کہساروں سے آگے

کائنات جس کی وسعت کا تعین ابھی تک انسان نہیں کر سکا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی حضرت انسان کائنات کے بیش بہا سربستہ رازوں سے ناواقف ھے۔ زمین کائنات کا چھوٹا سا حصہ ھے اور بے حد حسین ھے۔ زمین کو دریاؤں، پہاڑوں، میدانوں، جھیلوں، آبشاروں، ریگستانوں، صحراؤں اور گھنے جنگلات نے اپنے حسن سے زیب و زینت دے رکھی ھے۔زمین پے پائی جانے والی سب مخلوقات میں افضل ترین مخلوق حضرت انسان ہی ھے۔انسان نے اس حسین دنیا کو مزید حسن سے مزین کرنے کے لئے اپنی زہانت کو استعمال کیا اور ایسے ایسے پُر ہیبت پُر اسرار شہکار منصۂ شہود پر جلوہ گر ھوئے کہ اس دورِ جدید میں بھی ان کا کوئی ثانی نا بنایا جا سکا۔ نا ہی ان کے اسرار، ہیبت، اور حسن کی ماہیت سمجھی جا سکتی ہے وہ کون لوگ تھے جنہوں نے پتھروں کو کاٹ کر رستے بنائے؟وہ کون لوگ تھے جنہوں نے اہرام مصر کو ہیبت عطاء کی، وہ کون لوگ تھے جنہوں بابل کے معلق باغات کو وجود بخشا،وہ کون لوگ تھے جنہوں نے اجنتا کے غاروں میں مصوری کے حسین ترین فن پارے تخلیق کئے جن کی آج بھی نظیر نہی ملتی، وہ کون لوگ تھے جنہوں نے روم ویونان کے ایوان ہائے کو رفعت و عظمت ودیعت کی،وہ کون لوگ تھے ان کے کیا نام تھے؟ وہ کس قبیلے قوم اور نسل سے تعلق رکھتے تھے جن کے پھٹے ہاتھوں جھکی کمروں اور گدلی آنکھوں کے عکس میں اس عظیم و عالیشان دنیا کی مختلف تہذیبوں کے عکس بنتے اور بگڑتے رہے۔صدیوں پے محیط انسانوں کی اس تماشا گاہ میں ہر دور میں جدت اور تبدیلی آتی رہی۔ ہر علاقے میں لوگوں کے رہن سہن،اندازِ ستر پوشی، رہائش،خوراک، زبان و بیان الگ اور مختلف ہیں۔اگرچہ دنیا قدرتی طور پر حسین ہے۔ لیکن انسان نے اپنی کاوشوں اور کوششوں کی بدولت اس میں اور رنگ بھر دئیے ہیں۔زیر مطالعہ اس سفر نامے میں سوات کے چند خوب صورت علاقوں کی خوب صورتی ان علاقہ مکینوں کے رہن سہن اور ان علاقوں کے باسیوں کی مشکلات کا ذکر ھو گا جن سے وہ روزانہ گزرتے ھیں اس کے باوجود ان کی زبان پے ناشکری کا ایک لفظ نہیں ہے۔
آل پاکستان رائٹر ویلفئر ایسو سی ایشن (APWWA) کی جانب سے ایک ٹرپ شمالی علاقہ جات کی طرف جا رہا تھا۔ مجھے (APWWA) کی انفارمیشن سیکرٹری مہوش احسن نے اس سفر میں شرکت کی دعوت دی جو میں نے با خوشی قبول کر لی۔ چار جولائی کو ہمارا یہ پندرہ لکھاریوں پے مشتمل کارواں سوات کی جانب عازم سفر ہوا۔ (APWWA) کی ٹیم نے مجھے کوٹمومن سے پک کیا۔ چار جولائی رات دو بجے ہم کوٹ مومن انٹرچینج سے اسلام آباد کی طرف روانہ ھوئے۔یہ میری (APWWA) کے باقی ممبرز سے پہلی با ضابطہ ملاقات تھی۔ اس سے پہلے میں مہوش احسن اور ہارر رائٹر فلک زاہد سے ماہنامہ پھول کی سالانہ کانفرنس میں مل چکی تھی۔ (APWWA) کے بانی و سئنیر صدر ایم ایم علی کی سربراہی میں یہ قافلہ بذریعہ موٹروے سے اسلام آباد جا رہا تھا۔میری ملاقات فاطمہ شیروانی صاحبہ سے ہوئی جو مجھ سے ملنے کے لئے بہت پُر جوش تھیں۔ ان کی محبتوں اور خلوص نے آغازِ سفر میں ہی اپنے حصار میں لے لیا تھا۔اسلام آباد تک (APWWA) کی اس بازوق ٹیم نے پورے رستے لاجواب قسم کا مشاعرہ کیا جس میں سب نے ہی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا یہاں تک کہ ڈرائیور حضرت بھی بازوق لوگوں کے“ زوقِ با کمال“ سے بے حد محظوظ ہوئے۔ریحانہ آپا کی شاعری اور علینہ ارشد (جنرل سیکرٹری خواتین ونگ) کے انداز و بیان اور دلنشین آواز انتہائی خوب صورت شاعری نے مسحور کر دیا تھا۔اس کے ساتھ مہوش احسن کا شاعری کا عمدہ زوق قابل ستائش تھا۔ یہ لوگ اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے کھاتے پیتے ھنستے گاتے کسی بھی وقت کسی بھی جگہ کسی بھی سیچوئشن میں مشاعرہ شروع کر دیتے ہیں۔ شاعری ان لوگوں کی غذا ھے۔میرا ذاتی خیال ہے یہ لوگ کسی کے گھر تعزئیت پے بھی جائیں تو شاعرنہ انداز میں اظہارِ افسوس فرماتے ہوں گے۔جیسا کہ میں نے بتایا اپوا ٹیم کی اصل غذا مشاعرہ ھے سو مشاعرے کے احتتام پے سب لوگ ٹھنڈے آموں سے لطف اندوز ھوئے۔ فجر کے قریب نماز فجر ادا کرنے کے لئے ہم نے اپنا پہلا پڑاؤ اسلام آباد کے قریب ڈالا۔سب نے نماز فجر ادا کی۔ اسلام آباد انٹرچینج کے اسی یادگار مقام پر بانی (APWWA) سئنیر نائب صدر ایم ایم علی صاحب نے مجھے (APWWA) کا ممبر شپ کاڑد دیا۔ فلک اور مہوش نے اپنا دل پسند مشغلہ یعنی فوٹوگرافی کے ذریعے ان لمحات کو کیمرے میں محفوظ کر لیا۔سب کا ارادہ تو چائے پینے کا تھا کیوں کہ (APWWA) ٹیم نشے کی حد تک چائے کی شیدائی ھے سوائے میرے۔ مگر پاؤڈر والی چائے چونکہ ان کا ٹیسٹ نہیں تھی سو ھمارا قافلہ ایک مرتبہ پھر اپنی منزل کی طرف گامزن تھا۔سوات کا علاقہ شروع ہوا تو نان ایکٹیو ہوئی (APWWA) ٹیم الرٹ ہو گئی۔ میری طرح شاید بہت سوں کو سوات کی شروعات دیکھ کر دھچکا لگا ہو گا۔
“ اچھا تو یہ ہے سوات؟”دھول مٹی تیز دھوپ اور شدید گرمی۔ کیا ہم اس سوات کو دیکھنے آئے ہیں؟یہ سب تو ہمارے کوٹ مومن میں بھی تھا۔ ناحق اتنی تکلیف کی۔
ہماری سوچ نے ضحی کا بھی احاطہ کر لیا تھا۔ ضحی ہماری انتہائی زہین اور سمجھدار دختر ہوا کرتی ہیں جو آغازِ سفر سے لے کر اب تک انتہائی پُرجوش تھیں مگر سوات کو دیکھ کر ان کو بھی دھچکا لگا تھا انہوں نے میرے کان میں گھس کر فوری طور پے ارشاد فرمایا۔“ آپ نے کتنا بڑا جھوٹ بولا تھا بجیا!“ ضحی ہمیں والدہ جتنا احترام دینے کی بجائے بڑی بہن جتنا احترام دیتی ہیں اور ہمارے خاندانی نام بجیا سے ہی مخاطب کرتی ہیں۔“ ہم نے کیا جھوٹ بولا ضحی؟”اس الزام پر ہمارا تڑپنا ضروری تھا۔ ضحی نے کالے شیشوں سے باہر جھانکتے ہوئے ناک چڑھائی۔“ یہ سوات ہے تو واپس ہی چلتے ہیں۔ اس سے اچھے تو کلر کہار کے پہاڑ ہیں۔ جہاں بارش تو برستی ہے۔ جھولے بھی ہیں اور پکنک پوائنٹ بھی۔ ادھر تیز دھوپ اور بہت ساری ڈسٹ ہے۔ جھولوں کا تو نشان بھی نہیں۔“ضحی کا دکھ ہم سمجھ رہے تھے۔ سو ان کی تشفی کرواتے ھوئے شیشوں سے باہر جھانکنے لگے۔ ہمیں ان آڑو خوبانی اور سیب سے لدے باغوں کا انتظار تھا جن کے بارے میں کہانیاں سنا سنا کر ہمارے لکھاری حضرات نے ہمیں باؤلا کر رکھا تھا۔ اب جو دیکھنے کو ملا اس کا نقشہ کچھ اور تھا۔
آڑو کے باغات تو تھے مگر آدھے سے زیادہ خالی ہو چکے تھے جیسے سرگودھا کی طرف دسمبر میں ہی ہمارے زاتی کینو کے باغات ٹھیکیدار خالی کروا دیتے ہیں یہاں بھی کچھ ایسی صورتِ حال دکھائی دے رہی تھی۔ ہمیں آنے میں دیر ہوئی تھی اور موسمی پھل اتارے جا چکے تھے۔ جو تھے وہ کارگل کے پھلوں میں شمار ھوتے تھے چھوٹے اور ترش پھل جنہیں زیادہ تر جوس بنانے کی فیکٹریاں خریدتی ہیں یا وہ کم ریٹ پے بازاروں میں بکتے ہیں۔خیر اللہ اللہ کر کے ہمیں ایک گوہر مقصود دکھائی دے ہی گیا تھا
ڈرائیور نے سب کا جوش و خروش دیکھ کر گاڑی ایک باغ کے پاس روک دی تھی۔ یہ آڑو کا باغ تھا۔ مزدور دھڑا دھڑ یہ صحت مند سرخ آڑو توڑ توڑ کر کریٹس میں پیک کر رہے تھے ہمارے پوچھنے پے پتہ چلا کہ یہ مال کراچی کے لئے پیک کیا جا رہا ھے۔ پھل سے لدے درختوں کو دیکھ کر دھوپ اور گرمی بھول گئی اور ہم سب نے جی بھر کے آڑو توڑے تصویریں بنائیں اور ڈھیر سارے آڑو کھائے۔پھر باغوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ دائیں بائیں باغات ہی باغات۔ یہ پھلوں کی خوشبو تھی یا وادء سوات کی کوئی امر کر دینے والی مہک۔ روح کی گہرائیوں میں اتر جانے والی اس خوشبو کو بھلا کیا نام دیا جا سکتا تھا؟ سڑک کے کناروں پے درختوں کے نا ختم ہونے والے سلسلے تھے اور دور پہاڑوں پر گھنے جنگلات۔ سڑک کے کناروں میں اگی گھاس کے اندر وہ پلومرا کے پھول تھے جن کی فردوسی مہک ایک لمحے کو صدیاں لمحے اور وقت بھلا دیتی ھے۔زندگی لمحہ بھر کے لئے ٹہر جاتی ہے اور سانس پل دو پل کے لئے رک جاتی ھے۔ یہ ایک ناقابل یقین تجربہ تھا جس نے ہم پر سحر پھونک دیا تھا۔
سوات میں ہمارا دوسرا پڑاؤ وہ ڈھابہ نما ہوٹل تھا جس میں سرخ قالین پر بیٹھ کے ہم نے اپنے شکم سیر کئے۔ نان نما پراٹھے اور سبز مرچ سے بنا آملیٹ اتنا برا نہیں تھا جو ہمیں پنجاب کے ذائقے یاد دلاتا۔ہماری ٹیم نے کڑک چائے سے خود کو تازہ دم کیا۔ ضحی سید نے چائے میں ان سب کا برابر ساتھ دیا۔اور ایک مرتبہ پھر ہم اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے۔یوں تو شمالی علاقہ جات کے تمام خطوں میں فطرت کی رعنائیاں اپنے تمام تر حسن کے ساتھ جلوہ افروز ہیں مگر جو دلکشی ریاست سوات کی وادیوں میں ہے شاید ہی کہیں اور دکھائی دے۔ سوات میں دلفریب مناظر کی فروانی اس قدر ہے کہ نگاہ ایک منظر کے سحر سے نکل نہیں پاتی کہ دوسرے منظر کی فسوں کاری کا شکار ہو جاتی ہے۔یہاں کہیں تو سر بفلک برفیلی چوٹیاں اپنے حسن کی تابانی سے نظروں کو خیرہ کرتی ہیں۔ تو کہیں سر سبز مر غزار اپنی رنگینی سے دل موہ لیتے ہیں۔ کہیں خوش خرام ندیوں سر مست دریاؤں کی روانی انسان کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتی ہے۔تو کہیں دلکش آبشاروں اور جھرنوں کی آوازیں کانوں میں رس گھولتی ہیں۔اس دلربا وادی میں ایک طرف انگور آڑو لوکاٹ خوبانی آلو بخارا سیب اور ناشپاتی جیسے باآور درختوں کی بہتات ہے۔ تو دوسری طرف گھنے جنگلات کی بھر مار ھے۔خشکی پر مار خور، ریچھ، یاک، تیتر، چکور اور ندی نالوں میں انواع و اقسام کی رہو، کورال، مشکا، بیا اور پامفلیٹ مچھلیاں بکثرت پائی جاتی ہیں۔سوات بہت ہی خوب صورت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔اس وادی کا قدیم سنسکرت نام ادھیانہ یعنی“ باغ”تھا۔ان علاقوں میں جنگلی حیات اور نباتاتی تنوع ان ہی جنگلات کی وجہ سے ہے۔سوات کا سب سے بڑا جنگل“ اتروڑ“ ہے۔مہوڈنڈ کی نیلگوں جھیل اور کالام اشو کے جنگل ان سیاحوں کے ماحولیاتی اور جمالیاتی شعور کا منہ بولتا ثبوت ہیں جو ا پنی جان جوکھوں میں ڈال کر ان دشوار رستوں کا سفر کرتے ہیں۔
سوات کی وادی فطری کاریگری کا وہ نادر شاہکار ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔عموما شمالی علاقوں میں جانے والے سیاحوں کی اکثریت ان علاقوں سے بیگانہ وار گزر جاتی ہے۔ ان میں سے بے شمار لوگ بنجر پہاڑوں کی اوٹ میں بہشت شمائل وادیوں سے بے خبر ہوتے ہیں۔اور کچھ مشکل راستوں کی مسافت سے گھبرا کر لوٹ جاتےہیں۔موجودہ حکومت تعمیراتی اور ترقیاتی کاموں پے توجہ دے رہی ہے مگر کیا ہی خوب ھو کہ مہوڈنڈ سے لے کر درال جھیل تک راستے آرام دہ اور سڑکیں پختہ ہوں۔ تا کہ ملکی اور غیر ملکی سیاح دشوار رستوں سے گھبرا کر واپس نا جائیں اور تمام فطری مناظر سے جی بھر کے لطف اٹھا سکیں۔
جولائی کی چار تاریخ کا سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔دھوپ نو بیاہتا دولہن کے چمکیلے طلائی زیورات کی طرح لِشک رہی تھی۔ہمارا پہاڑوں کا سفر شروع ہو چکا تھا بل کھاتی سڑکیں پہاڑوں کے سینے شق کرتی اونچائیوں کے نئے جہانوں کو متعارف کرواتی تھیں۔ ٹنل سے گزرتے ایک لمحے کو مجھے یہ لگا میں امارات کی ترقی یافتہ ریاستوں میں سے گزر رہی ھوں ٹنل کی لمبائی اور خوبصورتی نے مجھے مسحور کر دیا تھا۔ ٹنل کی لمبی ٹھنڈی سرنگ کو دیکھ کر میں یہ سوچنے پے مجبور ھو گئی تھی کہ کون لوگ ہیں یہ جو پتھروں کے سینوں میں زندگیاں رواں کر دیتے ہیں۔شمالی علاقہ جات کے دیگر خطوں کی طرح سوات میں بھی آریائی نسل کے لوگ آباد ہیں۔ گو کہ مؤرخین ابھی تک ان کی نقل مکانی کا کوئی واضح جواب دینے سے قاصر ہیں۔ بعض انہیں ایشائے کوچک سے نقل مکانی کر کے برِ صغیر میں وارد ہونے والی آریائی نسل سمجھتے ہیں۔اور بعض انہیں سکندرِ اعظم کے ساتھ آنے والے یونانی قبائل کی اولاد خیال کرتے ہیں جو بعد میں یہیں آباد ہو گئے تھے۔کچھ ان کو ترک اور ایرانی نسل سے جا ملاتے ہیں اور کچھ انہیں چینی الاصل قرار دیتے ہیں۔تاہم محققین شمالی علاقی جات کے دیگر خطوں میں بسنے والے لوگوں کو عربی النسل سمجھتے ہیں۔یہ روایت سب سے زیادہ مستند سمجھی جاتی ہے۔کیونکہ خطہ عرب میں جب اسلام کا سورج پوری آب و تاب سے چمکنے لگا تو اہلِ قریش نے اس نئے مذہب کی نا صرف مخالفت کی بلکہ اسلام کی اشاعت روکنے کے لئے جان توڑ کوششیں بھی کرتے رہے۔ رفتہ رفتہ جب اسلام کی طاقت میں اضافہ ہونے لگا تو مخالفینِ اسلام کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی کر کے سندھ کے میدانوں میں آبسی۔ وہاں سے ہندوؤں کے مظالم سے تنگ آکر ان لوگوں نے کوہستانی علاقوں کی طرف کوچ کیا۔چناچہ مختلف اوقات میں وہ تمام لوگ اس خطے میں آ بسے جسے آج کل“ شمالی علاقہ جات”اور قدیم دور میں“ دردستان”کہا جاتا تھا۔
اگر شمالی علاقہ جات کی قدیم تاریخ پر ایک نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ خطہ مختلف ادوار میں مختلف سلطنتوں کے تصرف میں رہا ہے۔کبھی یہاں کی زمامِ کار چین کے ہاتھ رہی تو کبھی ترکستان کے پاس۔کبھی اہل ایران یہاں پے چھائے رہے تو کبھی تبت و کشمیر کے حکمران یہاں کے مالک بنے رہے۔گو کہ یہاں مقامی طور پر مضبوط و مستحکم حکومتوں کا اکثر فقدان ہی رہا ہے۔ تاہم یہاں تاریخ کے چند ادوار ایسے گزرے ہیں جب مقامی حکمرانوں نے اپنی زاتی صلاحیتوں کے بل بوتے پر طاقتور حکومتوں کی بنا ڈالی۔ان میں آذر جمشید، ملکہ نور بخت، ملکہ جوار خاتون، علی شیر آچن، اور راجہ گوہر امان قابل ذکر ہیں۔ہم سوات کی قدیم تاریخ کے پُر پیچ سفر پے تھے کہ اچانک ہماری نگاہوں نے اُس دریائے سوات کو دیکھا جو بعض لوگوں کی نظر میں بس دریائے سوات ہی تھا جبکہ ہمارے لئے وہ صرف ایک دریا نہیں تھا۔ ہمارے بھائی فوج میں ہیں اور سوات آپریشن میں شامل بھی رہے۔ ان کی رائے سوات کے لئے بہت مختلف تھی۔انہوں نے بتایا تھا کہ جھیل درال، سید گئی جھیل، وادی لالکو،وادی کیدام اور علاقہ کالام حسنُ و جمال میں اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔لیکن جو سحر دریائے سوات کی شوریدہ لہروں میں ہے وہ کم ہی کہیں نظر آتا ہے۔ اب دریائے سوات ہمارا ہمسفر تھا۔ اور دھوپ میں پہلی سی تمازت نہیں تھی۔ دریائے سوات کا آئینہ صفت پانی پتھروں سے اٹھکیلیاں کرتا سُر بکھیرتا اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔اس کی سرمست لہروں کے نظارے سے حسین شاید ہی کوئی اور منظر آنکھ دیکھنے کے قابل ہو۔سنگلاخ چٹانوں کا سایہ اور نیچے بہتا دریائے سوات مگر ہماری منزل ابھی بہت دور تھی۔شمالی علاقہ جات کی ایک بے حد مشہور و معروف علمی ادبی شخصیت پیر غلام نصیر صاحب ہیں جو کہ رہتے تو“ تھک“ گاؤں میں ہیں البتہ ان کا تعلق سواتی قبیلے سے ہے۔ اور پورے شمالی علاقہ جات میں پیر صاحب کو ایک بلند پایہ روحانی پیشوا کی حثیت حاصل ہے۔ ان کی مقبولیت کا چرچہ بہت دور تک ہے اور پورے شمال میں ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ شعرو ادب کے میدان میں بھی ایک قد آور شخصیت کا درجہ رکھتے ہیں۔نظم و نثر میں تصوف، اخلاقیات اور عشقِ رسول آپ کے مرغوب ترین موضوعات ہیں۔شینا، عربی اور فارسی زبان میں آپ کی بے شمار کتب منظرِعام پر آ چکی ہیں۔جن میں معدنِ توحید، خیابانِ چلاسی، تحائفِ قدسیہ،گلدستہ عشاق، غنچۂ ملوک قابل ذکر ہیں۔ہم نے پیر غلام نصیر صاحب کے بے شمار عشاق یہاں دیکھے۔ جن میں چائے خانے کے مالکوں سے لے کر لوکل گلوکاروں تک سب پیر صاحب کی شاعری کے شیدائی تھے۔
بحرین میں گرمی کی شدت کم اور دھوپ میں تلخی نہیں تھی مگر ہم بحرین میں رستہ بھٹک گئے تھے۔دو گھنٹے پہاڑوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے کے بعد ایک ٹریفک پولیس کانسیٹیبل نے درست راستے کی نشان دہی کی تھی۔ یہاں ایک بات کا اضافہ کرتی چلوں کہ راستہ کسی بھی مقامی بندے سے پوچھنا سراسر حماقت ہے۔ ان کے اٹھارہ کلو میٹر ہمارے کم سے کم بھی اڑتالیس کلو میٹر بنتے ہیں۔اور دشوار گزار اونچے نیچے رستوں کی وجہ سے یہ وقت مزید کئی کئی گھنٹوں پے محیط ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ سفر سے پہلے ان علاقوں میں آنے کے لئے مکمل انفارمیشن کا ہونا ضروری ہے اور خاص طور پر کالام جاتے ہوئے بحرین میں ایک رات کا قیام صحت کے لئے بہت اہم ہے کیونکہ کالام تک کا سفر نہائت صبر آزما ہے دو گھنٹے کا سفر کئی گھنٹوں پے مشتمل ہو جاتا ہے۔ان علاقوں میں سیاحت کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہاں کی خستہ حال سڑکیں ہیں۔گو کہ تعمیراتی کام کہیں کہیں ہوتا دکھائی دے رہا تھا موجودہ حکومت کی وجہ سے شاید شمالی عوام کی قسمت بھی بدل جائے ورنہ ان علاقوں کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی اولاد جیسا سلوک روا رکھا گیا ہے۔ ایک چیز جو میں نے علاقہ مکینوں سے مل کر نوٹ کی صحت، تعلیم،اور آمدورفت کی سہولیات نا ھونے کے باوجود ان لوگوں میں ناشکرا پن نہیں ہے۔یہ لوگ اپنی زندگیوں میں مگن اور خوش ہیں۔ تاہم حکومتِ پاکستان کو ان علاقوں پر خصوصی توجہ دینا چائیے۔یہ سڑکیں خواہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی شاہراہ کا بحرین تا کالام کا حصہ ہو یا چکدرہ تا فتح پور کا حصہ سب کھنڈرات بن چکے ہیں۔اسی طرح کالام سے مہونڈنڈ تک کا رستہ انتہائی پُر خطر اور شکستہ ہے۔اتروڑ اور گبرال کی سڑکوں کا حال بھی تباہ کن ہے۔راستے دشوار گزار اور پُر خطر ہیں۔حکومتی بے روخی کا واضح شکار یہ علاقے ترقیاتی منصوبوں کا حصہ نہیں ہیں۔ ان سڑکوں پر آئے دن حادثات ہوتے رہتے ہیں۔جن میں کئی قیمتی جانیں دریا برد ہو جاتی ہیں۔ یہاں کی مقامی آبادی غربت اور تعلیمی پستی کا شکار ہے۔معاشی طور پر یہ لوگ تباہ حال ہیں۔اسکول ہسپتال اور تفریحی پارکس نہیں ہیں۔ یہاں کی سیاحت ملک کی معیشت کو سہارا دے سکتی ہے۔مگر سڑکیں نا ہونے کے باعث بے شمار سیاح ان حسین جادونگری جیسی وادیوں کو بغیر دیکھے ہی پلٹ جاتے ہیں۔
جیسا کہ میں نے بتایا کالام کا رستہ انتہائی خستہ حال ہے اوپر سے سترہ گھنٹے مسلسل سفر کرتے ہوئے ہمارے سمیت ہماری ٹیم کی ہمت جواب دے گئی تھی۔ پھر بھی ہماری پیاری دوست فاطمہ اور ایم ایم علی صاحب ہماری ہمت بندھاتے رہے۔مگر ایک وقت آیا جب پہاڑوں کی ہیبت ہمارے دل پر چھا گئی۔ ہچکولے کھاتی ہماری گاڑی ہر دوسرے پل ہمیں خوف و ہراس میں مبتلا کر دیتی تھی۔کم از کم بھی ھم نو دس ھزار فٹ کی بلندی پے ہوں گے۔ نیچے سوات جوش کھا رہا تھا۔ بائیں طرف ہواس گم کرنے والی گہری کھائیاں تھیں۔ رستے انتہائی خستہ تھے۔ہم اس سے زیادہ خوفناک نظارہ نہیں دیکھ سکتے تھے سو ہمارے آنسو آبِ رواں کی طرح ایک تواتر سے بہنے لگے۔ہم نے سنا تھا پہاڑ حسین ہونے کے ساتھ ساتھ سنگین بھی ہوتے ہیں آج دیکھ کے یقین آ گیا تھا۔اس تکلیف دہ صورتِ حال میں جذباتی طور پر پیاری دوست فاطمہ شیروانی نے ہمیں بہت سہارا دیا۔کیونکہ ہمارے ساتھ ہمارا بے بی ضحی بھی رونے لگا تھا۔ ہم پہاڑوں کی ہیبت میں اتنے جذباتی ہوئے کہ ہنستی کھیلتی بچی کو بھی رولا دیا جسے سر علی اور ڈاکٹر علینہ بہلانے کے لئے گاڑی سے باہر لے گئے تھے۔خیر ہمارے رونے کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب پوری ٹیم ہماری وجہ سے پریشان ہو گئی۔ ہماری بن بادل برسات نے اپوا ٹیم کے سب طوطے کبوتر اڑا دئیے۔فاطمہ شیروانی کہیں“ نایاب آپ تو بہت بہادر ہیں آپ اتنی اچھی رائٹر ہیں“۔ اور ہم کہیں“ نا جی۔ ہم بہادر نہیں ہیں اور نا ہم اچھے لکھاری ہیں۔ہم بس عام سے انسان ہیں اور اس وقت خوف سے مر رہے ہیں“ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ایسے دشوار رستوں کے لئے ذہنی طور پے تیار رہنا چائیے۔پہاڑوں پے جانا آسان نہیں ہے ایک آگ کا دریا ہے اور صبر وحوصلے کے بغیر منزل پے پہنچنا ممکن نہیں ہے۔اور نا ہی حسین وجمیل وادیوں تک رسائی آسان ہے اس کے لئے تھکا دینے والا سفر بہت ہمت اور صبر سے طے کرنا ہوتا ہے۔ گاڑی میں بیٹھے بائیس گھنٹے گزر چکے تھے رینگ رینگ کر چلتی گاڑی بلآ خر قلہ کوہ سے دھیمی رفتار کے ساتھ اترنے لگی۔اور سورج کے پر سمیٹنے سے بہت پہلے ہم اس جادونگری میں پہنچ چکے تھے جسے“ وادی کالام”کہا جاتا ہے۔“وادی کالام میں چیری بلاسم“
تو یہ تھی دور تک پھیلی ہوئی وادی کالام تا حد نگاہ پہاڑوں کا طویل سلسلہ اور تیغ کوہ پے شان سے سر اٹھا کر کھڑے دیودار اور اخروٹ کے درخت جو ہرآنے والے کو نخوت سے دیکھ رہے تھے۔ ہمارا قیام باغ بالا ریسٹ ہاؤس میں تھا۔ طے یہ پایا کہ سب لوگ پہلے فریش ہوں گے اور پھر آس پاس کا علاقہ اور وادیاں دیکھیں گئے۔ہمارا ھوٹل بہت اچھا تھا۔کشادہ بیڈروم اور کھلے گلیارے۔بالکونیوں سے چاروں اور دلکش پہاڑ سبزہ اور نیلگوں آسمان دکھائی دیتا تھا۔ ہمارے روم کے بلکل سیدھ میں دو پہاڑوں کے بیچ وہ حسین گلیشئر تھا جس کے اوپر جولائی کے موسم میں بھی برف لشکتی دکھائی دیتی تھی۔ شاید ہی اس دلنشین منظر کا فسوں قلم بند کیا جا سکے۔نگاہ وہاں سے ہٹتی اور اس آبشار میں الجھ جاتی جسے آتے ھوئے گھڑی بھر کے لئے دیکھا اور ہم مسحور رہ گئے تھے۔ سفید جھاگ سا پانی تیغِ کوہ سے نکل رہا تھا۔ ہمیں اک پل کو یوں محسوس ہوا جیسے نورِسپئیدہ سحر کا تمام تر اجالا اس آبشار کے گرد ہالہ بنا رہا ہے۔ اور اس سفید جھاگ نے پورے منظر کو دلنشین کر دیا تھا۔ حالانکہ اس وقت دھوپ بے نور ہو رہی تھی۔ کوہستانوں سے آگے بھی کوہستان تھے مگر ان کے وسط میں جو حسین منظر تھے وہ عام نگاہ کی گرفت میں نہیں آسکتے تھے۔ اس کے لئے خاص زوق اور خاص نگاہ کا ہونا ضروری تھا۔ہم نے تیغِ کوہ سے نکلتی آبشاروں کو شیبِ کوہ میں اترتے دیکھا اور دم بخود رہ گئے۔ یہ اتنا پانی کہاں سے آ رہا تھا؟ مسلسل گرتا اور بہتا پانی چوبیس گھنٹوں میں ایک پل کے لئے بھی نا رکنے والا پانی۔ سفید دودھ سے موتیوں کی طرح گرتا پانی آتا جاتا اور بہتا پانی۔ اچھلتا کودتا اور مچلتا پانی۔ اردگرد جھکے درختوں کے ہرے جھنڈ۔ سبز درختوں کی قبا میں چھپی یہ سفید آبشار دیکھنے والی آنکھ کو اک پل کے لئے منجمند کر دیتی ہے۔ اور اس کے گرد ان گنت کھلے چیری بلاسم کے پھول جن کی تیز دلنشین مہک نے لمحہ بھر کے لئے ہر متحرک شے کو جامد کر دیا تھا۔تا حد نگاہ ملائم پتیوں والے چیری بلاسم پتھروں کے بیچ میں کسی شرارتی بچے کی طرح سر اٹھا کر راہگیروں اور مسافروں کا رستہ روک لیتے تھے۔ یہ چیری بلاسم رات بھر کے اس قیام میں ہمارے حواسوں پر چھائے رہے۔ وادی سوات نے ہمیں بہت سارے خوب صورت پھولوں سے آشنا کیا تھا۔ ہم نے یہاں چیری بلاسم اور پلومرا کے بے شمار پھول دیکھے۔ جو سرکاری ریسٹ ہاؤسز اور امرا کی رہائش گاہوں کے سامنے وافر مقدار میں لگے تھے۔اور ان کی تیز فردوسی مہک ہمیں سرِراہ مدہوش کر دیتی تھی۔دور کالام مال روڈ کی دوکانوں سے دھیما میوزک پسِ منظر میں ایک منفرد ڈائمنشن پیدا کر رہا تھا۔
اس دن آسمان شفاف تھا۔ اور دریائے سوات کسی باوفا دوست کی طرح ہمارے پہلو میں تھا۔پانی کا رنگ کبھی نیلا تو کبھی سبز ہو جاتا تھا۔آسمانوں کے کونے سرخ ہو رہے تھے اور پھر افق کے اس پار ایک چمکیلا تارہ ابھرا تھا ہم اس کے سامنے مبہوت اور ساکت کھڑیتھے۔ جیسے کسی نے اسم پھونک کر ہمیں ساکت کر دیا ہو پھر رفتہ رفتہ وہ روشن دائرہ مدھم ہوا اور چاروں جانب سے بڑھتے ہوئے سائے اسے نگل گئے۔ہماراپورا گروپ دریائے سوات کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ہم مال روڈ سے گزرتے ہوئے شوریدہ لہروں والے اس دریا کی طرف جا رہے تھے جس نے ہمیں اپنے سحر میں جکڑ رکھا تھا۔یہاں دریا کا منظر بھی دیدنی تھا۔ صبح ناشتے کے بعد سے ہم خالی معدہ تھے مگر اس وقت دریا کے سبزی مائل پانی کو دیکھ کر بھوک پیاس اڑ چکی تھی۔صاف وشفاف ریت کی ایک وسیع چادر لبِ دریا تک پھیلی ہوئی تھی۔کہیں کہیں پیروں کے نیچے چھوٹے پتھر اپنی موجودگی کا احساس دلاتے تھے۔دریا کی تیز پُر جوش اور جوشیلی لہریں بڑے بڑے چٹان نما پتھروں سے ٹکراتی اور پلٹ جاتی تھیں اس کوشش میں جھاگ اڑاتا پانی دور تلک پھیل جاتا اور ٹھنڈے برفیلے پانی کے چھینٹے ہمارے منہ اور ہاتھوں کو نم کر دیتے تھے۔یہ ایک دلچسپ کھیل تھا جسے ضحی دیر تلک ہمارے ساتھ بیٹھ کر دیکھتی رہی۔ ھمارے باقی دوست اور ساتھی اس خوب صورت منظر کو کیمرے کی قید میں محفوظ کر رہے تھے۔اونچے پتھروں پر بیٹھ کر ان مچلتی بے چین ہوتی اور دیوانہ وار آگے بڑھتی لہروں کا نظارہ کرتے ہوئے ایک گونا سکون اور زمانوں کی راحتیں محسوس ہو رہی تھیں۔لہروں سے بغلگیر ہو کر آنے والے تازہ ہوا کے نرم ٹھنڈے اور لطیف جھونکے ساری تھکاوٹ کا رس نچوڑ چکے تھے۔یہاں سے سبز قبا اوڑھے پہاڑ اور گھنے درختوں کے جھنڈ واضح نظر آ رہے تھے۔دور پہاڑوں پر اب رات اتر آئی تھی۔ اور وادی کالام کا مال روڈ ایک ہجوم بیکراں سے بھر چکا تھا۔ پورے مال روڈ کو رنگا رنگ روشنیوں نے اپنے حصار میں لیا ہوا تھا۔واپسی پر پلومرا اور چیری بلاسم کے مکٹ ریسٹ ہاؤس کے قریب سے گزرتے ہوئے دعوتِ نظارہ دے رہے تھے۔ اور ان کی تیز فردوسی خوشبو نے ایک مرتبہ پھر ہمارے قدموں کو زنجیرپا کردیا تھا۔ریسٹ ہاؤس میں کسی الٹرا ماڈ فیملی کا قیام تھا۔ ایک طرحدار دوشیزہ سلاخوں والے بیرونی گیٹ کے قریب کھڑی موبائل فون پر کسی حضرت کے بخیے ادھیڑ رہی تھیں۔ دوسری طرف سے شاید معذرتیں کی جا رہی تھیں۔جو طرح دار خاتون کسی قیمت پے بھی قبول کرنے کے موڈ میں نہیں تھیں۔ ہمیں کن سوئیاں لینے کی عادت نہیں تھی ورنہ معاملہ کھوج ہی لیتے۔ ہم نے کھلتے رنگوں کے چیری بلاسم اور پلومرا کو حسرت سے دیکھا اور اپنے گروپ کے تعاقب میں چل دئیے۔ضحی ہم سے بہت آگے تھی اور فلک لالہ کی شدید فین بنی ہوئی تھی۔ اس وقت بھوک سے نڈھال پیچھے مڑ کر دیکھتی اور ہاتھ کو لبوں تک لے جاتے ہوئے اشارہ کرتی۔ ہماری فوڈ انچارج شاعرہ اور ماہر نفسیات ڈاکٹر علینہ تب تک ہوٹل انسپیکشن کرنے کے بعد ایک اچھے ٹیسٹ والا ہوٹل سلیکٹ کر چکی تھیں سوئے اتفاق ہوٹل کا نام بھی علینہ ہی تھا اور اس کا کھانا بھی ڈاکٹر علینہ کی طرح لاجواب تھا۔
کھانے میں ہم نے پہلی مرتبہ چپلی کباب کھائے تھے ویسے تو سبزی بھی بہت لذیذ اور دال ماش بھی لاجواب تھی مگر چپلی کباب کا اپنا مزہ تھا۔ جیسے ہی چپلی کباب کا آرڈر دیا گیا ضحی صاحبہ ہمارے کان میں گھس گئیں“ اب ہم چپلوں والے کباب کھائیں گے؟ کیا یہ چپل سے بنتے ہیں؟ آپ مجھے بریانی منگوا دیں مجھے گندی چپلوں والے کباب نہیں کھانے“ ابھی ضحی صاحبہ کا بھونپو آن ہی تھا جب گرما گرم چپلی کباب ہمارے سامنے آگئے تھے۔ جن کی تیز خوشبو نے ہماری بھوک کو بھی چمکا دیا تھا۔ہمارے باقی ساتھیوں میں کچھ لوگ ویج اور کچھ لوگ نان ویج تھے جیسے ہماری بہت پیاری اور چھوٹی سی رائٹر مہوش احسن بلکل بھی میٹ نہیں کھاتیں۔ سو ان کے لئے سبزی یا دال آرڈر کی جاتی تھی۔ مہوش کے ہزبینڈ احسن بھی ان کے ساتھ تھے جن کا مہوش کے لئے بھرپور خیال محبت کئیر انتہائی قابل تحسین تھی۔فلک ضحی اور بذات خود ہم بھی نان
ویج تھے سو چپلی کبابوں سے خوب لطف اٹھایا۔کھانے کے بعد ہماری پوری ٹیم اچھی چائے کی تلاش میں تیتر بیتر ہو گئی تھی کچھ لوگ شاپنگ اور کچھ چائے کافی کی تلاش میں لگ چکے تھے۔ ہم اور ضحی آئسکریم کھا کے گلا خراب کر نے کے بعد مال روڈ پے اپنے دوستوں کو ڈھونڈتے رہے اور پھر جلد ہی اپنے ہوٹل پہنچ گئے۔اس وقت رات کی قبا نے ہر فطری اور غیر فطری منظرکو ڈھانپ رکھا تھا۔باغ بالا میں ہماری رہائش دوسری منزل پے تھی۔طویل ٹھنڈے اور لمبے برآمدے سے نظر آتی پوری وادی کالام ہمارے سامنے تھی۔اس وقت پہاڑوں پر اسودی رنگ نمایاں تھا۔ اور ان پہاڑوں پر شان سے کھڑے درخت اس وقت سر نیہواڑے تھکن زدہ دکھائی دیتے تھے۔ جیسے مختلف رنگوں اور مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے رنگ رنگ کے سیاحوں کی پُرشوق نگاہوں سے تھک چکے ہوں۔ اور اب گہری رات کی سیاہی میں خود کو مامون سمجھ رہے ہوں۔پہاڑی ڈھلوانوں پے موجود گھروں میں برقی قمقمے دور افق پر ٹنگے ستاروں کی مانند لگ رہے تھے۔ آغازِ سفر سے لے کر اب تک ہماری سوچوں کا محور اونچے پہاڑوں پر موجود یہ پتھروں سے بنے گھر تھے۔ تیغِ کوہ پے موجود یہ گھر ہمیں تعجب میں ڈالنے کا سبب بنے ہوئے تھے۔ چھوٹی چھوٹی اونچی نیچی پگڈنڈیاں اوپر سے نیچے تک دکھائی دیتی تھیں اور کہیں کہیں تو یہ خطرناک معمولی سی پگڈنڈیاں بھی معدوم ہو جاتی تھیں۔باقاعدہ کوئی بھی رستہ نا ہونے کے باوجود یہ لوگ دن میں کتنی مرتبہ نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے آتے ہوں گے؟ان میں سے بہت سارے بزرگ ہوں گے۔ اور بہت سارے بیمار اور لاچار بھی۔ اور حاملہ عورتیں دورانِ حمل کیسے اوپر سے نیچے چڑھتی اور اترتی ہوں گی؟ پہاڑوں کے ان باسیوں کی زندگی کس قدر کٹھن دکھائی دیتی ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم قلہ کوہ پے موجود ان گھروں کے باسیوں سے ضرور ملیں گے مگر اس کے لئے ہمیں ایک طویل لمبا اور پُر خطر پہاڑی راستہ عبور کر کے پہاڑوں کی چو ٹیوں پے پہنچنا تھا۔ اور یہ اس وقت ناممکن تھا۔
تھوڑی دیر پہلے شفاف نظر آتا آسمان اخترانِ شب کی بجائے بادلوں کی فوج سے ڈھکا نظر آنے لگا تھا۔ پہاڑی علاقوں میں بارش کے مزاج کا کچھ پتہ نہی چلتا کب بارش آئے برسے اور کب آسمان پے اخترانِ شب روشن نظر آنے لگیں۔ فضا میں خنکی محسوس ہونے لگی تھی۔ سوات کے ابتدائی شروعاتی علاقوں میں تو سخت گرمی ہے۔آپ کو ٹھنڈے موسموں سے لطف اٹھانے کے لئے کالام اور ملم جبہ تک طویل سفر کرنا ہو گا۔سوات میں آپ کو ایسے تو پلیٹ میں سجا سجایا کچھ نہیں ملے گا اس کے لئے دریافت کرنا ہو گا،ڈھونڈنا ہو گا، کھوجنا ہو گا۔کئی کئی گھنٹوں کی مشقت اٹھانا ہو گی۔ طویل اونچے نیچے خطرناک رستوں پے پہروں چلنا ہو گا۔ٹھنڈے علاقوں حسین مرغزاروں اور برف سے ڈھکے گلیشئر دیکھنے کے لئے تھکا دینے والی مسافت طے کرنا ہو گی۔وادی سوات آبشاروں، جھیلوں،سرسبز اور برف پوش پہاڑوں سے مالا مال ہے۔اس کے ٹھنڈے چشمے، صاف و شفاف دریا،لہلہاتے کھیت، پھلوں سے بوجھل باغات،سبز قبا سے ملفوف چراگاہیں، اونچے اور پُر ہیبت پہاڑ،دلفریب موسم، بادلوں کے سائے، ٹھنڈی ہوا کے جھونکے، سیاحوں کو مسحور کر دیتے ہیں۔
سوات تاریخ میں جتنا طاقت ور ہے حُسنُ و جمال میں اس سے کئی بڑھ کے طاقت ور ہے۔سوات کی خوبصورت ترین وادیوں میں وادی کیدام، وادی لالکو،وادی ایلم، بالاء وادیوں میں وادی دین، وادی شانگ، وادی میاندم شامل ہیں۔ہماری ٹیم نے ایک لمبی چوڑی میٹنگ کے بعد طے یہ کیا تھا کے علی الصبح دو جیپوں میں سوار ہو کر مہونڈنڈ جھیل کی طرف سفر کیا جائے۔مہونڈڈ جھیل جس کے لئے ہماری پیاری دوست فاطمہ شیروانی بے انتہا جذباتی تھیں۔ہم نے پورے سفر میں ان کے منہ سے بس مہونڈڈکے قصے ہی سنے تھے۔ ان کا کامل یقین تھا کہ مہونڈڈ دیکھنے والے جھیل سیف الملوک کے حُسن دلکشی اور سحر کو بھول جائیں گے۔ بقول فاطمہ شیروانی کے مہونڈڈ دیکھنا ان کا خواب ہے۔ اور یہ خواب اس وقت تعبیر کے عمل سے گزرنے کے لئے زور پکڑ گیا جب ہم نے دو چار مقامی لوگوں سے مہونڈڈ کا حدود اربعہ اور راستوں کے طول وعرض کے بارے میں مکمل معلومات لیں۔ اور ہمارا ننھا سا دل رستوں کی اونچائیوں کو سہار نا سکا۔ پُر خطر دشوارگزار رستوں کا سن کر ہم نے ببانگ دہل اعلان کر دیا کہ“ ہم اور ہماری ضوئی مہونڈڈ نہیں جائیں گے“
ہمارے اس اعلان نے ہماری پوری ٹیم کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ ہمارا انداز دو ٹوک اور فیصلہ کن تھا جس میں ردو بدل کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اس صورتِ حال کو دیکھ کر ہمارے ٹرپ کے منتظم اعلی جناب ایم ایم علی صاحب نے فرمایا۔“ اگر میم نایاب نہیں جائیں گی تو کوئی بھی مہونڈڈ نہیں جائے گا“ اس حکم نامے کے بعد پوری ٹیم میں چہ میگوئیاں اور بھنبنھاہٹیں شروع ہو گئیں۔ ہم یہ ہر گز نہیں چاہتے تھے کہ ہماری وجہ سے پوری ٹیم کی خواہش اور جھیل دیکھنے کی آرزو تہ خاک ہو۔ اوپر سے ہماری دوست فاطمہ شیروانی کا ھمیں ساتھ لے جانے پے دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔اب ان کے خواب نے بھی پینترا بدل لیا تھا۔ فاطمہ شیروانی فرما رہی تھیں“ ہمارا تو خواب تھا ہم تمہارے ساتھ مہونڈڈ جھیل دیکھتے“ اب انہوں نے راتوں رات خواب بدل لیا تھا تو اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں تھا۔پھر بھی ہم اپنی پیاری دوست کا دل رکھنے کے لئے
پُر پیچ رستوں کے سفر کے لئے تیار ہو گئے تھے۔ پوری رات وہ ہمیں مہونڈڈ کے حُسن و رعنائی اور دلنشینی کے قصے سنا سنا کر مائل با سفر کرتی رہیں اور ہم دل ہی دل میں خوف سے کپکپاتے ہوئے بظاہر مسکراتے رہے۔مہونڈڈ جھیل کالام سے چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر وادی اشو ضلع سوات میں واقع ہے۔اس جھیل میں مچھلیوں کی بہتات ہے۔ اسے مہونڈڈ یعنی مچھلیوں والی جھیل کہا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں یہ بات بھی مشہور ہے جس نے مہونڈڈ دیکھ لی اسے کوئی اور جھیل دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مہونڈڈ کے لئے فاطمہ کے آتشِ شوق کو دیکھ کر اندازہ بھی کیا جا سکتا تھا۔ دراصل ہم بحرین سے کالام تک کے سفر سے اس حد تک خوف زدہ ہو چکے تھے کہ مہونڈڈ کا سفر ہمیں سوائے ہیبت وحشت اور دہشت کے اور کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔سڑکوں کے کناروں پر حفاظتی بلاکس اور باڑ عدم تخفظ کا احساس دلانے کے لئے کافی تھے۔اکثر لوگ اپنی گاڑیاں بحرین میں ہی پارک کر جاتے ہیں۔لیکن ہمارے ڈرائیور صاحب کافی مہارت رکھتے تھے سو ہم نے کرائے پے کوئی گاڑی نہیں لی تھی۔
مہونڈڈ کے نظاروں نے ہمارے اوپر بھی سحر پھونک دیا تھا۔سو ہم سفر کی مشقتوں سے نگاہ چرا کر مہونڈڈ دیکھنے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔کالام کی اس ڈوبتی رات کا منظر انتہائی دلنشین تھا۔یہاں کالام میں ہمارے قیام کی نصف رات نصف زمانہ محسوس ہو رہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا ہمیں کالام آئے ہوئے نصف صدی یا نصف زمانہ گزر چکا ہے۔اب اگلا دن زیادہ اوجھل نہیں ہے۔جب ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔اور یہاں کی یہ زندگی، ایک خواب کی طرح بکھر جائے گی۔جب ہمارے چاروں جانب سے امنڈ کر آتا ہوا یہ گھنگھور سبزہ نہیں ہو گا۔ پہاڑوں سے اترتے ہوئے شفاف دودھ سے سفید پانی کے یہ شوخ جھرنے نہیں ہوں گے۔ اور سامنے بہت دور کالام کے پہاڑوں سے جھانکتی ھوئی کوہِ ہندوکش کی برف سے ڈھکی عیسائی دولہنوں جیسی پوشاک اوڑھے چوٹیاں نہیں ہوں گی۔جو دور سے اتنی بلند عظیم پُر ہیبت اور صدیوں سے تنہا دکھائی دیتی ہیں۔ہم جب جانے کا سوچ رہے تھے تو ہمارا خیال ایک قدیم عرب شاعر کی طرف بھٹک رہا تھا۔جس نے ایک دن خود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا۔
“ نجد کی اس نرگسِ صحرائی کی خوشبو اپنے اندر بسا لو! کہ آج کی شب کے بعد یہ خوشبو تمہارے لئے نہیں رہے گی۔”
اور ہم نے شاعر موصوف کی بات سے مکمل طور پر اتفاق کرتے ہوئے اس لذت بھری خوشبو کو اپنے اندر اتار لیا تھا۔
کالام میں منہ اندھیرے ہمارے کچھ ساتھی مال روڈ پے واک کرنے چلے گئے تھے۔جن میں علینہ مہوش فلک اور فاطمہ شیروانی شامل تھیں۔کالام میں پہاڑں کی اوٹ سے نکلتی بہتی چاندی سی صبح کا منظر قابلِ دید تھا مگر ہم اس حسین صبح کو باغ بالا کی بالائی منزل پے کھڑے ہو کر ہی دیکھتے رہے۔ہم کی ضوئی کا یہ وقتِ آرام تھا اور ہم اپنی ضوئی کو ہوٹل کے کمرے میں اکیلاچھوڑ کے جانے کا رسک نہیں لینا چا ہتے تھے۔فطری منظر سے ہٹ کر اس وقت زہن کچھ اورسوچنے کی اہلیت نہیں رکھتا تھا۔ حالانکہ ان دیواروں کے پار ایک اور تماشا گاہ بھی ہماری منتظر تھی۔اتنی ہی دلچسپ اورپُر فسوں۔مگر ہم فطرت کی دلربائیوں میں محو ہو چکے تھے۔
چونکے تو تب جب APWWAٹیم کے ہیڈ نے ایک ہنگامی میٹنگ بلوائی جس میں ہماری وزیر خزانہ علینہ ارشد صاحبہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بجٹ ڈاؤن ہونے کی اطلاع دی۔ APWWAکے نائب صدر زاہد بھائی نے بتایا کہ یہاں سے دو عدد جیپوں کے زریعے مہونڈڈ تک جایا جا سکتا ہے۔ جو کہ ڈاؤن بجٹ میں ممکن نہیں تھا۔ یہ صورتِ حال سراسر ڈرائیور کی خودغرضی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے پیش آئی تھی جس نے کالام میں پہنچ کر اپنی گاڑی اور مزدوری کے ریٹ اچانک ہوشربا کر دئیے تھے۔مہونڈڈ نا جانے کا سن کر ٹیم کے چند ایک بچہ پارٹی رائٹرز نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے ڈرائیور کو غائبانہ بے نقط سنائی تھیں جن میں مہوش، فلک اور حفضہ شامل تھے۔ خالص دیسی نان چنوں کا مزیدار ناشتہ کرنے کے بعد ہمارا قافلہ کالام سے واپس بحرین کی طرف جا رہا تھا۔ راستے میں کالی چٹانوں سے اترتی ایک حسین ترین پُر جوش اور مچلتی آبشار کو دیکھ کر ساری لڑکیاں مچل اٹھیں ڈرائیور نے گاڑی سائیڈ پے لگا ئی تو اس خوب صورت آبشار کو قریب سے دیکھنے کے لئے سب لوگ اتر کر پتھروں پے چڑھنے لگے۔ ہر کوئی فوٹو گرافی کے زریعے اس منظر کو ہمیشہ کے لئے قید کر رہاتھا۔ضوئی ہم اور فاطمہ شیروانی آبشار کے زیریں حصے تک محدود رہے اور ریحانہ آنٹی بس سڑک کے کنارے پے کھڑی دور سے ہی فطری منا ظر سے لطف اٹھاتی رہیں۔ہم نے ریحانہ آنٹی کی فرمائش پر ان کی نظم پڑھتے وڈیو بنائی۔
اور اس کے بعد سڑک کے دوسری طرف دو تین سو فٹ نیچے بہتے اپنے وفادار دوست دریائے سوات کی طرف چل دئیے۔دریائے سوات اور ہمارا ساتھ درینہ ہوتا جا رہا تھا۔یہاں سوات ہمارے قدموں میں بہ رہاتھا اور اس کا شور کسی رومان پرور گیت سے زیادہ دلکش اور سریلا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے عظیم موسیقار موتسارت کے نغمہ ہائے ساز کے سارے سُر ہمارے اردگرد جلترنگ بجا رہے ہوں۔ دریائے سوات کی سریلی آوازموتسارت کی موسیقی سے کہیں بڑھ کر دلنشین تھی ہم ہر طرح کی فکر سے آزاد ہو
کر فطرت کی موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ہمیں کہنے میں کوئی عار نہیں دریائے سوات کی موسیقی سنتے ہوئے انسان کی روح اس تنکے کی مانند ہوتی ہے جو کسی طوفانی موج کے سینے پر سوار ہو۔ ابھی وہ پربتوں کی چوٹیوں پر ہوتی ہے اور ابھی ایک وادی کے پاتال میں کبھی وہ نیا گرا کے پُر شور آبشار میں گھری ہوتی ہے اور کبھی اس کے گرد صحرا کا سکوت ہوتا ہے دریائے سوات کی سمفنی میں ایک لمحہ ایسا ہوتا ہے جب پورا فطری آکسٹرا سننے والے پر ہر طرف سے ہجوم کر کے آتا ہے اور اس کے حواس پر چھا جاتا ہے۔ ایسی کومل اور مدھر آواز اس کی ایک لہر سے نکلتی ہے جیسے دور بن کے اندر کوئی کوئل گا رہی ہو۔دریا کی تند اور بے قرار موجوں میں کبھی کبھی ہیجان اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ انسان کو لگتا ہے وہ کسی عمیق روحانی تجربے سے گزرا ہے۔ یا اس نے کوئی نیا جنم لیا ہے۔ ہم بھی کسی ایسے ہی معجزاتی لمحے کے حصار میں تھے۔سامنے بلندو بالا پہاڑوں پے ویسا ہی سبزہ اور روئیدگی جلوہ گر تھی۔بل کھاتی گیلی بھیگی سڑک بہت اوپر رہ چکی تھی۔
کچھ دیر بعد ہم نے نیچے سے ایک پتھر اٹھایا اور درخت پر کوئی نام کنندہ کرنے لگے گو کہ پتھر سے ہماری خواہش تو پوری نہیں ہو سکی تھی تاہم ہم نے درختوں پر نام لکھنے کی روائت پوری کر دی۔یہ ایسا ہی مرعوب لمحہ تھا جب ہمارے نتھنوں سے پلومرا کے پھولوں کی حسین مہک ٹکرائی تھی۔ہم بے قرار سے دور بلند ترین پہاڑوں کی ڈھلوانوں پے ان گھروں کی طرف دیکھنے لگے جن کے باہر سبزہ اور پھولوں کے حسین گلدستوں سے بڑھ کر اور کچھ نا تھا۔ یہاں پسماندہ گھروں کی بہتات کے ساتھ ساتھ کہیں کہیں جدید اور خوب صورت گھر بھی دکھائی دیتے تھے۔ جو مکینوں کی معاشی خوش حالی کا منہ بولتا ثبوت تھے۔دور سے پہاڑ کی چوٹی پے بنا یہ کاٹیج کسی خانزادے کی زاتی رہائش گاہ معلوم ہوتا تھا۔ کاٹیج کا بیرونی راستہ اور اردگرد کا تمام ایریا خوش نما پھولوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ آتے ہوئے اور اب جاتے ہوئے بھی یہ دلکش کاٹیج ہماری توجہ کا مرکز بن گیا۔ وقت کی کمی کے سبب ہم کاٹیج قریب سے دیکھنے اور اس کا حدود اربعہ معلوم کرنے سے محروم رہ گئے تھے۔تاہم ہماری نگاہ میں یہ منظر محصور ہو گیا تھا۔ یہاں گل بہار اور گل حتمی کی بہتات دکھائی دیتی تھی۔ اس کاٹیج کو پھولوں کا گڑھ کہا جاتا تو غلط نہیں تھا۔ صاحبِ زوق نے اسے دبئی کے میریکل گارڈن کی طرح سجا رکھا تھا۔
ہماری اگلی منزل بحرین تھی اور ہمیں رات ہونے سے پہلے بحرین پہنچنا تھا مگر راستے میں چشمہ آبِ شفا کا چرچا سن کر ہمیں ایک مرتبہ پھر رکنا پڑا۔
اس آبشار کو چئیر لفٹ کے زریعے پار کرنا تھا۔ کیونکہ یہ ہمارے باوفا دوست دریائے سوات کے دوسرے کنارے پے تھی۔
اس خوبصورت آبشار کا ٹھنڈا برفیلا پانی تازہ دم کرنے کے لئے کافی تھا۔ یہاں سب نے جوتے اتارے اور آبشار کے ٹھنڈے پانی سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ دریائے سوات اب ہمارے اور قریب آ چکا تھا۔ یہاں ایک بڑی چٹان کے پیچھے ہم نے Edelweiss کا پورا جھاڑ دیکھا تھا۔ اس کے پتے سفید اور رویں دار تھے۔اور یہ آسٹریا کے نیشنل فلاور Edelweiss سے کافی حد تک مشابہت رکھتا تھا۔کیا خبر یہ حقیقت میں ایڈؤئس ہو۔ آخر پاکستان میں کسی چیز کی کوئی کمی تو نہیں۔چونکہ وقت کی قلت تھی سو ہم نے Edelweiss پے زیادہ تحقیق نہیں کی تھی اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ چئیر لفٹ پار کرتے ہوئے گاڑی تک آگئے۔ یہاں ہم کی ضوئی نے بھوک کا شور مچا دیا تھا۔ سو ہم اور فاطمہ شیروانی بریانی کی تلاش میں نکل پڑے اور ہمیں ایک ڈھابے سے افغانی پلاؤمل گیا۔ گو کہ ایک پارسل کی قیمت ہوشربا تھی۔ تاہم افغانی پلاؤ ہم نے خرید لیا تھا۔ یہاں پر اچھا خاصا پکنک اسپاٹ بنا ہوا تھا۔ سموسے،چاٹ۔ چاول، بوتلیں جوس سب کچھ دستیاب تھا۔ایک مزیدار چیز جو دیکھنے کو ملی۔وہ یہ تھی کہ کھوکھے والے دوکانداروں نے چشموں میں موٹے پائپ لگا کر ایک حوض میں جوس اور بوتلوں کا ڈھیر لگا رکھا تھا پائپ کے آخر میں بوتل کے منہ کو پائپ کے اندر فکس کر کے بوتل کو بے شمار سوراخ کر رکھے تھے۔ اب ان سوراخوں سے تھوڑا تھوڑا پانی حوض کے اندر گرتا اور بوتلوں کو لانگ ٹائم کے لئے ٹھنڈا رکھتا تھا۔ اسی طرح دریا کے اوپر جگہ جگہ ایسی بستیاں دکھائی دی تھیں جو پہاڑوں کے اوپر تھیں ان کے لئے دریا پار کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ان لوگوں نے رسیوں کی مدد سے ایک تحتے کو عارضی سا چئیر لفٹ جیسا بنا رکھا تھا۔ اسی چئیر لفٹ سے یہ لوگ دریا پار کرتے تھے اور یہ بہت ہی خطرناک اور جان لیوا ہو سکتا تھا۔ اس لفٹ پر ایک وقت میں صرف ایک بندہ بیٹھ سکتا تھا۔
۱۰۳۶۰ مربع کلو میٹر پر محیط وادی سوات اپنی خوب صورتی اور دلربائی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی۔اس کی سرسبز و شاداب وادیاں،برف سے ڈھکی چوٹیاں، پھلوں سے بھرے باغات، خوب صورت قدرتی مناظر آئینہ ور چشموں، جھیلوں اورفرحت بخش سبزہ زاروں سے نظر ہوتی ہوئی جب غربت اور مفلسی کے شکنجے میں جکڑے لوگوں تک جاتی ہے تو دل اداس اور طبیعت بو جھل ہو جاتی ہے۔ایک طرف قدرت کی اتنی فیاضی کے انسانوں سے لے کر پتھروں تک کو حُسن و دلکشی سے مالا مال کر رکھا ہے۔اور دوسری طرف حکومت اور انتظامیہ کی شدید بے حسی اور نا اہلی کہ اس جنت نظیر خطے کے باسیوں کی زندگیوں میں کوئی آسانی پیدا نہیں کر سکے۔آخر کتنے سال اور لگیں گے
ان کو ترقی یافتہ صوبوں کی دوڑ میں شامل ہونے اور تمام بنیادی سہولیات ملنے میں؟کچھ زیادہ نہیں تو اچھے سکول اچھے ہسپتال اور اچھی سڑکیں بنا کر ان کی حالت بدلی جا سکتی ہے۔کسی بین الا قوامی کمپنی کو سڑکیں بنانے اور دیگر سہولیات مہیا کرنے کا ٹھیکہ دے کر کچھ تو تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔وہ کمپنی انفرا سٹرکچر تعمیر کرتی اور پھر سیاحوں سے ٹیکس وصول کرتی۔ بجلی کا انفرا سٹرکچر ہونے کے باوجود بعض علاقوں میں بجلی نہیں ہے۔ کئی ایک دیہات ابھی تک غاروں کے زمانے میں رہ رہے ہیں۔ بچے تعلیم سے نابلد ہیں۔ مفلسی نے انہیں پھلوں کی ٹوکریاں اٹھا کر بیچنے پے مجبور کر رکھا ہے۔ ان کی کمزور پیٹھ کے اوپر کون سی تہذیب ڈگمگا رہی ہے؟ میونسیپل اداروں کا کوئی نظام نہیں ہے۔ بعض علاقوں میں موبائل فون کی سروس ہی نہیں۔ گوگل میپ کے بغیر آپ بے شک پورا دن اور پوری رات پہاڑوں کی بھول بھلیوں میں گم رہو۔سڑکیں جو سیلاب سے تباہ ہوئیں تو دوبارہ بنانا گوارا ہی نہیں کیا گیا۔ اب کچھ علاقوں میں تعمیراتی کام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مہوڈنڈ جھیل اور گبین جبہ جیسے دلنیشین علاقوں تک پائیدار سڑکیں بنانا حکومت کی پہلی ترجیح ہونا چائیے۔اسی طرح کالام جانے والی سڑک بھی انتہائی شکستہ اور راستہ پُر خطر ہے۔
ہم قریب تین بجے بحرین اپنے ہوٹل سٹی سٹار پہنچ چکے تھے۔ تھوڑی دیر آرام کرنے اور تیار ہونے کے بعد ہماری ٹیم بحرین کے پہاڑوں کی اونچائیوں میں بسنے والوں کی روز مرہ زندگیوں کا مشا ہدہ کرنے نکل پڑی۔بحرین دریائے سوات کے داہنی طرف مینگورہ شہر سے ساٹھ کلو میٹر کی دوری پر خیبر پختونخواہ میں واقع ہے۔ بحرین میں بھی کالام جیسا دور تلک لمبا اور پُر ہجوم مال روڈ ہے۔ بحرین سے تقریبا پانچ کلو میٹر کالام کی طرف ایک خوب صورت وادی کیدام ہے۔ کیدام سے مشرق کی طرف پُل کراس کر کے ایک کچی سڑک گورنئی کی طرف جاتی ہے۔ جسے مقامی لوگ گورنال بھی کہتے ہیں۔ یہ وادی پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے۔ اور قدرت کے حسین مناظر سے مالا مال ہے۔ یہاں سبزہ ہریالی اور پھلوں کے درختوں کی بہتات ہے۔ لیکن مواصلاتی نظام نا ہونے کی وجہ سے اکثر سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔ کالام اور بحرین کے بیچ مانکیال کا درہ پڑتا ہے۔ جسے مقامی زبان میں کوشجن بھی کہتے ہیں۔ یہ وہ ہی خوب صورت پُر شکوہ پہاڑ ہیں جو بریکوٹ اور سوات کے دوسرے علاقوں سے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ان ذیلی وادیوں کے یہ درے خوبصورت پہاڑی راستوں سے بھی ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ بحرین کے درال درے سے جا کر اتروڑ کی کنڈول جھیل تک پہنچتے ہیں۔بحرین قصبے کے مشرق کی جانب دریا درال سے آتی ہوئی ٹھنڈی فرحت بخش ہوا کے جھونکوں سے لطف اٹھاتے ہوئے ہماری پوری ٹیم ایک نسبتا آسان پہاڑی راستے سے قلہ کوہ پے آباد بستی کی طرف رواں دواں تھی۔ہماری ٹیم کے کچھ لوگ تو اس چشمے کی تلاش میں تھے جسے شفا یاب سمجھا جاتا ہے تاہم ہمارا ارادہ کچھ اور تھا۔ ہم اور ہماری ضوئی بغیر رکے پتھریلے رستے پے بھاگ رہے تھے قریب ایک گھنٹہ کی طویل ترین چڑھائی کے بعد ہم اپنی منزل کے قریب پہنچ چکے تھے۔یہ ایک خو ب صورت پہاڑی گاؤں یا بحرین کی ایک دلکش بستی تھی۔کچھ ہی دیر میں ہم بہت ساری چھتیں پھلانگتے ایک چھوٹے سے گھر میں داخل ہو چکے تھے۔ اس کے برابر ایک گھر زیرِ تعمیر تھا جو بہت ہی جدید انداز میں تعمیر کیا جا رہا تھا۔ جس گھر میں ہم اس وقت موجود تھے وہ زرا پسماندہ تھا۔ گو کہ اس کے کمرے کشادہ اور برآمدہ وسیع تھا البتہ صحن بہت چھوٹا تھا اور اس چھوٹے سے صحن کی دیوار کے پار سنہرے سیبوں کے بلند و بالا درخت دکھائی دے رہے تھے۔ جس پر نگاہ پڑتے ہی ضوئی مچلنے لگی تھی۔جسے ہم نے تسلی دے کر نچلا بیٹھنے کو کہا تو وہ ہمیشہ کی مؤدب بچی بات کو سمجھ گئی تھی۔
ہمارے ارد گرد اہلِ خانہ کا رش لگ چکا تھا۔ اس گھر میں چار فیملیز آباد تھیں۔ کچھ کے بچے چھوٹے اور کچھ کے جوان تھے۔ دو ادھیڑ عمر خواتین بھی تھیں جو نہائت محبت اور شفقت سے ہمارے سوالوں کے جواب دے رہی تھیں۔ ہمارے پوچھنے پر بتایا گیا کہ ان کی بیٹیاں سدرہ اور خفصہ اعلی تعلیم حاصل کر رہی تھیں سدرہ بی ایس آنرز کر رہی تھی جب کہ خفصہ ایم اے کی سٹو ڈینٹ تھی۔ ہمارے پوچھنے پر وہ سادگی سے بتا رہی تھیں کہ جتنی چڑھائی میں ہم گھنٹہ بھر لگا کے آئے ہیں اتنی چڑھائی میں ان کے صرف دس منٹ لگتے ہیں۔ اور یہ ان کے لئے بہت معمولی اور عام سی بات ہے۔ بیماری لا چاری میں حکیم یا کسی چھوٹے موٹے طبیب سے دوا لے لی جاتی ہے۔ زچگی کا مسلہ ہو تو یہاں پے دایہ کا ملنا مشکل نہیں ہوتا۔ سردیوں میں ان کا گھر برف کی تہوں میں چھپ جاتا ہے اور استعمال کے لئے لکڑی بھی نہیں ملتی۔ گیس یہاں تھی نہیں۔ البتہ بجلی کی سہولت میسر تھی پانی کے لئے چشمے تک جانا ایک الگ تھکا دینے والی کہانی ہے۔ چشمہ پہاڑوں کی بھول بھلیوں سے گزرتے ہوئے بہت سے دشوار رستوں کے بعد دکھائی دیتا ہے جہاں سے یہ مقامی لوگ پانی بھر کر لاتے اور استعمال کرتے ہیں۔ اسکول اور کالج بہت دور تھے۔ تھکا دینے والی مشقت کے بعد علم حاصل کر کے گھر نصیب ہوتا تھا۔ وہ بھی پہاڑ کی چوٹی پر جسے چڑھتے ہوئے ہمارے پیروں میں ورم آ گیا تھا۔ اس کے باوجود گھر کی کسی خاتون نے ہمارے سامنے کوئی رونا نہیں رویا۔ یہ لوگ اپنی زندگیوں سے مطمئن اور خوش ہیں یا صبر کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ پٹھانوں کو محنت کش بہادر اور غیور قوم کے ساتھ صابر قوم بھی کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔ہم نے سوات گھومتے ہوئے بہت سارے مقامی لوگوں سے بات کی۔ ہم نے کسی ایک کو بھی حالات یا ناکافی سہولیات پے روتے اور شکوے کرتے نہیں دیکھا۔ یہ پٹھان قوم صبر اور شکر کرنے کے بعد حقدار تھے کہ اللہ ان کی زمین کو طرح طرح کی نعمتوں سے بھر دیتا۔ اور اللہ نے ان کی زمین کو ہر قسم کی نعمت سے بھر دیا۔ ان کے لئے پتھروں میں پھل اور پھول اگا دئیے۔ بارشوں کو حکم دیا کہ وہ جب چاہیں برستی رہیں۔ پہاڑ آبشاروں جھیلوں اور ندیوں سے ان کی زمین آراستہ کر دی پھر ان کے دل اپنی عبادت اور شکر سے بھر دئیے۔ دریا ان کے تابع کر دئیے۔ آبی جانور ان کی خوراک بنا دی۔ دنیا کا سارے حسین موسم ان کو عطا کر دئیے۔ ان کی عورت گھر سے ایک قدم باہر نکال کر اپنی اوڑھنی پھیلائے تو رنگ رنگ کے پھلوں سے اس کی اوڑھنی بھر جاتی ہے۔
پٹھان عورتوں کو ہم نے شدید با پردہ اور عبادت گزار پایا ہے۔ یہ بے ا نتہا محنتی اور بہادر ہیں۔
اس کے ساتھ مہمان نواز بھی بہت ہیں۔سدرہ نے بتایا موسم سرما میں ان کا گھر برف سے بھر جاتا ہے سو وہ لوگ یہاں سے ہری پور اپنے رشتے داروں کے گھر چلے جاتے ہیں۔
سرما میں دریا بھی دکھائی نہیں دیتا ہر طرف سفید برف کی قبا پھیل جاتی ہے۔یہ لوگ آپس میں شادیاں کرتے ہیں غیر برادری میں رشتہ کرنا پسند نہیں کرتے۔ شادی میں ان کے رواج سادہ ہیں۔ البتہ بہوؤں کو بہت سارے طلائی زیورات ڈالنا ان کی روائت ہے۔سدرہ کے بہت اصرار پر بھی ہم نے چائے قہوے سے معذرت کر لی تھی۔ اب ہم ان کے گھر سے باہر لگے درختوں پے تحقیق کر رہے تھے۔ یہاں سیب، آلو بخارا، اخروٹ اور خوبانی کے درختوں کی بہتات تھی جو سدرہ کے بقول ان کی ملکیت میں تھے۔ سیب سرخی مائل کی بجائے سبز اور چھوٹے سائز میں تھا جو عموما ہمارے علاقوں میں سو روپے کا دو کلو بھی دستیاب ہوتا ہے۔ہمارے پوچھنے پر کہ یہ لوگ پہاڑ کی چوٹیوں پے ہی گھر کیوں بناتے ہیں۔ نیچے بازار کی طرف کیوں نہیں رہتے؟ اس کا جواب سدرہ نے یہ دیا کہ یہ پہاڑ کی چوٹیاں ان کی اپنی جگہ یعنی زاتی زمین ہے۔ سو وہ اپنی جگہ پر گھر بنا کر رہتے ہیں اور یہاں پر بہت خوش ھیں۔ سدرہ کے گھر سے چند فرلانگ پے ایک تباہ شدہ مکان بھی تھا۔جسے دیکھ کر ہم لا محالہ رک گئے تھے۔ ہمارے پوچھنے پر سدرہ نے بتایا کہ یہ مکان دہشت گردوں کی رہائش گاہ تھا جسے سوات آپریشن کے دوران پاکستان آرمی نے تباہ کر دیا تھا۔ ہمارے تعجب اور تجسس کو دیکھتے ہوئے سدرہ نے مزید بتایا کہ یہاں دہشت گرد رہتے تھے اور ہم جانتے بھی نہیں تھے کہ ہمارے اتنے قریب کون ظالم اور درندہ صفت لوگ رہتے ہیں۔پاکستان آرمی نے رات کے اندھیرے میں اس گھر کو نیست و نابود کر دیا تھا۔ ہم نے صبح دیکھا تو یہاں کھنڈرات کے سوا کچھ نا تھا۔ کچھ دیر مزید باتیں کرنے کے بعد ہم نے ان سے اجازت چاہی تب تک سدرہ کی بھابھی ہمارے لئے سیب اتروا چکی تھیں۔اور جیسے ہی ہم ان کے گھر سے نکلے سامنے حواس باختہ سی ہماری پیاری دوست فاطمہ شیروانی کھڑی تھیں جو ہمیں تلاش کرتی یہاں تک پہنچی تھیں۔ ان کے پیچھے ایم ایم علی صاحب اور APWWA ٹیم کا سب سے خاموش اور انتہائی گم صم کردار فیضان بھی موجود تھا۔ ہم چونکہ بنا بتائے آئے تھے سو سب کی تشویش پے سخت ندامت ہوئی تھی۔
واپسی پر وہ ہی پتھریلا رستہ تھا البتہ اب چڑھائی کی بجائے اترائی تھی جو کہ ہم جیسے نا تجربہ کاروں کے لئے آسان نہیں تھی۔ ہماری ٹیم کے کچھ لوگ ابھی پہاڑوں سے اتر کر واپس نہیں لوٹے تھے۔ علینہ، حفصہ اور احسن ابھی تک چشمے کی تلاش بسیار کے بعد پلٹے نہیں تھے۔ کچھ لوگ وہیں ان کا انتظار کرتے رہے اور کچھ لوگ ہمارے ساتھ نیچے دریا پر آ گئے واپسی پر ہماری ملاقات مردان سے آئی ایک ماڈرن فیملی سے ہوئی دو خوبصورت لڑکیاں اپنے بھائیوں اور کزنز کے ساتھ آئی تھیں انہوں نے بتایا کہ مردان کی گرمی سے گھبرا کر وہ بحرین آئی ہیں اور انہوں آگے کالام میں ایک لمبا سٹے کرنا تھا البتہ راستوں کی دشواری کا خوف ہماری طرح ان کے حواسوں پے سوار نہیں تھا۔ ہم نے بہیترا ان کو راستوں کی خوفناکی کا بتایا تاہم ان کے لئے یہ بل کھاتے رستے اجنبی نہیں تھے۔ہم نے مزید اپنی انرجی ویسٹ نہیں کی اور آگے بڑھ گئے۔ دریا کی طرف آنے والا رستہ پختہ اور ہموار تھا۔ ارد گردگھنے جنگلات تھے۔ اور بیچ میں بل کھاتا یہ رستہ ایک مرتبہ پھر ہمیں دریائے سوات کے پاس لے گیا تھا۔ یہ رہائشی ایریا تھا اور یہاں چند پسماندہ مکانوں کے ساتھ انتہائی عالیشان جدید اور خوبصورت گھر بھی بنے ہوئے تھے۔ ان میں ایک مکان نہائت عالیشان اور پُر شکوہ تھا مگر اس کے بیرونی گیٹ کے سامنے جو کوڑے کی ڈھیری تھی اس نے اس مکان کی ساری دلکشی کوماند کر رکھا تھا۔دریا کے وسط میں ایک اونچا سیمنٹ کا چبوترا بنایا گیا تھا۔ جس سے دریائے سوات کا دلکش منظر قریب سے دیکھا جاسکتا تھا۔
یہاں پے ہم ساتھ لائے ٹھنڈے آموں سے لطف اندوز ہوئے۔ دریائے سوات کی موسیقی سنی اور بحرین مال روڈ کی طرف بڑھ گئے۔سوات میں ایک چیز ہم نے بہتنوٹ کی قلہ کوہ پے بنے چھوٹے بڑے پسماندہ جدید سب گھروں کے سامنے باڑ لگا کر زرخیز مٹی ڈال کے مختلف سبزیاں اور پھول اگائے گے تھے۔ جگہ ایک بالشت ہی کیوں نا ہو گھر کے مکین اسے خالی نہیں چھوڑتے کچھ لوگوں نے سبزیاں تو کچھ لوگوں نے مکء کاشت کر رکھی تھی دور سے یہ منظر دیکھنے والی آنکھ کو مبہوت کر دیتا تھا۔ ایک ترتیب سے بنی سیڑھیاں جو دور سے سبزہ ڈھکی سیڑھیاں دکھائی دیتی تھیں قریب آ کر دیکھنے سے اندازہ ہوا کہ یہ خوب صورتی کے لئے بنائی گئی سیڑھیاں نہیں بلکہ مکینوں کی زہانت اور سگھڑاپے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ہم بحرین کے مال روڈ سے ڈھلوانوں پے چمکتے ان روشن چراغوں کو بخوبی دیکھ سکتے تھے۔ یہاں پسِ منظر میں دریا کا پانی ماحول کی مناسبت سے بدل جاتا تھا۔کبھی ہلکا سبز ہو جاتا اور کبھی روشنیوں کے باعث چاندنی کی طرح چمکنے لگتا جیسے بہت ساری چاندی آسمانوں سے گر کر پانی میں گھل مل گئی ہو۔یہاں سے بحرین کی بستی کا مشرقی کنارہ واضح ہو جاتا تھا۔ اور پہاڑوں کی چوٹی پے واقع مکانات کسی قلعے کی بارہ دری کی مشابہت اوڑھ لیتے تھے۔کوہستانی روشوں پر ٹارچ کی شکل جیسے جنتیانہ کے اودھے نیلے پھول اس وقت کسی قنوطی شاعر کی طرح ایسی مشعلیں لگ رہے تھے جو رنگ دلکشی خوب صورتی اور روشنی نہیں بلکہ اندھیرا پھیلاتے ہیں۔مال روڈ پر بے انتہا رش تھا۔ ہماری فوڈ انسپیکٹر علینہ ایک اچھے ہوٹل میں کھانے کا آرڈر دے چکی تھیں۔ احسن نے اپنی زیر نگرانی کیا کمال کی کڑاہی تیار کروائی تھی۔ ہماری ضوئی نے کڑاہی پر بھی ناک بھوں چڑھائی تھی۔“ اب ہم کڑاہی کھائیں گے؟“ ان کے نزدیک کڑاہی شاید کسی بری ڈش کا نام تھا۔ فاسٹ فوڈ کے لورز بچوں کو دیسی کھانوں سے اتنی رغبت نہیں ہے۔البتہ چکن کا کوئی آئٹم ہماری ضوئی نے کبھی مِس نہیں کیا۔انہتائی دلنشین ماحول میں لذیذ ترین کھانا کھایا گیا تھا۔ہمارے پہلو میں لمبی گلاس ونڈو دریائے سوات کے بیچ کھلتی تھی۔ باہر سے تازہ فرحت بخش ہوا کے جھونکوں کے ساتھ دریا کا قیامت خیز شور دھڑکنیں بڑھا رہا تھا۔ اس وقت دریا بہت پُر جوش اور اضطراب کا شکار لگتا تھا۔ اس رات ہم دیر تک بحرین کے بازاروں میں گھومتے رہے۔ فاطمہ علینہ اور ہم۔ اس بزرگ پٹھان کی موسیقی سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ جس کے گرد ایک ہجوم کھڑا تھا جو بوڑھے پٹھان کی آواز کے جادو میں کھویا ہوا تھا۔بوڑھے پٹھان کی آواز میں سوما ٹپہ سنتے ہوئے ہمارا دھیان اس بچی کی طرف تھا جو بحرین کے بازار میں گھوم رہی تھی۔ اور سخت جھنجھلائی دکھائی دیتی تھی۔“ سمجھ نہیں آتی علی انکل کو کیا گفٹ دوں؟”بچی کے چہرے پے الجھن نظر آتی تھی اور اس کے ہاتھ میں مخملی فر والا ایک تھیلا تھا جس کے اندر وہ ڈائری موجود تھی جسے کالام کی ایک انتہائی دودھیا سویر میں اپوا کے سئنیر نائب صدر جناب ایم ایم علی نے اس بچی کو گفٹ کیا تھا۔ یہ تحفہ اس بچی نے کسی قیمتی متاع کی طرح اپنی بغل میں دبا رکھا تھا۔ یہ ڈائری اس کی پسندیدہ ڈائری تھی جسے کالام کے مال روڈ سے گزرتے ہوئے اس نے بہت دفع حسرت بھری نظروں سے دیکھا تھا۔ اب وہ ڈائری اس کی دسترس میں تھی اور اسے بے پناہ عزیز تھی۔ بحرین کی دوکانوں میں گھومتے ہوئے بلآ خر اسے ایک گفٹ پسند آ گیا تھا۔ اور وہ گفٹ لے کر علی انکل کے پیچھے بھاگ رہی تھی یہاں تک کہ وہ اسے ایک دوکان میں دکھائی دے گئے تھے۔ اور اب وہ با خوشی واپس آ رہی تھی۔ تحفہ لینا اور دینا اس بچی کو بے حد پسند تھا۔
اس وقت آدھی سے زیادہ رات بیت چکی تھی اور ہم اپنی دوستوں کے ہمراہ بحرین کے ٹھنڈے بازار میں کھڑے اس بوڑھے پٹھان کو سن رہے تھے جس کے گردایک ہجوم کھڑا تھا۔وہ بوڑھا پٹھان پشتو زبان کا ایک مشہور ٹپہ سنا رہا تھا۔زرا دھیان کرنے پے پتہ چلا کہ پشتو زبان کا یہ ٹپہ تو اس سوما پھول کے نام سے منسوب لگتا ہے جسے قوم آریا کی لڑ کیاں چار ہزار سال پہلے چودہویں کے چاند کی دودھیا روشنی میں پہاڑوں سے چننے جاتی تھیں۔سوما پھول کو آریائی قوم کی زندگی میں تبرک کی حثیت حاصل تھی۔جب قوم آریا چار ہزار سال پہلے سوات میں بسنے کے لئے آئی تو تاریخ میں ان کا دور ویدک دور کے نام سے مشہور ہوا تھا۔سوما پھول کے بارے میں زرا تحقیق کی تو پتہ چلا اس کا نباتاتی نام افیڈرا تھا۔ایک مشہور تاریخ دان جزانو کہتے ہیں۔“ سوما پہاڑوں پے اگتا تھا اور قوم آریا کی لڑکیاں چاند کی چودہ تاریخ کو اسے چننے پہاڑوں پر جاتی تھیں۔ وہ لوگ اس پھول کی پتیوں کو پیس کر اس سے خاص قسم کا رس نکالتے تھے جس کے پینے سے ان میں مستی اور سرور پیدا ہوتا تھا۔آریا کی مشہور کتاب رگ وید کے ۱۴۴ اشعار میں اسی سوما پھول کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے یہ کوئی من گھڑت کہانی نہیں تھی۔اس بھیگتی رات میں بوڑھے پٹھان کی سوز بھری آواز میں“ سپو بزمیہ کرنک ونسبہ را خیثرہ۔یار می دا کلو کوئی کوتی ریبینہ“ گونج رہا تھا۔گیتوں کے عشاق اس وقت بوڑھے پٹھان کے گر جمگھٹا لگائے بیٹھے تھے۔ ہم تا دیر سٹی سٹار کی بالکونی میں کھڑے رہے یہاں تک کہ بوڑھے گلوکار نے محفل برخاست کر دی تھی۔اس ستاروں بھری شب میں ہماری پیاری دوست فاطمہ شیروانی نے
ہمیں ایک بے پناہ خوب صورت تحفہ دیا تھا۔وہ ماتھے پے لگانے والی ماتھا پٹی کے سٹائل میں تھا۔ شاید یہ رات تحائف کے تبادلے اور لین دین کی رات تھی۔ اس شبہمیں پیاری دوست علینہ نے بھی ایک پتھر جڑی خوب صورت انگوٹھی دی تھی۔ اس شب ہم نے اپنی ٹیم کے دوستوں کو چھوٹے موٹے تحائف دئیے تھے کیونکہ اگلی صبح گبین جبہ سے ہمیں واپسی کے لئے کوچ کرنا تھا۔رات تادیر محفلِ مشاعرہ چلتی رہی اور ہماری ضوئی نے آخری شعر سنانے تک ہمت نہیں چھوڑی۔ ہماری ضوئی کو لکھنے لکھانے اور خاص طور پے مشاعرے سے خاص رغبت ہے۔اگلی صبح سورج کا سنہرا ہر چیز کو روشن کر رہا تھا۔ یہ ایک مصروف دن تھا۔ سب لوگ جلدی نکلنے کے چکر میں تیاریاں کر رہے تھے۔ ہم تیار ہو کر بیگ پیک کرنے کے بعد باہر آئے تو کچھ لوگ ہمارے منتظر تھے۔ بحرین کی اس چمکتی صبح APWWA کے سئنیر نائب صدر جناب ایم ایم علی نے اپنی خوبصورت کتاب“ صدائے حق”ہمیں تحفتا پیش کی تھی۔کتابوں کے عشاق کے لئے یہ ایک انمول تحفہ تھا۔بحرین کا مین بازار اس وقت ٹریفک سے جام تھا۔ اسکول کالجز کے ٹرپس کے علاوہ سیاحوں کی ایک بڑی تعداد دکھائی دے رہی تھی۔بحرین میں ہوٹل کرن سے ناشتہ کرنے کے بعد ہم نے اپنا سامان لوڈ کیا اور ایک مرتبہ پھر عازمِ سفر ہوئے۔ہماری اگلی منزل گبین جبہ تھی۔راستے میں بے شمار تیغ کوہ پے بنے مکان ہمارا دل لبھاتے رہے۔ پہاڑوں کی چو ٹیوں پر بنے ان مکانوں سے ہمارا کوئی والہانہ لگاؤ ہے۔ہماری سوچ یہاں پر بلکل رک جاتی تھی کہ اتنے ہزار فٹ کی بلندی سے یہ لوگ کیسے روزانہ نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے آتے ہیں۔سوات کی تحصیل مٹہ میں واقع خوبصورت وادی گبین جبہ اپنے ہرے بھرے مرغزاروں، گھنے جنگلات،بلند و بالا پہاڑوں،اور شہد کی وجہ سے شہرت رکھتی ہے۔سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے سر سبز و شاداب وادی لالکو کے درہ کاڑ خوڑ تک ستاون کلو میٹر کا فاصلہ ھے۔جس میں ستر فیصد سڑک کی حالت بہتر ہے کاڑ خوڑ سے آگے گھنے جنگلات اور ہرے بھرے مر غزاروں کی سرزمین گبین جبہ ہے شہد کو پشتو میں گبین کہتے ہیں۔ اور وہ جگہ جہاں زمین دلدل نما ہو اسے جبہ کہا جاتا ہے۔گبین جبہ میں بڑی بڑی چراگاہیں ہیں۔جہاں سیاحوں کا ایک جم غفیر دور تلک دکھائی دیتا ہے۔جا بجا سیاحوں کے خیموں کی الگ بہار نظر آتی ہے۔اور کہیں کہیں سے روائتی ساز رباب اور منگے کی موسیقی ہوا کے دوش پے لہراتی ہے۔گبین جبہ کا موسم جولائی میں بھی سرد اور ٹھنڈا ہوتا ہے۔گبین جبہ آنے کے بعد اسی دن واپسی حماقت کے سوا کچھ نہیں۔کم سے کم ایک رات کا قیام ضروری ھوتا ہے۔ پہاڑوں پر رات کو سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔بہتر ہے اپنے ساتھ ایسا سامان لایا جائے جس سے رات کا قیام آسان ہو سکے ورنہ پتھروں اور مٹی گارے سے بنے کوٹھے عارضی قیام کے لئے مل جاتے ہیں۔سوات میں تمام خوبصورت مقام وادیاں اور مرغزار سینکڑوں میل کے فاصلے پر ہیں۔ یہ سوچ کر سوات کا سفر کیا جائے کہ ایک ہی جگہ سب کچھ دستیاب ہو گا تو یہ سراسر بیوقوفی ہے۔ کسی بھی حسین مقام تک رسائی کے لئے آپ کو گھنٹوں کٹھن پہاڑی رستوں کا سفر کرنا ہو گا اور اکثر اوقات ٹریکنگ کرنا بھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔ کبھی تو راستے دشوار ھوتے ہیں جہاں گاڑی نہیں جا سکتی اور کبھی گاڑی اتنے عظیم پہاڑوں پر چڑھنے سے کترا جاتی ہے۔ نتیجتا آپ کو کئی کئی گھنٹے پیدل چلنا ہوتا ہے۔ گبین جبہ جاتے ہوئے ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوا تھا۔گاڑی پہاڑوں پے چڑھنے سے جواب دے گئی تو ہماری پوری ٹیم نے ٹریکنگ کا سوچا۔ قریب چار میل مارچ پاسٹ کے بعد ہماری ہمت جواب دے گئی تھی۔معا ایک ہنڈائی ہمارے قریب سے گزری تو اپوا کے نائب صدر زاہد صاحب نے ڈرائیور سے بات کی یوں ہم لوگ ہنڈائی میں سوار ہو کر گبین جبہ کی طرف عازم سفر ہوئے تھے۔کھلی چھت والی اس ہنڈائی میں ریت اور پتھر تھے۔ جس کے اوپر ہم سوار تھے۔ہمارے ساتھ فاطمہ، فیضہ، فلک، حفصہ، زاہد بھائی، نوید اور ضوئی تھے آنٹی، مہوش اور باقی لوگ ہماری اپنی گاڑی میں پیچھے آ رہے تھے اور علینہ ہمارے ساتھ ساتھ سڑک پے بھاگ رہی تھی۔ یہ ایک بے پناہ خوبصورت ایڈونچر تھا۔فلک بوس پہاڑ اور کھلا آسمان ہمارے سامنے تھا۔جس سمت نگاہ اٹھتی اور مسحور ہو جاتی۔دلنشین نظارے اپنی تمام تر رعنائیوں سمیت جلوہ کناں تھے۔کہیں بہت دور برفیلی چوٹیاں نقرئی جامہ زیب تن کئے ہمارا دل لبھا رہی تھیں تو کہیں سبز گھاس سے مزین کوہسار حسن و جمال کی نایاب تصویر بنے ہوئے تھے۔فطرت کے تمام موتی ایک ساتھ اپنی نگاہوں سے چننا ممکن نہیں تھا۔ اوپر سے ہنڈائی کا ڈرائیور بل کھاتے پہاڑوں پر کئی ہزار فٹ کی اونچائی کو نظر انداز کئے ہنڈائی بھگائے چلا جا رہا تھا۔ یہ لوگ ان رستوں پے ڈرائیو کے عادی ہیں جبکہ ہمارے تو اونچائیوں پر اندھا دھند ڈرائیو دیکھ کر حواس اڑے جا رہے تھے۔
گبین جبہ سے آگے درال جھیل کا سفر شروع ہوتا ہے۔درال جھیل خوبصورتی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی۔گو کہ پانی اس کا گلیشئر پگھلنے سے آتا ہے تاہم جھیل کا پانی برفیلا ہونے کی بجائے حیرت انگیز طور پر گرم ہے۔ہماری منزل گبین جبہ سے آگے درال جھیل تھی۔جس کے شفاف پانی میں برفیلے کوہساروں کا عکس دکھائی دیتا تھا۔جس کی لہروں نے سطح آب پر جھلمل جھلمل تاروں کی ایک خوش نما قبا تان رکھی تھی کہ آسمان شب کو بھی اس پر رشک آتا ہو گا۔جس کی جھیل کے عین وسط میں ایک برفیلی چٹان
13
آسمانِ شب پر ماہ دو ہفتہ کی طرح چمک رہی تھی۔جس کے آئنہ نما پانی سے سنہری مچھلیوں کی اٹھکھیلیاں دکھائی دیتی تھیں۔ جھیل کے روح پرور مناظر میں ڈھلتے سورج کادلفریب نظارہ کیسا ہو گا؟ یہ نظارہ شاید ہمارے نصیب میں نہیں تھا۔ ہنڈائی والا پٹھان بھائی ہمیں ایک پہاڑی بستی میں اتار گیا تھااور اس سے آگے ہماری گاڑی نے پہاڑوں کی اونچائی دیکھ کر چڑھائی سے توبہ کر لی تھی۔ یوں ہمیں اس خوب صورت بستی کے چند گھروں اور مکینوں سے ملنے کا موقع مل گیا تھا۔ہمارے ساتھی اونچے پہاڑوں کے بہت نیچے بہتے دریا اور دریا کے پار جنگل کی طرف نکل گئے تھے۔ فاطمہ ضوئی اور ہم بستی کے ایک خوبصورت اور انتہائی کشادہ گھر میں آ چکے تھے۔یہ گھر بہت ہی چوڑے ہال نما برآمدے پے مشتمل تھا۔ دیواروں پے تازہ تازہ قلی کروائی گئی تھی۔ اور زرا غور کرنے پے پتہ چلا کہ اس گھر میں نئی نئی شادی کے اثرات نظر آ رہے تھے۔ گھر میں بے شمار خواتین تھیں۔ جو ہمیں دیکھ کر ایک جمگھٹے کی صورت آس پاس پھیل گئیں۔ ان میں ایک بہت چھوٹی سی دودھ جیسی سفید لڑکی تھی جس نے سونے کے زیورات پہن رکھے تھے۔ بڑا سا ٹیکا اور گلے میں چار لڑیوں کا ہار تھا۔ ہماری دلچسپی دیکھ کر گل اندام نے اپنے زیورات ہمیں اتار کر پہنا دئیے تھے۔جو فوٹو شوٹ کے بعد ہم نے گل اندام کو واپس کر دئیے۔ ہلکے ہلکے میک اپ کا غازہ اس کے چہرے پے دکھائی دیتا تھا۔ہمارے پوچھنے پر اس نے شرماتے ہوئے ہاتھ کی چار انگلیاں سامنے کر کے بتایا کہ اس کی شادی کو چار دن ہوئے تھے۔ گل اندام ہمیں اپنے کمرے میں لے گئی تھی۔ یہ ایک خوبصورت فرنیچر سے سجا کمرہ تھا۔فرنیچر آج کل کے فیشن کے مطابق بہت ماڈرن تھا۔ضروریات زندگی کی ہر چیز موجود تھی۔ کمرے میں دیوار کے اندر بنا شو ریک انتہائی خوبصورت اور سٹائلش کانچ کے برتنوں سے سجا تھا۔ ایسا شو ریک ہم نے بہت سارے پہاڑی گھروں میں دیکھا تھا۔ یہ لوگ برتنوں کے لئے شیشے کی الماری کمرے کے اندر دیوار میں بناتے ہیں۔ پرچھتیوں میں برتن رکھنے کا رواج ابھی تک پنجاب کے چند ایک دیہاتوں میں ہے۔ مگر یہاں یہ رواج جدید انداز میں دیکھ کر بھلا لگا تھا۔گل اندام کا دولہا بھی ہمارے ساتھ ساتھ تھا جو اردو میں ہماری بات سمجھ کر آگے ٹرانسلیٹ کرتا تھا۔ گل اندام اور اس کے شوہر کے علاوہ سب اردو سے نابلد تھے۔ہمارے پوچھنے پر امیر خان نے بتایا کہ اس کا سیب کا زاتی باغ ہے اور وہ زمیندارہ کرتا ہے۔ اس کا باغ دریا کی دوسری طرف تھا۔ وہ پیلے سیب پر مشتمل باغ تھا۔گل اندام اور اس کی بہت ساری ساسوں نے ہمیں چائے قہوہ شربت اور کھانے کی بہت آفر کی تھی جسے ہم نے وقت کی کمی کے باعث قبول نہیں کیا تھا۔اپنے دوستوں کی طرف جاتے ہوئے پہاڑ کی اونچائی سے اترتے ہمارا پاؤں رپٹا اور ہم انتہائی گہری اور اندھی کھائی میں گرتے گرتے بمشکل بچے تھے۔یہ ایک خوفناک تجربہ تھا۔ہم نے اگلے آدھے گھنٹے میں اترائی کا سفر طے کیا اور لکڑی کے تختوں والے عارضی طور پر بنائے خطرناک پُل کو بمشکل گر گر کے عبور کیا تھا۔ اب ہم گھنے ٹھنڈے اور پھلوں سے لدے جنگل کی طرف بڑھ رہے تھے۔ پُل عبور کرتے ہوئے تین پہاڑی لڑکوں کی دریا میں ڈبکیاں اور چھلانگوں کے شغل کو کیمرے میں قید کیا اور جنگل کی طرف آ گئے۔
ہمارے باقی دوست بہت دور آبشار کی آواز پے پہاڑوں سے آگے نکل گئے تھے۔فاطمہ، علینہ، ضوئی اور ہم آلوچے توڑنے کی کوشش میں تھے۔ ہم سے کچھ فاصلے پر باقی لوگ فوٹوگرافی کر رہے تھے۔اور کچھ آبشار کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔ہمیں آلوچے توڑتے دیکھ کر دریا میں تیراکی کرتا پہاڑی دبلا پتلا سفید لڑکا اپنے بکرے سمیت اچانک نمودار ہوا تھا۔اور دوسرے ہی پل بندر کی طرح جمپ کرتا آلوچے کی شاخوں سے جھول گیا۔ کچھ ہی دیر میں اس نے بہت سارے آلوچے توڑ کر ہمارے حوالے کئے تھے اور پھر بکرا گود میں لے کر وہیں بیٹھ گیا۔ہمارے پوچھنے پر اس نے بتایا وہ پانچ بہن بھائی تھے مگر ان میں سے کسی کو بھی اسکول کا نام نہیں آتا تھا۔تھوڑی دیر گزری تو پہاڑی لڑکا زرا شرماتے ہوئے ڈرے ڈرے انداز میں بولا۔“ تم ام کو بوت اچھا لگتا ہے۔”ہمیں آلوچہ کھاتے ہوئے اچھو لگ گیا تھا۔“ ہیں؟ پھر بولو”ہم نے تعجب سے اسے دیکھا اوربولنے پے اکسایا۔پہاڑی لڑکے نے سر جھکا کر پھر سے اپنے الفاظ دوہرا دئیے تھے تب تک اس کا دس سالہ چھوٹا بھائی بھی آ گیا تھا۔ ہم نے اپنی دوست فاطمہ کو اشارہ کیا اور وہ وڈیو کیم آن کر کے قریب آ گئی تھیں۔ پہاڑی لڑکا گویا ہماری کاروائی کو سمجھ گیا تھا۔ سو اس نے دوبارہ ہمارے لئے پسندیدگی کا اظہار ہر گز نہیں کیا تھا۔ حیا اتنی تھی کہ سر بھی نا اٹھایا جب اس کا بھائی زرا فاصلے پے گیا اور فاطمہ وڈیو بنا کر پیچھے مڑیں تو پہاڑی لڑکے نے خفاخفا انداز میں سر اوپر اٹھایا تھا۔ نگاہوں میں خفیف سی شرمندگی اور ناراضگی تھی۔“ ام کو تم بوت اچھا لگتا ہے۔ مگرتم نے اچھا نہیں کیا”ہم نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا تھا اور غصے سے بولے۔“ اب یہ اچھا لگنا اپنے پاس ہی رکھو۔ جب وڈیو بن رہی تھی تب1988 کی ہیروئن بنے ہوئے تھے ہنہ“ ہم زیرلب بڑ بڑاتے واپس آ گئے تھے۔ تا ہم ہمارے باقی دوستوں نے اس منظر سے خوب لطف اٹھایا تھا۔ پاس ہی علینہ بھورے رنگ کے بکروں کے ساتھ فوٹو شوٹ کر رہی تھی۔ اسی یاد گار جنگل میں ہماری اور ضوئی کی لڑائی ہو گئی اور ضوئی ہمیں غصے سے دریا میں دھکا دینے لگی تھی۔یہ تو ہماری قسمت اچھی تھی جو ہم اس کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔دن ڈھلے ہماری واپسی ہوئی
تھی۔ جاتے ہوئے ڈاکر علینہ نے اپنا کلینک کھول لیا تھا اور بستی کے پٹھان بھائیوں کو ڈپریشن کی دوائیاں لکھ کر دی تھیں۔گبین جبہ نا پہچنے کی وجہ سے ہم نے واپسی کاارادہ ترک کیا اور مالم جبہ کی طرف محو سفر ہوئے تھے۔راستے میں ہماری گاڑی کا ٹائر پنکچر ھوا تو ہمیں ایک آڑو کے باغ میں چند گھنٹے گزارنے کا موقع مل گیا تھا۔یہاں بھی نالہ پھلانگتے ہوئے ہم اپنے بھائی کا فون سن رہے تھے کہ دوسرے ہی پل بہت شاندار طریقے سے زمین بوس ہو گئے۔ایسی جگہوں پر ہمارا فوکس موبائل کالز یا تصویریں نہیں بلکہ رستہ ہونا چائیے ورنہ ہماری طرح گرتے پڑتے اور زخمی ہوتے نظر آئیں گے۔اس باغ میں سیب اور جاپانی پھل کے بھی درخت تھے۔ آڑو یہاں کچے اور چھوٹے تھے۔اس لئے ہم مایوس سے نظر آنے لگے تھے۔ معا دو چھوٹے بچے باغ میں آتے دکھائی دئیے ان سے ہماری اداسی نا دیکھی گئی تو سبب پوچھ لیا۔ ہم نے بتایا کہ ہمیں صحت مند اور پکے ہوئے آڑو چائیے۔ اب ان کو آڑو کی سمجھ نہیں آ رہی تھی سو اشارے سے ان کو آڑو دکھا کر سمجھایا۔ دونوں بچوں نے سر پر ہاتھ مارا اور ہنسنے لگے تھے۔ماڑو چائیے۔ تم کو ماڑو”لو جی یہاں آڑو کو ماڑو بولا جاتا تھا۔ ہم بھی ان کے ساتھ ہنسنے لگے تھے کچھ پل بعد دونوں بچے باغ میں ہی کہیں غروب ہو گئے تھے۔کافی دیر گزر گئی اور بچے پلٹ کر نا آئے ہمارے رفقا اس بات پے مذاق اڑاتے رہے کہ بچے اب شاید ہی پلٹ کر آئیں مگر کچھ ہی دیر بعد دونوں بچے ڈھیر سارے آڑو اٹھا کر لے آئے۔
اور باتیں کرنے والے اپنا سا منہ لے کر رہ گئے تھے۔ہم نے دونوں بچوں کو انعام کے طور پر پچاس پچاس روپے دئیے پھر تو ان کو ہم سے شدید ہی الفت ہو گئی وہ ایک مرتبہ پھر باغ میں غروب ہوئے اور کافی سارے اور آڑو لے کر طلوع ہوئے۔ یہ ہی نہی ہمیں ایک عدد دوکان سے شاپر بھی لا کر دیا اور جب تک گاڑی چلی نہیں وہ تب تک وہیں کھڑے رہے۔ اس محبت، لگاؤ یا انسیت کے لئے ہمارے پاس الفاظ نہیں جو بیان کر سکیں۔اب ہمارا سفر مالم جبہ کی طرف تھا اور ہم چاہتے تھے رات سے پہلے پہلے مالم جبہ تک پہنچ سکیں۔سطح سمندر سے ۸۷۰۰ فٹ کی بلندی پر واقع مالم جبہ Ski کرنے کا اہم تفریحی مقام ہے۔یہ قراقرم پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع ہے۔ یہ قدیم تہذیبوں کا مرکز بھی رہا ہے۔یہاں سے گندھارا تہذیب کے بھی آثار ملتے ہیں۔سوات کے مختلف علاقوں میں سو سے زیادہ آثارِ قدیمہ دریافت کئے گئے ہیں۔ان میں بری کوٹ،بٹکڑ، ڈیگرام، نجی گرام وغیرہ شامل ہیں۔مشہور گمبت سٹوپا بری کوٹ سے جنوب کی طرف وادی کنڈاک سے دریافت کیا گیا ہے۔ سٹوپا کے چاروں طرف ایک تنگ سا راستہ ہے۔ جو عبادت کے دوران طواف کے لئے بنایا گیا تھا۔چکدرہ لوئر دیر کے داخلی راستے پر واقع ایک قصبہ ہے۔یہ گند ھارا بدھ مت اور ہندو شاہی تہذیبوں کا مرکز بھی رہا ہے۔چکدرہ فورٹ کے قریب ایک پہاڑ پر چرچل پوسٹ برطانوی وزیر اعظم چرچل کا مسکن رہی ہے۔سیدو شریف سے تیرہ کلو میٹر کے فاصلے پر ایلم پہاڑی کے نیچے واقع مرغزار ایک قصبہ ہے۔اس قصبے کی شان و شوکت سنگِ مر مر سے بنا ایک محل ہے جسے اب ایک شاندار ہوٹل میں بدل دیا گیا ہے۔مالم جبہ کا موسم انتہائی دلکش ہے۔ یہ تفریحی مقام ٹریکنگ کے لئے بھی مشہور ہے۔یہاں جدید ہوٹل ہیں۔سکی کرنے کے لئے پلیٹ فارم ہے۔سکیٹنگ کے لئے برفانی تختے ہیں۔چیئر لفٹ ہے۔سوات کی معدنیات پوری دنیا میں مشہور ہیں۔یہاں سے نکلنے والے زمرد کو پوری دنیا میں سب سے قیمتی پتھر سمجھا جاتا ہے جس کی کانیں مینگورہ کے قریب ہیں۔مالم جبہ جاتے ہوئے ہم راستہ بھٹک گئے تھے۔ ایک کچے اور انتہائی پُر خطر رستے پے ہماری گاڑی ایک انچ کے فاصلے پے کھائی میں گرنے کو تیار تھی۔ ٹائر پھنس چکے تھے۔ بارش نے کچے راستے کو تباہ کر دیا تھا۔ہم سب گاڑی سے اتر گئے تو ڈرائیور چیخ پڑا۔“ آپ لوگ گاڑی میں بیٹھیں ورنہ گاڑی الٹ جائے گی۔ چاروں نا چار کچھ ساتھی گاڑی کے اندر بیٹھے اور کچھ ساتھیوں نے دھکا لگا کر گاڑی کو کیچڑ کی دلدل سے باہر نکالا تھا۔ یہ دوسری مرتبہ ہماری گاڑی کھائی میں گرتے گرتے بچی تھی۔ایک دفع کالام سے واپسی پر جب باہر کھڑے لوگ بھی حواس باختہ ہو چکے تھے اور ہمارے چند ساتھیوں نے کلمہ بھی پڑھ لیا تھا۔اور ایک مرتبہ مالم جبہ جاتے ہوئے جب ہم راستہ بھٹک چکے تھے۔یہ طویل کچا اونچا نیچا اور خوفناک راستہ تھامگر اردگرد اس قدر خوبصورتی تھی کہ انسان کچھ اور سوچنے کے قابل نہیں رہ سکتا تھا۔اب ہم ٹریکنگ کر رہے تھے اوراس پہاڑی رستے نے ہماری بریکیں فیل کر دی تھیں ہم چلتے تو تین تین میل بس نان اسٹاپ بھاگے چلے جاتے تھے اور رکنا ہمارے لئے مشکل ہو جاتا تھا۔یہ صورت حال عجیب اور مضحکہ خیز تھی۔ دائیں جانب کھائیاں بیچ میں کچا رستہ اور ہم نان اسٹاپ بھاگ رہے تھے۔ تھوڑا آگے جا کر سڑک ہموار ہوئی تو ہم نے آس پاس کی خوبصورتی کو محسوس کیا۔ یہاں عظیم پھل دار درختوں کی بہتات تھی۔خوبانی اور آلو بخارے کے درختوں پر پھل لٹک رہا تھا۔ہم نے خوبانی اتار کر کھائی تو یوں لگا جیسے فریج سے نکال کر کھائی ہے۔ ایک دم برفیلی اور ٹھنڈی۔اب ہماری نظروں کے سامنے حدِ نگاہ تک ایک سرسبز خطہ تھا۔کھیت کھلیانوں سے فرازِ کوہ تک ہریالی ہی ہریالی تھی۔مختلف النوع پھل دار درختوں کی بہتات نے خطے کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رکھے تھے۔ دور اونچے پہاڑوں پر بستیوں کی
15
بستیاں آباد تھیں۔ حُسن و فطرت کے موتی اور کلیاں اس وادی کے طول و عرض میں ہر سمت بکھری پڑی تھیں۔ یہ خطہ موتیوں سے زیادہ حسین اور کلیوں سے زیادہ دلفریبہے۔ ہم سوچ رہے تھے چار ہزار سال پہلے جب قوم آریا سوات کے مختلف خطوں میں آباد ہوئی تو وہ یہاں کی آب و ہوا پھلوں کی بہتات اور آبشاروں کے پانی دیکھ کر کہیں اور جانے سے انکاری ہو گئے ہوں گے۔ وہ اپنے تئیں بہشت میں پہنچ چکے تھے انہیں یہاں سے نقل مکانی کی کیا ضرورت تھی۔ہم نے اس رستے سے گزرنے والی ہر گاڑی اور ہر ٹرک کو ہاتھ کھڑا کر کے روکا اور پوچھا کہ اس خوفناک رستے پے آنے والے ہم ہی پاگل ہیں یا اور لوگ بھی یہاں اس طرف آتے ہیں۔وہاں پر تقریبا ہر شخص نے ہماری تسلی کروائی تھی۔ بکریاں چرانے والے چرواہے سے لے کر چھوٹی سی ٹک شاپ کے مالک بزرگ تک۔ سب نے کہا یہاں اور بھی سرپھرے آتے ہیں۔ مشکل نہیں ہے اب آگے سفر آسان ہو گا۔اور پھر واقعی ہی آگے سفر آسان ہو گیا تھا۔ہم جلد ہی اپنے ہوٹل مرینہ پہنچ چکے تھے۔ گو کہ مرینہ تک پہنچنے میں بھی ایک کہانی پوشیدہ ہے مگر ہم یہاں اس کا ذکر مختصر کر دیتے ہیں۔ ایک پٹھان بھائی سے ہم نے ہوٹل مرینہ کی لوکیشن پوچھی۔ پٹھان بھائی تو ہتھے سے اکھڑ گیا۔ بولے“ماڑا مرینہ نہیں بولو پینگ گیسٹ بولو پینگ گیسٹ“ ہم کہیں ہمیں مرینہ جانا ہے پر پٹھان بھائی تو غصے میں آگیا تھا۔کہنے لگا“ہم تمہارے ساتھ چلتا ہے ہمارے پیچھے پیچھے آجاؤ مگر اب مرینہ نہیں بولنا پینگ گیسٹ بولنا ھے۔“ نجانے مرینہ نام سے پٹھان بھائی کی کیسی رقابت تھی یا مرینہ نامی خاتون سے ان کی کوئی دشمنی چل رہی تھی بحرحال ہم مرینہ ریسٹ ہاؤس پہنچ ہی گئے تھے۔تھوڑی دیر فریش ہونے کے بعد ہم نے پھر سے آگے جانے کا فیصلہ کیا اور مالم جبہ ٹاپ کی طرف چل دئیے۔
کہنے کو بس یہ منظر ہی ھیں مگر ان کی فسوں کاری کا کوئی انت نہیں ہے۔موسموں کے تغیرو تبدل میں یہی منظر سو روپ بدل کر آتے ہیں کبھی بادل کبھی بارش۔ کبھی دھوپ کبھی چھاؤں۔
ہم ان مناظر کی دید سے سیر ہو ہی نہیں پاتے۔ یوں لگتا ہے یہ حسینہ فطرت ایک شوقِ خود نمائی میں روز ایک نیا سنگھار کر کے ہمارے چاروں طرف جلوہ آرا ہوتی ہے۔ تا کہ ہمارا دل ہمیشہ اس کے دامِ حسن کا اسیر رہے۔اور ہم اس کے سحر سے نکلنے نا پائیں۔ اس وقت رات کا سمے تھا۔ دور اونچی ایک پہاڑی چوٹی پر ایک روشنی آکاش کے تارے کی طرح دکھائی دیتی تھی۔ اتنی بلندی پر اتنی تنہائی میں جلنے والی اس روشنی کے اسرار نے ہمیں بھی متجسس کر دیا تھا۔ پہاڑی کی ڈھلوانوں پر ہر وقت بادلوں کا سایہ رہتا تھا۔لیکن ان کے درمیان میں ایک ٹکڑا جہاں چند ایک کھلونا نما کاٹیج تھے۔چاند کی تیز شعاعوں میں بلور کی طرح روشن تھا۔یوں لگتا تھا جیسے آسمانوں پر بیٹھا کوئی عظیم ہدایت کار پہاڑی کے سٹیج کی اس جانب سپاٹ لائٹ پھینک رہا ہو۔ یہ ایک ایسا منظر تھا جس نے ہمیں مبہوت کر دیا تھا۔ ہم اس کے سامنے ایسے کھڑے تھے جیسے کوئی پتھر کی بے جان مورت ہو۔ پھر رفتہ رفتہ وہ روشن دائرہ مدھم ہونے لگا اور بلآ خر اسے چاروں طرف سے بڑھتے ہوئے سائے نے نگل لیا تھا۔ہماری ٹیم رات کے کھانے کو ڈسکس کر رہی تھی طے یہ پایا کھانا احسن بنائے گا اور کھانا مرینہ میں ہی کھائیں گے سو احسن کے ساتھ چند ایک لوگ کچن میں چلے گئے اور ہم مالم جبہ ٹاپ کے ٹیرس پے کھڑے ایک مرتبہ پھر فطرت کے حسن کو قلب کی آنکھ سے محسوس کرنے لگے۔یہ جگہ نہائت پُر سکون تھی۔تہذیب کی گہما گہمی (موٹروں، ٹورسٹوں، ریستورانوں) سے الگ تھلگ تھی۔ سوائے دور آبادی اور پہاڑوں پے روشن بلبوں کے ہر طرف ہو کا عالم تھا۔اس لحاظ سے یہ جگہ کامل ترین خاموشی کا احساس بخشتی تھی۔دور بہت دور ہمیں سفید Lilac کے پھولوں کا احساس ہو رہا تھا۔ پھول ہمارا عشق اور ہماری کمزوری ہیں۔ پھولوں کی کوئی بھی قسم ہو ہماری حسِ شامہ سے بچ نہیں سکتی۔یہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں انسان اکمل تنہائی کا مزہ اٹھا سکتا تھا۔پہاڑوں کے قدموں کے نیچے بھی پہاڑ تھے۔
ہمیں وہ بزرگ یاد آ رہے تھے جو مرینہ کے سامنے آلو والے چاول کی پرات لے کر کھڑے تھے اور ہم نے چکھنے چکھنے کے چکر میں ان کے کتنے ہی چاول کھا دئیے تھے اور وہ بزرگ سوائے مسکرانے کے کچھ نہیں کہ سکے۔اس رات کھانا بہت دیر سے کھایا گیا تھا اور ہماری ضوئی کھانا کھائے بغیر سو گئی تھی اس لئے ہمیں اپنی طبیعت مضمحل لگ رہی تھی۔ اگلی صبح ہمارا قافلہ روانگی کے لئے تیار تھا۔ایک طویل سفر کے بعد ہمارا پہلا پڑاؤ ریور پرل ریسٹ ہاؤس میں تھا یہ بہت خوبصورت لوکیشن پے دریائے سوات کے پہلو میں واقع ہے۔ یہاں ہم نے ناشتہ کرنے کے ساتھ ایک مزیدار مشاعرہ بھی کیا تھا۔ اور لاہور سے آنے والی چند فیملیز سے ملاقات بھی ہوئی۔ انہیں کسی نے بتا دیا ہم نایاب جیلانی ہیں اور پھر ایک جم غفیر ہمارے اردگرد تھا۔ہمارے پاس وقت کی قلت تھی اور وہ لوگ اپنی الفت میں ہمیں جانے نہیں دے رہے تھے۔ چند فرمائشی تصویروں کے بعد ہم نے اجازت چاہی تھی۔ اور ایک مرتبہ پھر ہمارا قافلہ رواں دواں تھا۔سوات کی طرف جانے والی ایک سڑک سے ایک راستہ اسلام پور گاؤں کی طرف جاتا ہے۔اسلام پور اور اس سے ملحقہ علاقے صحت بخش جڑی بوٹیوں اور جنگلی حیات کی وجہ سے مشہور ہیں۔کالام کی طرف سفر کرتے اکثر سیاح فیضا گھٹ قیام
کرتے ہیں۔فیضا گھٹ ہمارے سامنے تھامگر ہم نے فیضا گھٹ سے نگاہ چرا رکھی تھی۔ہم نے چلتے ہوئے آخری بار سامنے پہاڑی ولاّ پر نظر ڈالی جو سورج کی ترچھیشعاعوں میں سبز مخمل کے گریباں پر ٹنکے ہوئے ایک ہیرے کی طرح جگمگا رہا تھا۔ہمیں پہاڑوں کے چھوڑنے کا غم بھی ہے۔ لیکن ان پہاڑوں کے حُسن نکہت میں سے اتنا کچھ اپنے اندر جذب کر لیا ہے کہ زادِ راہ کے لئے بہت کافی ہو گا۔ دریائے سوات ہم سے بچھڑ گیا ہے۔ اور پہاڑ ہم سے دور رہ چکے ہیں۔
اور ہمیں ایک ایسی جگہ ملی ہے جو خدا کی زمین کی خوبصورت ترین وادیوں میں سے ہے۔ اور اس کے نشیب میں سوات نامی حساس دریا ایک“ سوگوار انبساط”کے ساتھ بہتا ہے۔اور اس کے کناروں پر گنبدوں والے مسجدوں کے مینار نظر آتے ہیں۔ اور جس کے اونچے پہاڑوں پر شہر آباد ہیں۔ جس کے عقب میں کچھ بلندی پر حوادث کا شکار ایک لٹا پٹا موسم زدہ قلعہ اپنے اندر صدیوں کی تاریخ سمیٹے کھڑا ہے۔اور یہ“ وادی سوات“ ہے اور بہت حسین ہے۔
تحریر.نایاب جیلانی

2,042 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *