تھک گئے تو ہوٹل پہنچ کر سو گئے،کچھ لوگ تو ایسے بھی تو جو کھانا کھانے کے بعد ہی آ کر ہوٹل میں سو گئے ،گویا اتنی دور جا کر بھی انہوں نے نیند کو ہی عزیز رکھا ۔ کالام کی صبح بہت خوبصورت تھی اور موسم بھی کافی ٹھنڈا تھا ،آج ہم نے مہوڈنڈ جانا تھا مگر رات کو مہوڈنڈ جانے کا پروگرام کینسل ہوچکا تھا سو اب ہم نے بحرین کا رخ کرنا تھا ۔ صبح کا ناشتہ کیا جب سب ناشتہ تیار ہونے کا انتظار کر رہے تھے تو اسی ریسٹورنٹ کے باہر میری ایک چیپ والے سے بات ہوئی جس نے چودہ لوگوں کے سات ہزار روپے مانگے اور موڈنڈ سے آگے ایک چشمے پر بھی لے جانے کی یقن دہانی کروائی ،نیت ایک بار پھر بدل گئی کیونکہ جتنے وہ پیسے مانگ رہا تھا وہ ہمارے بجٹ سے سوٹ کرتے تھے،اس ضمن میں فاطمہ سے بات کی لیکن انہوں کہا کہ علی بھائی اب پھر نئے سرے بات شروع ہو گی اور کسی بدمزگی کا سبب بنے گی لہذہ اب واپس بحرین ہی چلتے ہیں ،یوں واپسی کی راہ لی،راستے میں ایک دو پوئنٹس دیکھنے کے بعد چشمہ آب شفاٗ پہنچے ،یہاں پر ڈولی پر بیٹھ کر جانا پڑتا سو چار چار لوگوں کے گروپ نے ڈولی پر بیٹھ کر چشمے کی راہ لی ۔ پورے سفر میں یہ واحد جگہ تھی جہاں میں نے انتہائی سکون محسوس کیا اور میں یہاں گھنٹوں بیٹھنا چاہتا تھا،یہاں لفظ مجھ پر الہام کی صورت اتر رہے تھے،مگر وقت کی قلت کے باعث زیادہ دیر قیام نہ کر سکے ۔ اور بحرین کا راستہ لیا ۔ بحرین سوات کا ایک شہرہے ’’بحرین‘‘ ہم اسے’’عرب‘‘ کا بحرین سمجھے مگر وہاں نہ یہ ارب تھے نہ وہ عرب تھے ۔ اربوں کی کمی سے صورتحال غیر اطمینان بخش تھی، ایک کھردری سڑک دریہ تھی ۔ گاڑیوں کی یلغار تھی اور ہچکولے پے درپے تھے ۔ سیاحوں کی آمد آمد تھی ۔ نمازی کم مگر مسجد و مدارس کی تعمیرات کا غلغلہ تھا ۔ ہر فرلانگ پر فریادِ چندہ تھی ۔ معصوم و مجبور بچے بیلچے اور کدالیں اٹھائے گویا سیاحوں کی آنکھوں کا تارا تھے مگر معصومیت سے دھول جھول رہے تھے ۔ کالام سے بحرین کے درمیان ایک جگہ پر جہاں سڑک زیر تعمیر تھی ہماری گاڑی پھنس گئی کیونکہ وہاں سے گزرنے کی جگہ انتہائی کم تھی گاڑی اگلا ٹائر تو گزر گیامگر پچھلا ٹائر گزارنا بہت مشکل تھا میں جس طرف بیٹھاتھا اس طرف سے دیکھ سکتا تھاکہ نیچے کئی فٹ گہری کھائی تھی یہاں ہمارے ڈارئیور انتہائی مہارت دیکھائی اور وہاں کے مقامی لوگ بھی اکھٹے ہو کر ہماری گاڑی کی وہاں سے خیریت سے نکلنے کی دعا کر رہے تھے ۔
ایک موقع تو بلکل ایسا آیا کہ جہاں لگا بس ابھی گاڑی گہری کھائی میں جا گرے گی دل میں ایک لمحے کے لئیے خیال آیا کہ میں فوراً گاڑی سے اتر جاوں مگر دوسرے لمحے ہی خیال آیا کہ دوستوں کو چھوڑ کا گاڑی سے اتر جانا بزدلی ہوگی ۔ اللہ تعالی نے خاص کرم کیا اس دوران آپا ریحانہ عثمانی مسلسل دعا کر رہی تھیں ،آپا ہماری تنظیم کی موسٹ سنئیر ممبر ہیں اور عرصہ دراز سے ریڈیو پاکستان سے منسلک ہیں ،گولڈ میڈلسٹ بھی اور ان کی شاعری کی کتاب بھی شائع ہوچکی ہے انتہائی سلجھی ہوئی اور با اخلاق شخصیت کی مالک ہیں ۔ مختصر یہ کہ ہم نے وہ راستہ بھی عبور کر لیا باہر کھڑے ہوئے لوگوں نے بھی شکر الحمداللہ کے نعرے بلند کئے اور ہم نے بھی اس پاک ذات کے شکر گذار تھے جو ہر مشکل کے بعد آسانی لاتا ہے ۔ اس ٹرپ کے دوران مجھے بحرین دوسرے علاقوں سے نسبتاًصاف ستھرا لگا یہاں ہمارا قیام سٹی ہوٹل میں تھا جو کہ ایک صاف ستھرا ہوٹل تھا ،کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ یہاں بھی ایک آب شفاٗ چشمہ ہے ،اور ہم سب اس چشمے کی تلاش میں نکل پڑئے ،میم نایاب جو پہلے پہاڑوں پر جانے سے گبھرا رہی تھیں ،اب ہم سب کو پیچھے چھوڑے ہوئے تھیں ۔ چشمہ تو ہمیں نہ ملا البتہ میم نایاب کو ایک گھر ایسا مل گیا جہاں جا کر وہ ان کے رہن سہن اور ان کے کلچر کے بارے معلومات اکھٹی کر سکیں ،جب وہ کافی دیر تک واپس نہ آئیں تو مجھے تشویش ہوئی ،چونکہ وہ لوگ پردے کے سخت پابند ہوتے ہیں اس لئیے ہم میل میں سے تو کوئی ان کے گھر نہیں جاسکتا تھا ،اس لئے میں نے فاطمہ کو فون کر کے بلایا اور جس گھر میں میم نایاب گئی تھیں اس گھر کی نشاندہی کی ،فاطمہ نے جاکر دیکھا تو محترمہ ان کے گھر میں لگے پھلوں کے درختوں سے پھل توڑ کر کھا رہی تھیں ،خود پھل کھا کر اپنا خون بڑھا رہی تھیں اور باہر ہمارا خون خشک ہوا پڑا تھا ۔
بحرحال اس کے بعد ہم نے دریا کا رخ کیا اور میم نایاب کے لائے ہوئے آم دریا کے برفانی پانی سے ٹھندے کر کے کھائے ،اس دوران مہوش اور فلک کسی غلط فہمی کی بنیاد پر مجھ سے اور میم نایاب سے ناراض ہوگئیں اب پتہ نہیں ان کو غلط فہمی ہو گئی تھی یا پیدا کر دی گئی تھی،ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مجھے ہی ان کو منانا پڑا،تب تک رات کا وقت ہو گیا تھا ہم رات کا کھانہ کھانے چلے گئے علینہ آپی اور احسن نے مل کر کڑاہی بنوائی،احسن ہماری تنظیم کے ممبر تو نہیں ہیں مگر وہ مہوش کے دلکش ہیں اور مہوش ہماری تنظیم کی دلکش ہے ،یوں احسن بھائی سے ہمارا گہرا تعلق بن جاتا ہے ،سمجھدار ،اور نفیس انسان ہیں اور سہی معنوں میں بیوی کے خدمت گار انسان ہیں ۔ اللہ تعالی دونوں کی جوڑی سلامت رکھے ۔ کھانا کھانے کے بعد حسب رویت سب نے بازار کا رخ کیا، بحرین کا بازار تھا اور رات تقریبا ً دس بجے کا ٹائم تھا،جب علینہ آپی نے آ کر مجھے کہا کہ علی بھائی یہ بچی آپ سے کوئی بات کر نا چاہتی ہے میں نے ان کے عقب میں دیکھا تو شہزادی ضحی کھڑی تھی اس نے اپنے ننھے اور معصوم ہاتھوں سے مجھے ایک چشمہ دیتے ہوئے کہا ،انکل یہ میری طرف سے آپ کے لئیے ہے،یقینا یہ لمحہ میرے لئیے بہت انمول تھا زندگی میں بے شمار گفٹس ملے ہوں گے مگر کسی بچے کی طرف سے یہ پہلا گفٹ تھا جو مجھے ملا ،میرے لئے وہ لمحہ ناقابل فرموش ہے، میں اپنی زندگی میں کیئے ہوئے سبھی سفر بھول سکتا ہوں ،مگر بحرین کا وہ بازار اور اس بازار دیا گیا ننھی پری کی طرف سے دیا گیا خوبصورت تحفہ کبھی نہیں بھول سکتا ۔ بحرین میں رات گذارنے کے بعد ہمارا ارادہ لاہور واپس آنے کا تھا،لیکن اس سے پہلے فاطمہ کی خواہش تھی کہ ہم گبین جبہ جائیں ۔
