شاعری

میرے شہر میں

ہو اگر دیکھنا تماشہِ عشق تو چلے آنا میرے شہر میں ہو اگر دیکھنا کا بے مول ہونا تو چلے آنا میرے شہر میں ہوُاگر دیکھنا حْواہشوں کا قبر ستان تو چلے آنا میرے شہر میں ہو اگر دیکھناُبہار میں حْزاں تو چلے آنا میرے۔ شہر میں ہو اگر دیکھنا مرجھاتا ہو گلاب تو چلے ۔۔۔

*میرا دل*

اس منافقت کے دور میں٫ میں ڈھونڈتا رہا رفاقتیں٫ جو نہ پا سکا وفا کبھی٫ وہی میرا دل بنجارا تھا٫ میں پہنچا ساحل تک٫ اپنی دھن میں گاتا ہوا٫ ان لہروں کی روانی میں٫ جھومتا مسکراتا ہوا٫ جو پہنچان نہ سکا دھوکا کبھی٫ وہی میرا دل بیچارا تھا٫ ھمیں نہ اپنی داستان سنائیے٫ ہمیں تو ۔۔۔

مرزا اسد اللہ غالب کا آج223واںیوم پیدائش منایا جارہا ہے

لاہور (اپووا نیوز)اردو کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب کاآج223واںیوم پیدائش منایا جارہا ہے 11 سال کی عمر میں پہلا شعر کہنے والے اسد اللہ کو شاید خود بھی علم نہیں تھا کہ ان کی شاعری اردو زبان کو رہتی دنیا تک روشن کرتی رہے گی مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ ۔۔۔

غزل

زِندہ دلِی سے جی ذرا پیدا تُو اپنا نام کر دُنیا بھی اُٹھ کے داد دے ایسا کوئی تو کام کر روشن کرے گا نام تُو آبا کی کر کے پیروی نیکی کا بن پیغامبر بندش بدی کی عام کر میراث اپنی چھوڑ کر جو ہو گئے ہیں سب تباہ بھٹکے ہوؤں کو رہ دکھا ۔۔۔

کبھی سوچتی ہوں

کبھی سوچتی ہوں ذندگی نے کیا دیا مھجے ۔ کہ جو ذندگی تھا وہ ہی رلا گیا مجھے۔ کبھی سوچتی ہوں ملا جو رنجھ صحیح ملا مجھے۔ کہ جو رنجھ تھا وہ ہی اداب ذندگی سیکھا گیا مجھے۔ کبھی سوچتی ہوں کہ ذندگی نے دغا دیا مجھے۔ کہ دغا کے داغ نے اندر سے ہلا ۔۔۔

محبت ناکام بھی ہو

محبت ناکام بھی ہو ٫ پھر بھی اپنی ہی رہتی ہے کر کے روشن یہ تصوراتی دنیا٫ یہ خود وہاں کب رہتی ہے بناتی ہے کہکشاں٫ سجاتی ہے پھولوں سے رستہ ہر سو٫ جلا کردیے یہ روشنی کے٫ یہ سالوں انکے انتظار میں بیٹھی رہتی ہے وفا در وفا یہ بے وفائی کے بعد بھی٫ ۔۔۔

جوان موت

سب نے اپنی مصلحت کے تحت فیصلہ کیا۔۔۔ پھر اس کی موت پہ سب سر پکڑ کے بیٹھ گئے۔۔ دور ہو چکی تھی وہ سب سے۔ سب اسکی ایک نظر کو ترس رہے تھے۔ کہی سے آجائے اور ہم ۔ بدل لیں اپنا فیصلہ سب ۔ ہہی سوچ رہے تھے۔ وہ بہت روئی تھی اس ۔۔۔

نعتیہ کلام

میں ہاں اوگن ہار وے سائیاں اپنے تے شرم سار وے سائیاں نیک عمل کی پیش کراں میرے سر گناہ دے بھار وے سائیاں لاج رکھیں میری سب اگے میں ہاں عرض گزار وے سائیاں در در تے جھکی منگدی بھیک نہ جھکی تیرے دربار وے سائیاں لنگھائی عمر تیری میری وچ نفس نوں توں ۔۔۔

پاگل لڑکی

بات ادھوری کرتی ہو پھر بھی شکوے ہزار کرتی ہو چاند سے کتنا دور رہتی ہو پھر بھی پاس رہتی ہو چپ چاپ  سب سہتی ہو پھر بھی ہستی مسکراتی رہتی ہو زبان پہ لاکھ قفل سجائے رکھتی ہو پھر بھی سب کہہ دیتی ہو محبت اچھی کرتی ہو پھر بھی چھپائے رکھتی ہو پر کٹے رکھتی ہو پھر بھی اڑان ۔۔۔
@