شاعری

غزل

زِندہ دلِی سے جی ذرا پیدا تُو اپنا نام کر دُنیا بھی اُٹھ کے داد دے ایسا کوئی تو کام کر روشن کرے گا نام تُو آبا کی کر کے پیروی نیکی کا بن پیغامبر بندش بدی کی عام کر میراث اپنی چھوڑ کر جو ہو گئے ہیں سب تباہ بھٹکے ہوؤں کو رہ دکھا ۔۔۔

کبھی سوچتی ہوں

کبھی سوچتی ہوں ذندگی نے کیا دیا مھجے ۔ کہ جو ذندگی تھا وہ ہی رلا گیا مجھے۔ کبھی سوچتی ہوں ملا جو رنجھ صحیح ملا مجھے۔ کہ جو رنجھ تھا وہ ہی اداب ذندگی سیکھا گیا مجھے۔ کبھی سوچتی ہوں کہ ذندگی نے دغا دیا مجھے۔ کہ دغا کے داغ نے اندر سے ہلا ۔۔۔

محبت ناکام بھی ہو

محبت ناکام بھی ہو ٫ پھر بھی اپنی ہی رہتی ہے کر کے روشن یہ تصوراتی دنیا٫ یہ خود وہاں کب رہتی ہے بناتی ہے کہکشاں٫ سجاتی ہے پھولوں سے رستہ ہر سو٫ جلا کردیے یہ روشنی کے٫ یہ سالوں انکے انتظار میں بیٹھی رہتی ہے وفا در وفا یہ بے وفائی کے بعد بھی٫ ۔۔۔

جوان موت

سب نے اپنی مصلحت کے تحت فیصلہ کیا۔۔۔ پھر اس کی موت پہ سب سر پکڑ کے بیٹھ گئے۔۔ دور ہو چکی تھی وہ سب سے۔ سب اسکی ایک نظر کو ترس رہے تھے۔ کہی سے آجائے اور ہم ۔ بدل لیں اپنا فیصلہ سب ۔ ہہی سوچ رہے تھے۔ وہ بہت روئی تھی اس ۔۔۔

نعتیہ کلام

میں ہاں اوگن ہار وے سائیاں اپنے تے شرم سار وے سائیاں نیک عمل کی پیش کراں میرے سر گناہ دے بھار وے سائیاں لاج رکھیں میری سب اگے میں ہاں عرض گزار وے سائیاں در در تے جھکی منگدی بھیک نہ جھکی تیرے دربار وے سائیاں لنگھائی عمر تیری میری وچ نفس نوں توں ۔۔۔

پاگل لڑکی

بات ادھوری کرتی ہو پھر بھی شکوے ہزار کرتی ہو چاند سے کتنا دور رہتی ہو پھر بھی پاس رہتی ہو چپ چاپ  سب سہتی ہو پھر بھی ہستی مسکراتی رہتی ہو زبان پہ لاکھ قفل سجائے رکھتی ہو پھر بھی سب کہہ دیتی ہو محبت اچھی کرتی ہو پھر بھی چھپائے رکھتی ہو پر کٹے رکھتی ہو پھر بھی اڑان ۔۔۔
@