گبین جبہ بھی پہاڑوں سے گھری ایک سرسبز خوبصورت وادی ہے سوات کی تحصیل مٹہ میں واقع خوبصورت وادی گبین جبہ اپنے ہرے بھرے مرغزاروں ، گھنے جنگلات، بلند بالا پہاڑوں اور شہد کی وجہ سے شہرت کی حامل ہے ۔ گبین جبہ جاتے ہوئے ایک جگہ پر جا کر ہماری گاڑی نے جواب دے دیا،ہم گاڑی سے اترے اور ایک ٹرک والے سے لفٹ لے کر اس میں سوار ہوگئے وہ لمحہ بھی ایک یادگار لمحہ تھا ،جب ہم ٹرک کی چھت پر چڑھ کر مستیاں کر رہے تھے،گانے،ملی نغمے ،جو ہمیں آتا تھا وہ گنگنائی جارہے تھے،اور اس میں نوید اسلم پیش پیش تھا نوید اسلم ہماری تنظیم کا ایکٹیو ممبر ہے اور تصویر یں کھنچوانے کا بہت شوقین ہے،تھوڑا تھوڑا شوخا بھی ہے مگر دلچسپ انسان ہے،ہم گبین جبہ کے ٹاپ تک تو نہ جاسکے مگر وہاں کی ایک خوبصورت آبشار تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ۔ وہاں لگے لکڑی کے تختوں پر سے دریا عبور کر نا بھی ایک دلچسپ تجربہ تھا ،خواتین میں سے سب نے ڈرتے ڈرتے وہ تختے عبور کئیے مگر علینہ آپی اور حفصہ نے تو بلا خوف خطر بھاگتے ہوئے وہ دریا پار کیا ،حفصہ ہماری تنظیم کی ایک بہت ایکٹیو ممبر ہیں ،ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ گرمی ہو یا سردی وہ عبایا ضرور پہنتی ہیں اور پردے کی پابند ہیں پردے کے ساتھ نماز کی بھی پابند ہیں ،ان کے گھرکا ماحول بہت مذہبی ہے ،لیکن اس کے باوجود اس کے گھر والے ہم پر اعتماد کر کے اسے ہمارے ساتھ جانے کے لئے بخوشی اجازات دے دیتے ہیں ۔
یہاں پر دریا کے درمیان کھڑے ہو کر زاہد بھائی سے معذرت بھی کی تھی کیونکہ بحرین میں میری ان سے تلخ کلامی ہو گئی تھی جس کا مجھے شدت سے افسوس تھا،انہوں نے بھی کھلے دل سے معذرت قبول کی،ہر انسان کی کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے،میری کمزوری ہمیشہ میرے دوست رہیں ہیں ، میں نے زندگی میں سب سے زیادہ نقصانات بھی دوستوں کے ہاتھوں اٹھائے ہیں ،جتنے بھی زخم ہیں میرے دل پر سب دوستوں کے لگائے ہوئے ہیں ،اس سب کے باوجود دوست میری کمزوری ہی رہے ۔ چونکہ ہم نے واپس لاہور بھی روانہ ہونا تھا تو اس لئیے یہی کوشش تھی کہ ہم یہاں سے جلدی روانہ ہوں ،اس دوران ضحی شہزادی میرے پاس آکر بیٹھ گئی اور مجھ سے بڑی معصومیت سے پوچھا کہ انکل ہم واپس جارہے ہیں تو میں نے کہاکہ جی بیٹا اب ہم واپس جائیں گے تو اس نے بڑی معصومیت سے کہا ،انکل پلیز ایک دن اور رک جائیں نا،اب یہ کیسے ممکن تھا کہ شہزادی مجھے ایک دن رکنے کا کہتی اور میں واپسی کی راہ لیتا،سب کو اکھٹا کیا اور ان کو بتایا کہ ہمارا بجٹ ختم ہوگیا ہے لیکن اس کے باوجود ہم واپس نہیں جائیں گے،سب کو مل کر مینج کرنا ہو گا اور ہم گبین جبہ سے مالم جبہ روانہ ہوں گے ۔ لہذہ سب نے آمادگی کا اظہار کیا تو ہم مالم جبہ کے لئیے روانہ ہوگئے،مالم جبہ جاتے ہوئے راستے میں موسم انتہائی سہنا ہوگیا اور فرنٹ پر بیٹھی علینہ گوگل میپ کے ساتھ ڈرائیور کی رہنمائی بھی کرتی جارہی تھیں اور موسم کی مناسبت سے خوبصورت گانے بھی لگائی جارہی تھیں ،جس سے گاڑی میں ایک سماں بندھ گیا تھا،ایک بار پھر ڈائیور کی نالائقی کی وجہ سے ہم ایک کچے راستے پر جا پہنچے جو ویسے ہی انتہائی دشوار گذار تھا اور بارش ہونے باعث مزید پھسلن بن گئی تھی،بڑی مشکل سے اللہ اللہ کرکے ہم مالم جبہ پہنچے ۔ مالم جبہ سطح سمندر سے 8 ہزار 7 سو فٹ کی بلندی پر واقع ہے ۔
سردیوں میں مالم جبہ برف کی موٹی سفید چادر اوڑھ لیتا ہے دنیا بھر سے برفباری دیکھنے کے شوقینوں کی پہلی ترجیح مالم جبہ ہوتی ہے یہاں سے 2 ہزار سال پرانے بدھا کے مجسمے اور دیگر تاریخی آثار برآمد ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قدرتی حسن سے مالامال کرتے وقت بڑی فیاضی سے کام لیا ہے ۔ دنیا بھر سے سیاح اپنی آنکھوں کو قدرتی مناظر سے خیرہ کرنے کیلئے شمالی علاقوں کا رخ کرتے ہیں ۔ مالم جبّہ پاکستان کی بلند ترین تفریح گاہ ہے ۔ سردیوں کے موسم میں یہ پاکستان کا سب سے بڑا سیاحتی مرکز بنتا جا رہا ہے ۔ پاکستان کو قدرت نے قدرتی حسن سے مالامال کرتے وقت بڑی فیاضی سے کام لیا ہے، اپنے بے پناہ قدرتی حسن کی وجہ سے پاکستان دنیا بھر کے سیاحوں کیلئے جنت کی حیثیت رکھتا ہے ۔ پاکستان میں فطرت اپنی تمام تر رعنائیوں اور خوبصورتیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہے ۔ پاکستان کے شمالی علاقوں کا اپنی خوبصورتی کے لحاظ سے کوئی جواب نہیں ، یہ اپنی اپنی خوبصورتی کے لحاظ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں لیکن حالیہ برسوں کے دوران جس جگہ نے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب راغب کیا ہے وہ سیاحتی مقام مالم جبّہ ہے ۔
یہ اب پاکستان میں سب سے بڑی سردیوں کی تفریح کا درجہ حاصل کرتی جا رہی ہے ۔ یہ دنیا کے بلند ترین مقامات میں سے ایک ہے ۔ پاکستان میں یہ واحد سیاحتی اور تفریحی مقام ہے جہاں پر 800 میٹر بلند برف کی چوٹیوں سے پھسلا جا سکتا ہے ۔ وادی سوات کے دوسری سیاحتی مقامات پر ناقص انتظامات اور انفراسٹرکچر کے باعث بہت کم سیاح آتے ہیں لیکن مالم جبہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے ۔ پوری دنیا سے قدرتی مناظر دیکھنے کے شوقین افراد کی کوشش ہوتی ہے وہ مالم جبہ ضرور جائیں ۔ مالم جبہ میں رہائش کافی ایشو ہوتا ہے ،ہم بھی جس ہوٹل میں ٹھہرے چہ جائے کہ وہ ایک خوبصورت لوکیشن پر واقع تھا مگر رہنے کے لحاظ سے اتنا مناسب نہ تھا ۔ مگر میں یہاں فاطمہ کی کاوشوں کو ضرور سراہوں گا ،یہ ہوٹل بھی ان کی کاوش سے بہت کم وقت میں اور مناسب رینٹ پر ہمیں میسر آگیا تھا،رات کا کھانا احسن بھائی اور زاہد بھائی نے مل کر بنایا ،کھانا کھانے کے بعد کچھ لوگ تو سو گئے مگر ہم کہاں سونے والے تھے ہم نے کرسیاں اٹھائیں اور ہوٹل کے باہر جا بیٹھے ،فضہ باہر بیٹھے ہنڈ فری لگائے گانے سن رہی تھی اس نے ہنڈ فری کی ایک سائیڈ اتاری اور مجھے دے دی یوں ہم دونوں گانے سننے میں مشغول ہوگئے ،فضہ ہماری تنظیم کی ممبر تو نہیں ہیں مگر ہماری تنظیم کی بہت خاص ممبر اور سوشل میڈیا کوآرڈنیٹر جن کا ذکر میں اوپر بھی کر چکا ہوں فلک زاہد کی بڑی بہن ہیں ،فضہ یوں تو ہم سب کو جانتی ہیں اور ہم سب بھی ان کو جانتے ہیں مگر فضہ کا کہنا تھا کہ علی بھائی آپ میرے بھائی تو پہلے بھی تھے مگر اس ٹرپ میں آپ میرے پکے والے بھائی بن گئے ہو ۔
خیر ہم جتنی دیر وہاں بیٹھ سکتے تھے بیٹھے اس کے بعد اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے،سوئے پھر بھی نہیں رات دیر تک ہنسی مذاق چلتا رہا اور پھر آخر سونے کا فیصلہ کر ہی لیا مگر ابھی سوئے ہی تھے کہ علینہ آپی نے آکر پھر جگا دیا ،اور کہا کہ صبح ہوگئی سب تیار ہوں اور چلنے کی تیاری کریں ،بادل نخواستہ اٹھے اور نہا دھو کر چلنے کے لئے تیار ہوئے ۔ گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے ناجانے کیوں ضحی شہزادی مجھے خود سے ناراض ناراض لگی میں نے اس سے پوچھنے کی بہت کوشش کی مگر اس نے کچھ نہیں بتایا،اس بات نے مجھے بہت ہرٹ کیا کہ آخر ایک بچی جس سے میں بہت زیادہ پیار بھی کرتا ہوں اس کی مجھ سے کیا ناراضگی ہو سکتی ۔ یہاں پر ایک بار پھر کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوئیں جو سوات سے نکل کر ہی دور ہوئیں ۔ ہم نے سوات پہنچ کر صبح کا ناشتہ کیا اور لاہور کے لئیے رخت سفر باندھا ،کوئی نہیں جانتا کہ آخرت میں کسی کو جنت ملے یا نہ ملے مگر مجھے یہ کہنے میں کو ئی عار نہیں کہ ہم نے یہ چار دن خدا کی دنیا میں بنائی ہوئی جنت میں گذارے ،اس سفر کو کامیاب بنانے میں فاطمہ ،علینہ ،اسلم سیال نے نمایا کردار ادا کیا ،علینہ آپی نے انتہائی سمجھداری سے چیزوں کو مینج کیا ،اس کے لئے انہیں کافی باتیں سننی اور برداشت بھی کرنی پڑھیں مگر اس باہمت لڑکی نے ہمت نہیں ہاری اور سفر ختم ہونے تک اپنے فرائض سر انجام دیتی رہیں ۔ اسلم سیال نے بھی ٹرپ کو کامیاب بنانے کے لئیے کافی حد تک سپوٹ کیا ،اسلم سیال یوں توکافی عرصہ سے ہماری تنظیم کے ممبر تھے مگر وہ پہلی بار ہمارے کسی ٹرپ میں شامل ہوئے ۔ بہت عمدہ شخصیت کے مالک انسان ہیں ،ان کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے ان کو بعد ازں تنظیم کا فنانس سیکرٹری مقرر کیا گیا ۔ حسنین کمیانہ کی منفرد اندازِ شاعری اور ان کی فرمائیش پر لگنے والا گانا بلیاں بلیاں آکھاں بھلا ہم میں سے کون بھول سکتا ہے ۔ بہت ہی حسین یادیں لے کر بلآخر یہ سفر اختتام پذیر ہوا ۔ واپس آنے کے بعد کافی دنوں تک تو اس سفر کے سحر سے نہیں نکل سکا ،اس سفر میں کچھ دوستوں سے بہت سارے شکوے اور شکائتیں تھیں مگر گاڑی سے اترنے سے پہلے سب کچھ بھول کر اترا ۔ میں ;APWWA; کی تمام ٹیم کا شکر گذار ہوں جنہوں نے میرے ان لمحوں کو یادگار بنایا ۔ راستے میں ہم نے مقدس اعوان کی سالگرہ کا کیک کاٹا ،اور لاہور پہنچ کر
اس خوبصورت اور ناقابل فرموش سفر کا اختتام ہوا ۔

تحریر ،ایم ایم علی

1,190 total views, 3 views today

3 Responses to جنت میں گذرے چار دن

  1. Rehana usmani says:

    بہت خوب علی ماشاء۔ اللہ۔ بہت خوبصورت انداز تحریر۔ ھے۔ ایک بار پھر وہ حسین سفر یاد آگیا

  2. Shania_Chaudhary says:

    Maa Shaa ALLAH Bohaat khooB Bhaii

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *